23 اگست 2012 - 19:30

تل ابيب ميں بڑي تعداد ميں لوگوں نے مظاہرہ کرکے ايران کے خلاف صہيوني رياست کي حملے کي دھمکيوں کي مذمت کي ہے -

ابنا: اسرائيلي ذرائع کے مطابق تل ابيب ميں جمعرات کي شام، بہت بڑي تعداد ميں لوگوں نے  فوجي امور کي وزارت کے سامنے مظاہرہ اور ايران کے خلاف حملے کي دھمکيوں کي مخالفت کا اعلان کيا-

اس رپورٹ کے مطابق مظاہرين کے ہاتھوں ميں ايسے اعلانات اور پلے کارڈ تھے جن پر جنگ کي مخالفت ميں نعرے درج تھے -

اس موقع پر مظاہرے ميں شريک ايک شخص نے کہا کہ ہم يہاں، وزير اعظم بن يامين نتين ياہو اور وزير جنگ ايہود بارک کے،  ايران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے منصوبے کي مخالفت کے لئے جمع ہوئے ہيں - اس نے کہا کہ ايران پر حملہ پورے خطے کے لئے خطرناک ہوگا - مظاہرين کا کہنا تھا تل ابيب حکومت ايران پر حملے کي باتيں کرکے در اصل داخلي مشکلات سے توجہ ہٹانے کي کوشش کررہي ہے -

ياد رہے کہ صہيوني رياست کے وزير جنگ ايہود باراک نے نواگست کو ايک گفتگو ميں کہا تھا کہ ايران کے خلاف ہر آپش کھلا ہوا ہے - اسي کے ساتھ صيہوني حکومت کے سابق وزير جنگ ميٹن ملنائي نے بارہ اگست کو  کہا تھا کہ  تل ابيب حکومت، ايران کے خلاف تيس دن تک جنگ کرنے کي تياري کررہي ہے -

يہ ايسي حالت ميں ہے کہ صہيوني رياست کے بہت سے سابق اور موجودہ فوجي افسروں نے حکومت سے کہا ہے کہ ايران کے خلاف کسي بھي قسم کي مہم جوئي سے باز رہا جائے –.......

/169