4 ستمبر 2012 - 19:30

امريکا ميں اقتصادي و مالياتي بحران شديدتر اور قومي قرضے کي سطح سولہ کھرب سے تجاوز کرگئي ہے.

ابنا:امريکي وزارت خزانہ نے اعلان کيا ہے کہ اس ملک کے قومي قرضے کي رقم سولہ کھرب ڈالر سے تجاوز کرگئي ہے جبکہ  عام قرضوں ميں روز آنہ  چار ارب ڈالر کا اضافہ ہورہا ہے -
    امريکا کے اقتصادي مراکز کي تازہ ترين اطلاعات کے مطابق امريکا کے قرضوں کي سطح جو سن دوہزار آٹھ ميں  اور اس ملک کي قومي پيداوار  کي تقريبا ستر فيصد تھي اور سن دوہزار گيارہ ميں بڑھ کے  ايک سو دو فيصد ہوگئي تھي اور  دوہزار پندرہ ميں تيئس ٹريلين ڈالر سے بھي زيادہ ہوجائے گي -
  امريکي سينٹ ميں بجٹ کميشن کے ريپبلکن ممبران کا کہنا ہے کہ ملک کے  سولہ ٹريلين ڈالر کے  موجودہ قرضوں کے پيش نظر اگر اوباما آئندہ انتخابات ميں کامياب ہوجاتے ہيں تو ان قرضوں ميں چار اعشاريہ چار ٹريلين ڈالر مزيد اضافہ ہوجائے گا -
  سن دوہزار نو ميں جب باراک اوباما نے عہدہ صدارت سنبھالا تھا ملک کا قومي قرضہ دس ٹريلين چھے سو ارب ڈالر تھا –
اوباما نے وائٹ ہاؤس ميں اپنے داخلے سے پہلے وعدہ کيا تھا کہ وہ ملکي قرضوں کو کم کرنے کي پوري کوشش کريں گے ليکن  اب جبکہ ان کے  وعدوں کے برخلاف قرضوں کي شرح ميں اضافہ ہورہا ہے تو ايسا لگتا ہے کہ انتخابي مہم ميں ريپبلکن پارٹي کے اميدوار کي تقويت ہورہي ہے –
آئندہ صدارتي انتخابات ميں ريپبلکن پارٹي کے اميدوار ميٹ رامني نے قومي قرضوں کي شرح ميں اضافے کے بارے ميں تازہ ترين رپورٹ کے منظرعام پر آجانے کے بعد ايک ويڈيو پيغام جاري کرکے قرضوں کي شرح کم  کر نے ميں ناکامي پر باراک اوباما پر سخت  تنقيد کي ہے -
    امريکا کي دونوں ہي اہم جماعتيں بجٹ خسارے  اور سرکاري اخراجات کوکم کرنے کے لئے الگ الگ منصوبے  پيش کررہي ہيں - ريپبلکن کا کہنا ہے کہ وہ سرکاري اخراجات ميں کمي کرے گي اور ٹيکسوں ميں اضافہ نہيں ہونے دے گي دوسري طرف ڈيموکريٹک پارٹي کا کہنا ہے کہ وہ ملک کے دولتمند طبقے پر مزيد ٹيکس عائد کرے گي -
    ماہرين کا کہنا ہے کہ امريکا کا قرضہ ملک کي  قومي پيداوار کي سطح سے کہيں زيادہ اوپر چلا گيا ہے اور يہ مسئلہ  سرطاني  ناسور کي طرح امريکا کو اندر سے کھوکھلا کررہا ہے -
      امريکا کا قومي قرض اس وقت اتنے اوپر جاچکا ہے کہ امريکا کے تين سو تيرہ ملين شہريوں ميں سے ہر شہري خواہ وہ سن کے لحاظ سے بڑا ہو يا چھوٹا پچاس ہزار ڈالر سے زائد کا  مقروض ہے –
امريکا کا ہر ٹيکس دہندہ بھي ايک لاکھ انتاليس ہزار ڈالر کي عدم ادائیگي کے زمرے ميں آتا ہے اور اگر يہ سلسلہ جاري رہتا ہے تو سن دوہزار بيس تک امريکا کو ان قرضوں کا سود دينے کے لئے مزيد دو ٹريلين ڈالر ادا کرنا پڑے گا -
    امريکا کےخارجہ تعلقات کي کونسل نے ملک ميں بڑھتے ہوئے بجٹ خسارے اور اکيسويں صدي کے آغاز کے برسوں ميں امريکا کے قومي قرضوں کي شرح ميں اضافے کو ٹيکسوں ميں کمي اور گيارہ ستمبر کے واقعات کے بعد  افغانستان و عراق پر  مسلط کي گئي دو جنگوں کے تعلق سے سابق امريکي صدر جارج بش کي پاليسيوں کا نتيجہ قرارديتي ہے –
ماہرين کا کہنا ہے کہ اس کي وجہ سے ملک اقتصادي کساد بازاري کا شکار ہوگيا اور بتدريج اس کي اقتصادي ترقي روز بروز کم ہوتي گئي اور سرانجام اس کے نتيجے ميں سن دوہزار سات سے دوہزار گيارہ کے برسوں کے دوران قرضوں کي شرح دوگنا ہوگئي -
    اس وقت امريکا کا قومي قرضہ سولہ ٹريلين  کرچکا ہے جو يقينا ايک بڑا چيلنج ہے  ليکن اس سے بھي بڑا مسئلہ ان قرضوں ميں مسلسل اضافے کا ہے اسي لئے ماہرين کا کہنا ہے کہ امريکا کے پاس اب اس کے سوا اور کوئي چارہ نہيں ہے کہ وہ سرکاري اخراجات ميں کمي کرے-

.....

/169