2 ستمبر 2012 - 19:30

عالمی رائے عامہ اور دنیا کے اکثر ممالک شام کے بحران کے فوجی راہ حل کو مسترد کرتے ہیں شام میں صہیونی ریاست مغربی اور عرب ملکوں کے حمایت یافتہ دہشتگردوں کی المناک اور انسانیت سوز کاروائيوں کی خبریں موصول ہورہی ہیں جن کا مقصد شام کے بحران کے لئے سفارتی کوششوں کو ناکام بنانا ہے۔

ابنا: شام میں دہشتگردوں کی بہیمانہ کاروائيوں میں ایسے عالم میں اضافہ ہورہا ہےکہ دنیا کی بے شمار سیاسی شخصیتوں بالخصوص شام کے امور میں اقوام متحدہ اور عرب ليگ کے نمائندے اخصر ابراہیمی نے شام میں تشدد کے خاتمے پر تاکید کی ہے۔ اخصر ابراہیمی کو اگست میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کوفی عنان کے بعد شام کے امور میں اپنا خصوصی نمائندہ معین کیا تھا۔ انہوں نے کوفی عنان کے استعفی کے بعد یہ عھدہ سنبھالا ہے ۔ کوفی عنان بھی شام کے بحران کو حل کرنے کے لئے تشدد آمیز روشوں کے مخالف تھے کیونکہ شام کے خلاف فوجی اقدامات شام کے دشمنوں کی خواہش اور ان کی فتنہ انگيزیوں کے مطابق ہے۔ شام کے بحران کو مفاہمت آمیز طریقے سے حل کرنے کے لئے عالمی برادری کی تاکید کے باوجود مغربی ملکوں، عرب حکومتوں اور صیہونی حکومت نیز ترکی کے حمایت یافتہ دہشتگرد شام میں تشدد میں روز بروز اضافہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور عالم لوگوں اور فوج پر حملے کررہے ہیں۔ شام میں بدامنی پھیلانے کے لئے دہشتگردوں نے مختلف شہروں کے ہوائي اڈوں پرحملے کرنے کی دھمکیاں دی ہیں اور اس کے لئے ڈیڈ لائين بھی معین کردی ہے۔ دہشتگردوں نے دھمکی دی ہےکہ اگر دمشق اور حلب کے لئے بین الاقوامی پروازیں بند نہ کی گئيں تو ان ہوائی اڈوں پر حملے کریں گے۔ ان دھمکیوں سے مغربی اور عرب ملکوں کے حمایت یافتہ گروہوں کی دہشتگردانہ ماہیت کھل کر سامنے آجاتی ہے کیونکہ جینوا کنونشنوں کے مطابق مسافرطیاروں یا ہوائي اڈوں پر کسی طرح کا حملہ ، دہشتگردی کا کھلا مصداق ہے۔ شام میں دہشتگردوں کی بہیمانہ کاروائیوں سے صاف ظاہر ہے کہ یہ تشدت پسندگروہ اپنے مجرمانہ کاروائيوں کے لئے کسی حد و انتھا کا تصور نہیں رکھتے۔ شام کے شہریوں کے خلاف دہشتگردوں کی انسانیت سوز کاروائياں مغربی ملکوں کی ایماء پر جاری ہیں جو ہمیشہ انسانی حقوق اور جمہوریت کے نعرے لگاتے رہتے ہيں البتہ صرف اپنے مفادات کے لئے، شام میں ان ہی مغربی ملکوں اور ان کے پٹھو عرب اور دیگر ملکوں کے حمایت یافتہ دہشتگرد ہر طرح کی انسانیت سوز مجرمانہ کاروائيان انجام دے رہے ہیں، مغربی ممالک عرب ملکوں کے  پیسے سے ان دہشتگردوں کوجدید ترین ہھتیاروں سمیت زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائيل بھی دے رہے ہیں تاکہ وہ اپنے مذموم اھداف حاصل کرسکیں۔ شام کی فوج نے گذشتہ ہفتوں میں دہشتگردوں کو پے درپئے شکستیں دی ہیں جس کے جواب میں دہشتگردوں نے عوام کے خلاف اپنی انسانیت سوز کاروائيوں میں اضافہ کردیا ہے اور ہر روز ان کے بہیمانہ اقدامات میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ وہ مغربی اور عرب ممالک نیز ترکی اور صہیونی ریاست جو شام میں دہشتگردی کو بڑھاوا دے رہی ہیں ملت شام کے خلاف ان تمام جرائم میں برابر کی شریک ہیں ، ایسے خطرناک حالات میں عالمی اداروں بالخصوص اقوام متحدہ کو چاہیے کہ شام کی حکومت کے ساتھ مل کر سنجیدہ اقدامات کرکے دہشتگردوں کا خاتمہ کرے اور اس ملک میں امن و امان بحال کرنے کی کوشش کرے۔ شام کے بحران کے تعلق سے اقوام متحدہ کی جانب سے کسی بھی طرح کی غفلت سے دہشتگرد مزید جری ہوجائيں گے اور ان کے اقدامات شام کی سرحدوں سےباہر بھی نکل سکتے ہیں اور سارے علاقے اور عالمی امن کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں۔.....

/169