23 اگست 2012 - 19:30

شمالي لبنان کے حالات بدستور کشيدہ ہيں - طرابلس ميں جنگ بندي کے دو روز بعد ايک بار پھر تشدد پھوٹ پڑا ہے اور جھڑپيں دوبارہ شروع ہوگئي ہيں -

ابنا: لبنان کے شمالي شہر طرابلس ميں دوشنبے سے شروع ہونے والي جھڑپوں ميں اب تک کم سے کم تيرہ افراد مارے جا چکے ہيں اور ايک سو بيس سے زائد زخمي ہوچکے ہيں-  اگرچہ طرابلس ميں بظاہر شام کے حاميوں اور مخالفين کے درميان جھڑپيں ہورہي ہيں ليکن لبنان کے وزير اعظم نے اس صورتحال کو بعض فريقوں کي فتنہ انگيزي کا نتيجہ قرار ديا ہے - انہوں نے ايک انٹرويو ميں کہا ہے کہ بعض عناصر لبنان ميں فتنہ برپا کرنا چاہتے ہيں اور ان کي کوشش ہے کہ لبنان کو شام کے بحران سے جوڑ ديں-

اس درميان بعض صحافتي حلقوں نے لبنان ميں  القاعدہ کے اراکين کے داخل ہونے کي رپورٹ  بھي دي ہے - ان کا کہنا ہے کہ لبنان ميں القاعدہ کے آنے کا مقصد شمال لبنان ميں جنگ کي آگ بھڑکانا ہے –سابق وزير اعظم سعد حريري کي المستقبل پارٹي کے ايک رکن مصطفي علوش نے بھي اعتراف کيا ہے کہ شمالي لبنان کي لڑائي ميں سعودي عرب اور قطر کا ہاتھ ہے –

اس ميں دو رائے نہيں کہ خطے کي وہ عرب حکومتيں جنہوں نے مغرب بالخصوص امريکا کي پيروي ميں شام سميت اسرائيل کے مخالف تمام محاذي ملکوں کي مخالفت کا پرچم اٹھا رکھا ہے، شام کے پڑوسي ملکوں ميں تشدد اور بدامني پھيلاکے مغرب کے اہداف کي تکميل کے لئے حالات سازگار بنانا چاہتے ہيں - گزشتہ چند مہينوں سے امريکا اور اس کي اتحادي عرب حکومتوں نے اپني توجہ شام اور لبنان پر مرکوز کررکھي ہے - قومي، مذہبي اور فرقہ وارانہ اختلافات بھڑکانا، شام اور لبنان کے بارے ميں سعودي عرب، قطر اور امريکا کے منصوبوں ميں شامل ہے –

شواہد بتاتے ہيں کہ لبنان کے شمالي علاقے بالخصوص  شہر طرابلس ميں جو کچھ ہورہا ہے وہ کوئي اندروني لڑائي نہيں ہے بلکہ خاص اہداف کے لئے  باہر سے بھڑکايا جانے والا مشکوک فتنہ ہے- چنانچہ طرابلس کے اہلسنت کے مفتي شيخ مالک الشعار نے اس شہر ميں جاري لڑائي کو بيروني طاقتوں کي فتنہ انگيزي کا نتيجہ قرار ديتے ہوئے کہا ہے کہ اس شہر ميں مسلمانوں اور عيسائيوں يا شيعہ اور سني مسلمانوں کے درميان کوئي لڑائي اور اختلاف نہيں ہے –

بہر حال شمالي لبنان ميں قيام امن کے لئے فوج تعينات ہوگئي ہے اور اس نے ايک بيان جاري کرکے اعلان کيا ہے کہ امن و امان ميں خلل ڈالنے والوں سے سختي سے نمٹاجائے گا-

فوج کے بيان ميں تمام لبناني جماعتوں اور گروہوں سے اپيل کي گئي ہے کہ ملک ميں امن و امان کے مسائل کھڑے کرنے سے پرہيز کيا جائے اور علاقائي حوادث سے انتقامي کاروائي کے لئے غلط فائدہ اٹھانے کي کوشش نہ کي جائے -

.......

/169