اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق چودہویں پیرالمپکس مقابلے لندن میں جاری ہیں جن میں اسلامی جمہوریہ ایران کا کاروان ورزش نویں نمبر پر ہے اور ایرانیوں نے اب تک سونے کے تمغے اور متعدد چاندی اور برونز کے تمغے جیتے ہیں۔ڈیسک تھروئنگ کا ایک چاندی کا تمغہ ایرانی ایتھلیٹ "مہرداد کرم زادہ" نے جیتا جبکہ تمغے برطانوی شہزادی اور شہزادہ ولیم کی بیوی کیٹ میڈلٹن نے جیتنے والوں کو دیئے اور معمول کے مطابق جیتنے والوں کے ساتھ ہاتھ بھی ملایا لیکن کرم زادہ نے ہاتھ ملانے سے اجتناب کیا اور کہا کہ میرا یہ اقدام میرے مذہبی اعتقادات کی علامت ہے کیونکہ میرے مذہب نے نامحرم عورت کے ساتھ مصافحہ حرام قرار دیا ہے۔ مہرداد کرم زادہ نے کہا کہ برطانوی ذرائع ابلاغ نے میرے اس اقدام کو ڈچز آف کیمبریج پرنسس کیتھرین کی توہین قرار دینے کی کوشش کی جبکہ میں نے ایک انگریز ایتھلیٹ کو گلے ملایا اور اس کے لئے تالی بجائی لیکن برطانوی ذرائع ابلاغ نے اس قضیئے کو کوریج نہيں دی۔انھوں نے کہا: میں ایک اسپورٹس مین ہوں اور برطانوی شہزادی سے ہاتھ نہ ملانے سے میرا مقصد ان کی توہین نہيں تھا بلکہ میری تہذیب، تعلیمات اور میرے دین کی طرف سے ایسا کرنے کی اجازت نہیں ہے چنانچہ میں نے ہاتھ ملانے سے پرہیز کیا اور شہزادی نے بھی کہا کہ کوئی مسئلہ نہيں ہے اور انھوں نے مجھے میری جیت پر مبارک باد دی۔انھوں نے کہا: مجھے خوشی ہے کہ میں نے اسلام اور ایران کی ثقافت کی بہتر نمائندگی کی اور میرے لئے یہی موضوع بہت اہم ہے جبکہ برطانوی روزناموں میں چھپنے والی باتیں میرے لئے بالکل غیر اہم ہیں۔
برطانوی اخبارات نے کیا لکھا؟برطانوی اخبارات نے اب تک بے شمار رپورٹیں اس حوالے سے شائع کی ہیں کہ ایک ایرانی ایتھلیٹ نے برطانوی ملکہ کی بہو کا ہاتھ رد کیا ہے اور ان سے ہاتھ ملانے سے انکار کیا ہے۔روزنامہ سن "SUN" نے لکھا: کرم زادہ نے تمغہ لیتے وقت دونوں ہاتھ پیچھے باندھ لئے تا کہ کیٹ میڈلٹن صرف تمغہ ان کے گلے میں ڈال سکیں اور ہاتھ دینے کی کوشش نہ کریں۔ جبکہ برطانوی روایت کے مطابق بادشاہی خاندان کے افراد کے ساتھ ہاتھ ملانے سے انکار در حقیقت برطانیہ کی توہین سمجھی جاتی ہے۔ ڈیلی ایکسپریس نے لکھا: کرم زادہ کا کیٹ میڈلٹن سے ہاتھ نہ ملانا، درحقیقت دو ملکوں کے تہذيبی اختلاف کی علامت ہے کیونکہ ایران اور بہت سے اسلامی ممالک میں نامحرم عورت سے ہاتھ ملانا جائز نہيں ہے۔اس اخبار کے مطابق، ایرانی سپورٹس کے وفد نے برطانوی حکام سے کہا ہے کہ اگر کوئی مرد تمغے بانٹنے آتا تو کرم زادہ اس سے ضرور مصافحہ کرتا۔ڈیلی ایکسپریس نے برطانوی رائل پیلس کے ترجمان کے حوالے سے لکھا ہے کہ اسلامی ممالک کے بہت سے اسپورٹس مین دینی اور تہذيبی دلائل کی بنا پر اجنبی عورتوں سے ہاتھ نہيں ملایا کرتے۔ گارڈین، ڈیلی ٹیلیگراف، اور ایکسپریس نے لکھا: مہرداد کرم زادہ نے ڈیسک تھروئنگ کی کلاس F42 میں چاندی کا تمغہ جیتا اور انھوں نے اتوار کی شام کو لندن کے اولمپک اسٹیڈیم میں ڈچز آف کیمبریج (کیتھرین میڈلٹن زوجہ شہزادہ ولیم) سے تمغہ وصول کرتے ہوئے ثقافتی دلائل کی بنا پر ان سے ہاتھ ملانے سے اجتناب کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110
