ابنا: شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراه نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ موجودہ صورتحال کی ذمہ دار ریاست ہے،حکمران تو بے بس اور لاچار ہیں انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں قتل وغارتگری کی صورتحال یہی رہی تو عوام بغاوت پر اتر آئیں گے اور اس کی تمام تر ذمہ داری ریاست پر ہوگی ۔ انہوں نے انتہائی سخت انداز میں کہا کہ پاکستان کا مطلب تو لاالہ الا اللہ تھا لیکن یہاں کیا ہو رہا ہے کیا یہ مطلب تھاکہ پاکستان کی پوری قوم کو دیوار کے ساتھ لگایا جا رہا ہے - ملی یکجہتی کونسل کے سینئر نائب صدر نے کہا کہ پارلیمنٹ اسمبلیاں صرف ڈرامہ ہیں اور کچھ نہیں،انہیں اقتدار سے غرض ہے عوام سے انہیں کوئی سرو کار نہیں۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ پاکستان کے نام پر تنخواہیں وصول کرنے والے ہمارے مجرم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سول سوسائٹی اور دانشوروں سے اپیل کی ہے کہ مل بیٹھ کر ملکی مسائل کے حل اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لئے اقدامات اٹھائیں - شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراه نے کہا کہ حکمرانوں کی ناقص حکمت عملی کے باعث ملکی معیشت تباہ ہوکر رہ گئی ہے، عام آدمی عدم تحفظ کا شکار ہے ملک کی داخلی سلامتی تباہ ہو چکی ہے اب برداشت کی حد ہوگئی ہے،ہم اب بھی قانون اپنے ہاتھوں میں لینے کے بجائے پرامن احتجاج کاحق رکھتے ہیں اور احتجاج کرتے رہیں گے ملی یکجہتی کونسل کے سینئر نائب صدر نے کہا کہ ہماری تمنا ہے ایم ایم اے بحال ہو اس مقصدکے لئے مذاکرات جاری ہیں اور ہماری ترجیح ہے کہ ایم ایم اے بحال ہو،اگر وہ وجود میں نہ آئی تو نئی صف بندیاں ہونگی انہوں نے کہا کہ یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ آج تک ملک میں فیئر الیکشن نہیں ہوئے موجودہ الیکشن کمشنر پرہوں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں - انہوں نے کہا کہ آزاد و خود مختار الیکشن ہو،شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراه نے کہا کہ اگر قاضی حسین احمد کو بطور نگران وزیر اعظم نامزد کیا گیا تو ہماری جماعت ان کی حمایت کرے گی اس موقع پر انہوں نے سید نجم الحسن اور سیدکفایت حسین شاہ کی والدہ کی وفات پر ان سے اظہار تعزیت کیا اور ان کی مغفرت کے لئے دعا کی ۔...../169
9 ستمبر 2012 - 19:30
News ID: 346468
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراه اور ملی یکجہتی کونسل کے سینئر نائب صدر ق علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ صاحبان ریاست اورحکمرانوں کی نااہلیوں کی بدولت وطن عزیز میں صورتحال اس قدر سنگین ہوگئی ہے کہ کوئی کسی وقت بھی کسی کو بسوں سے اتار کر قتل عام کر رہا ہے اورحکمران بے بس و لاچار نظر آتے ہیں جبکہ ریاست کسی بات کا کوئی نوٹس نہیں لے رہی اب تک ہمارے ہزاروں ساتھیوں کو شناخت کر کے ان کا قتل عام کیا گیا لیکن حکمرانوں نے قاتلوں کی گرفتاری کے لئے کچھ کیا اور نہ ہی عوام کو اصل صورتحال اور حقائق سے آگاہ کیا جس سے شہریوں کی بے چینی میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے حکمران مصنوعی باتیں کر کے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں -