10 ستمبر 2012 - 19:30

بلاد الحرمین پر مسلط آل سعود اور قطر پر مسلط آل ثانی خاندان علاقے میں کردار ادا کرنے کے لئے یکسان انداز سے مسابقت کا حصہ بنے ہوئے ہیں اور ان کے مقاصد کافی حد تک مشترک نظر آرہے ہیں لیکن ان کے بہت سے مسائل پر اختلافات بھی ہیں۔

بہت سے حلقوں کا خیال ہے کہ "عالم اسلام کے ڈھانچے میں تبدیلی" کی تحریک کو مالی امداد فراہم کرنے میں خلیج فارس کی ساحلی ریاستوں کے بادشاہی نظام بالخصوص سعودی ـ اور قطری حکمران، بنیادی کردار ادا کررہے ہیں۔ یہ دو ملک ایران مخالف اتحاد میں بھی اہم ترین سمجھے جاتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اور چونکہ ان کا سیاسی جغرافیہ بالکل مختلف ہے چنانچہ ان کی رویے بھی بالکل مختلف ہیں۔ سعودی عرب قدامت پسند (Conservative)  ہے اور قطر انتہا پسند ہے اور ان کے درمیان براہ راست کشمکش موجود ہے چنانچہ کلی طور پر ان کی حکمت عملیوں میں دو روشیں دیکھی جاسکتی ہیں۔وضاحت یوں کہ: عالم اسلام کی قیادت کے لئے آل سعود کی روایتی کوشش سب کے نزدیک جانی پہچانی ہے لیکن قطر کی روش ـ جو اسی منصب کے حصول کے لئے کوشاں ہے ـ بہت سوں کے لئے انجانی ہے۔ یہ چھوٹا مگر بوالہوس اور طاقت و شہرت کا شیدائی ملک، عالم اسلام اور عالم عرب میں پیشرو اور ممتاز کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے اور آل ثانی خاندان اپنے آپ کو عرب دنیا کی قیادت کا زیادہ اہل سمجھتا ہے۔آل سعود اس قطری روش سے خوش نہیں ہے جس کی مثال آل سعود کے اعلی انٹیلجنس اہلکار ترکی الفیصل کا کلام ہے جنہوں نے کہا ہے کہ "آل ثانی کے امیر "حمد بن خلیفہ" نے اپنے والد کے خلاف بغاوت کرکے حکومت پر قبضہ کیا ہے اور امریکی دنیائے عرب اور دنیائے اسلام کی قیادت کے لئے متبادل تلاش کررہے ہیں"۔ان دو گروپوں کے درمیان شہرت پسندی اور طاقت پسندی کے حوالے سے جو اہم اور اعلانیہ مسئلہ پایا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ قطر نے بعض ملکوں میں اٹھتی ہوئی تحریکوں کی وسیع امداد کی ہے تا کہ اس ان تحریکوں کو اپنے مفاد میں آگے بڑھائے اور یہ بات آل سعود کی تشویش کا سبب بنی ہے اور آج وہ عوامی انقلابات کے حوالے سے شدید فکرمند ہے۔سعودی عرب میں عوامی احتجاجی تحریک کا دائرہ وسیع تر ہورہا ہے جہاں مشرقی علاقوں کے شیعہ ـ جو ملک کی 20 فیصد آبادی کو تشکیل دیتے ہیں ـ احتجاجی تحریک چلا رہے ہیں۔ ان لوگوں کی آبادی اتنی زیادہ نہیں ہے لیکن مشرقی علاقے میں ان کی اکثریت ہے اور سعودی عرب کے تیل کے ذخائر ان ہی علاقوں میں واقع ہوئے ہیں دوسری طرف سے شیعہ ہی سعودی عرب کی اقلیت نہیں سمجھتے جاتے بلکہ اس ملک میں دوسری اقلیتیں بھی پائی جاتی ہیں اور مغربی علاقوں نیز حجاز میں صوفی مکتب کے پیروکاروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جبکہ وہابی مکتب کے نزدیک تصوف بدعت ہے۔ اس ملک میں لاکھوں کی تعداد میں بیرونی مہاجرین بھی موجود ہیں اور ظاہر ہے کہ خلیجی ریاستوں میں یہ مہاجرین تمام شہری حقوق سے محروم ہیں۔ بیرونی مہاجرین  کی تعداد سعودی عرب میں ایک چوتھائی آبادی کو تشکیل دے رہے ہیں۔ اقلیتوں کے علاوہ، مقامی آبادی میں بھی ناراضگی کی لہر دوڑ چکی ہے اور ان کے پاس اس ناراضگی کی دلیلیں بھی موجود ہیں۔ یہ مسئلہ 1970 میں تیل بحران کے موقع سے شروع ہوا ہے۔ سعودی، اس سے قبل "تیل کی جنت" میں زندگی بسر کررہے تھے اور اس زمانے میں سعودی عرب کے عوام کو ملنے والی تنخواہیں امریکیوں کی آمدنی کے برابر تھیں؛ رہائش مفت تھی، تعلیم اور صحت کی سہولیات مفت تھیں اور حکومت عوام کی سخاوتمندانہ مدد کیا کرتی تھی لیکن چار عشروں میں سعودی عرب کی آبادی چار گنا ہوگئی ہے جس کی وجہ سے غربت نے بلاد الحرمین کا گھر دیکھ لیا اور حال حاضر میں اس ملک کے عوام کو تعلیم اور صحت کے مراکز کی کمی کا سامنا ہے۔ عوام کی معیشت قرضوں پر چل رہی ہے اور ان قرضوں کی سطح سعودی عرب کی (91 فیصد مجموعی ملکی مصنوعات) یعنی 180 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے جس کی وجہ سے سعودی حکومت نے نجکاری کا منصوبہ بنایا ہے اور یہ سرکاری منصوبہ تعلیم، بجلی اور صحت و حفظان صحت پر مشتمل ہوگا۔ یہ منصوبہ ملک میں مفت سماجی خدمات کو ختم کردے گا۔ اسی اثناء میں سعودی عرب میں بےروزگاری کی سطح میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ علاوہ ازیں، آل سعود خاندان ملک کے ممتاز گروپوں (Elite Groups) کے درمیان توازن قائم کرنا کے درپے ہے جس کی وجہ سے سعودی نظام حکومت کے سرکاری اداروں اور فکری طور پر ممتاز افراد اور دانشوروں کی اکثریت حجاز کے مختلف علاقوں میں ہے جس پر آل سعود نے بیسویں صدی میں پر تسلط جمایا تھا اور آل سعود کو معلوم ہے کہ اس خاندان کی حاکمیت کے مخالفین میں زیادہ تعداد ان ہی دانشوروں کی ہے۔ اکیسویں صدی شروع ہونے پر سعودی عرب میں آزادی کی ضرورت کے بارے میں مسلسل باتیں ہوئی ہیں لیکن وہابی گروپ درحقیقت حکمران خاندان کا حامی ہے اور یہ گروپ ملک میں کافی با اثر ہے اور وہابی شدید قسم کے قدامت پسند گروپوں میں شامل ہیں۔ ادھر شدید قسم کے قدامت پسند گروپوں سے وابستہ لوگ جو ان مفکرین سے وابستہ نہیں ہیں، آل سعود کے لئے خطرہ سمجھے جاتے ہیں اور وہ اس خاندان پر امریکہ کے ساتھ تعاون کا الزام لگاتے ہیں۔اس صورت حال کے نتیجے میں سعودی عرب شمالی علاقوں اور حجاز میں عوام کی مخالفتوں کا سامنا ہے۔ اور اسے اندرونی خطرات اور چیلنجوں کے علاوہ، انقلابات سے اٹھے ہوئے بیرونی خطرے کا بھی سامنا ہے اور یمن کی جھڑپیں سنہ 2009 میں یمن کے زیدی شیعوں اور آل سعود کے درمیان براہ راست جنگ میں تبدیل ہوئیں جو 2010 کی ابتداء تک جاری رہیں اور جب زیدیوں نے جنگ بندی کا یکطرفہ اعلان کیا تو آل سعود کی شکست خوردہ حکومت اور فوج نے "جشن نجات" منایا، گوکہ آج بھی ـ یمن مین آل سعود کی اعلانیہ مداخلت کی وجہ سے یمن کی موجودہ صورت حال میں یمنی عوام آل سعود کے خونی دشمنوں میں تبدیل ہوچکے ہیں جبکہ دوسری طرف سے شیعیان بحرین نے بھی ایک انتھک تحریک گذشتہ ڈیڑھ سال سے جاری رکھی ہوئی ہے جو آل سعود کو درپیش بیرونی خطرات میں شمار ہوتی ہے۔ یوں یمن کے ساتھ بحرین بھی آل سعود کی سرحدوں کو چیلنج کررہا ہے جبکہ سعودی عرب کا تیل مشرق میں شیعہ اکثریتی علاقوں سے نکل کر شیعہ ریاست بحرین کے راستے سے گذر کر بیرونی دنیا کو برآمد ہوتا ہے اور بحرین میں اقلیتی حکمرانی کے خلاف اکثریت کی تحریک جاری و ساری ہے۔ نتیجہ یہ کہ سعودی عرب کی حکومت کو انقلاب کے گولے کے ٹکڑوں کا سامنا ہے اور سعودی حکام بھی اس حقیقت سے واقف ہیں اور ہم نے دیکھا کہ آل سعود نے ـ اپنے وہابی مفتیوں کے فتووں کی مخالفت کرکے ـ لیبیا کے قذافی کے خلاف کردار ادا کیا اور شام میں بھی اسرائیل مخالف مزاحمت محاذ کو توڑنے کی کوششوں میں مصروف ہے گوکہ لیبیا کے حکمران کے ساتھ آل سعود کی دشمنی پرانی تھی اور شام کو آل سعود کے ہاں دوسرے درجے کی اہمیت حاصل ہے۔ ادھر قطر کو اندرونی انقلاب کے حوالے سے کم ہی خطرات کا سامنا ہے اور بظاہر کوئی بیرونی خطرہ بھی اس کو درپیش نہيں ہے۔ اس ملک کی آبادی کا دسواں حصہ اہل تشیع سے تعلق رکھتا ہے۔ اس ملک میں بیرونی مزدوروں کی تعداد بھی کافی زیادہ ہے تاہم عرب ممالک میں قطر سب سے زیادہ دولت رکھتا ہے اور اس کی معیشت روز بروز ترقی کے مراحل طے کررہی ہے اور دوسری طرف سے اس کا واحد زمینی ہمسایہ، سعودی عرب ہے اور بحرین بھی سمندر میں اس کے قریب واقع ہوا ہے لیکن بحرین کا انقلاب ایک لحاظ سے قطر کے لئے مفید ہے کیونکہ اس انقلاب کے نتیجے میں آل خلیفہ خاندان کے زوال کی نشانیاں واضح ہوچکی ہیں اور آل خلیفہ خاندان آل ثانی خاندان کا دشمن سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ دو ریاستیں 1986 میں لڑ بھی چکی ہیں۔ اسی بنا پر، قطر، سعودی عرب کے برعکس، انقلاب کے ممکنہ گولے کے ٹکڑوں سے محفوظ ہو کر اپنے اہداف کے حصول کے لئے کوشاں ہے۔ سعودی عرب اور قطر نے لیبیا میں قریبی تعاون کیا اور ان دونوں نے شام کے خلاف مشترکہ محاذ تشکیل دیا ہے لیکن موقف کے اشتراک کے باوجود ان دو ملکوں کے درمیان بعض دوطرفہ مسائل میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ ایک تزویری نقطۂ نظر سے قطر والے "ہرممکن قیمت پر" بحران پیدا کرنے کے لئے تیار ہیں اور حکمران خاندان عرب اور اسلامی دنیا کی تشکیل نو کے ذریعے، دنیائے اسلام کی قیادت کے حصول کے سلسلے میں اپنے اہداف کی کے لئے کوشاں ہے۔ جبکہ دوسری طرف سے ریاض بحرانی صورت حال کو اپنے مفاد کے میں نہیں سمجھتا۔ عظیم تر مشرق وسطی کے امریکی منصوبے کی شکست اور مصر میں انقلاب کا ظہور اس بات کا بڑا ثبوت ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سعودی عرب اور قطر کے درمیان طریقہ کار اور روشوں کے اختلاف سے تزویری اور اسٹراٹیجک اختلاف نمودار چکا ہے۔آل سعود کے حکمران، انتہا پسند سلفیوں کی حمایت کرتے ہیں لیکن ان کے مفادات مصر کے اسلامی ہونے سے سازگار نہيں ہیں۔ مصر کے سیکولر حسنی مبارک فکری اور اعتقادی لحاظ سے سعودیوں کے قریب نہ تھے لیکن سعودیوں کے خیال میں "قابل برداشت" تھے کیونکہ وہ ایران کے خلاف اعلانیہ عداوت پر مبنی پالیسی پر کاربند تھے اور دوسری طرف سے "حسنی مبارک اسرائیل کے قریبی اتحادی" تھے اور یہ دو وجوہات سعودی عرب کو مصر کی قربت سے بہرہ مند کررہی تھیں کیونکہ آل سعود کی حکومت کو فلسطین کی فکر نہیں ہے بلکہ وہ ایران کی بڑھتی ہوئی طاقت سے خائف ہے۔ اور پھر حسنی مبارک نے "رضاکارانہ طور پر"، "غزہ پٹی" کا محاصرہ کرلیا جو "آل سعود کے  لئے خوش آیند" تھا کیونکہ آل سعود کے خیال میں مصر نے غزہ کی پٹی میں ایران کے حمایت یافتہ حماس مجاہدین کا محاصرہ کرلیا تھا۔ یاد رہے کہ فلسطین میں اسلام پسند حماس کو ـ جو یہودی ریاست کے خلاف حالت جہاد میں ہے ـ کو ایران کی حمایت حاصل ہے تو سیکولر فتح تحریک ـ جو اسرائیل کے بھی قریب ہے ـ کو آل سعود کی قریبی حمایت حاصل ہے اورحماس اور فتح تحریک ایک دوسرے کے حریف ہیں۔ ایک نکتہ یہ ہے کہ حسنی مبارک کی حکومت نہر سوئز کی حفاظت کررہے تھے اور سعودیوں کے تیل کا ایک بڑا حصہ اسی  نہر سے گذر کر یورپ پہنچتا ہے۔ ان حالات میں، انقلاب مصر ظہور پذير ہوا جو علاقے میں بعض بےسکونیوں کا سبب ہوا اور نہر سوئز کے اطراف میں بھی بعض خطرات پیدا ہوئے۔ ادھر مصر نے غزہ کا محاصرہ اٹھا لیا ہے اور اب یہ امکان پایا جاتا ہے کہ مصر ایران مخالف طاقت کی حیثیت سے اپنا پرانا کردار ترک کردے اور کم از کم ایران کے دشمن کی حیثیت سے کردار ادا کرنا ترک کردے جس کے اشارے مل چکے ہیں اور مصری صدر ایران کا دورہ کرچکے ہیں۔مصریوں کی لغت میں "اسلامی ہونے" کا مفہوم یہ ہے کہ اخوان المسلمین برسر اقتدار آئے جو اعتقادی لحاظ سے سلفیوں کے قریب ہیں لیکن اخوان المسلمین کے ساتھ سعودیوں کے تعلقات اچھے نہيں ہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایک طرف سے اخوان المسلمین کا برسراقتدار آنا ریاض کے خیال میں "ایک غیر دوست تحریک" کی طرف سے "مشکوک تحفہ" ہے جو طاقتور ترین عرب ملک اور نہر سوئز پر مسلط ہے۔ دوسری طرف سے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مصر میں سعودیوں کا، ایران دشمن، حلیف نظام حکومت ختم ہوچکا خواہ اخوان المسلمین کا ایران کے ساتھ رابطہ مطلوبہ حد تک بہتر نہ بھی ہو لیکن اب مصر اور ایران ایک دوسرے کے "دشمن نہيں" نہیں ہیں۔اسی بنا پر ریاض نے مصر کے انقلاب اور میدان التحریر کے تاریخی دھرنے کے وقت حسنی مبارک کی حمایت کردی اور صرف اس وقت اپنے موقف میں یو ٹرن لی