21 اگست 2012 - 19:30

کشمیر کی جدید تاریخ میں پہلی مرتبہ سنیوں اور شیعوں نے ایک ساتھ نماز عید میں شرکت کی اور نماز عید میں شریک اکثر سنی مسلمانوں نے علماء کرام پر اس طرح کی تقریبی نماز جماعتوں کو عام کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اتحاد بین المسلمین کا عملی ثبوت پیش کیا جائے۔

ابنا:اس موقع پر اپنے خطبہ میں میر واعظ وسطی کشمیر اور جامع مسجد بیروہ کے امام جمعہ مولوی سید عبدالطیف بخاری نے فلسفۂ عید پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج کا دن خوشی ، مبارکبادی اور عبرت کا

کشمیر میں عالمی مجلس برای تقریب مذاہب اسلامی کے نمائندہ اور برصغیر میں تقریب خبر رساں ادارے (تنا) کے بیورو چیف حجت الاسلام والمسلمین حاج عبد الحسین کشمیری نے موجود تمام نمازیوں کو اپنی اور عالمی مجلس برای تقریب مذاہب اسلامی کی طرف سے عید الفطر کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تبارک و تعالیٰ مسلمانوں کے صفحوں میں اتحاد و اتفاق پیدا کرے۔دن ہے۔ جو نیک لوگ ہیں ان کیلئے آج کا دن خوشی کا دن ہے اور جو بدکار ہیں ان کیلئے یہ دن عبرت حاصل کرنے کا دن ہے۔

میر واعظ وسطی کشمیر نے کہا: اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہم پر روزہ فرض کئے ہیں تاکہ ہم تقویٰ حاصل کریں، پرہیز گاری حاصل کریں۔ روزوں کا مقصد یہی ہے کہ ہم ایک دوسرے کو تکلیف پہنچانے سے پرہیز کریں، ہم تفرقہ برپا کرنے سے پرہیز کریں، ہم فتنہ و فساد برپا کرنے سے پرہیز کریں ، ہم اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے سے پرہیز کریں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمارے دلوں میں رسول کریم (ص) ، اھلبیت طاہرین (ع)، خلفاء راشدین (رض)، اصحاب منتجبین کی محبت ہمارے دلوں میں فروزاں فرما۔ ہمیں یقین ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) روز محشر ہماری شفاعت کرینگے۔ روز محشر جب سب پریشان حال ہونگے اور اللہ کے عذاب سے بچنے کی امید لئے حضرت آدم علیہ السلام ، حضرت ابراہیم (ع)، حضرت موسیٰ (ع) ، حضرت عیسیٰ (ع) کی خدمت میں جائیں گے مگر وہ سب ان سے کہیں گے ‘‘لست لھا، لست لھا’’ یعنی ہم تمہاری شفاعت نہیں کرسکتے ہیں، ساتھ ہی وہ ان سے کہیں گے کہ حضرت محمد مصطفیٰ (ص) کی خدمت میں جاؤ صرف وہی تمہاری شفاعت کرسکتے ہیں۔ پس ہر کوئی پیغمبر اکرم (ص) کی خدمت میں حاضر ہوجائیگا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں بھی روز محشر پیغمبر اکرم (ص) کی شفاعت عنایت فرما۔

جامع مسجد بیروہ کے امام جمعہ نے کہا: انسان کی لالچ اس کی سب سے بڑی دشمن ہے۔ ہمیں اس بات پر یقین ہونا چاہئے کہ ہماری ساری زمین اور دولت آخرت میں ہمارے کسی کام نہیں آئیگی۔ ہمیں اس دارالقضا سے رخصت ہونا ہے۔ ہماری دولت، ہمارا محل، ہمارا کارخانہ ہم اپنے ساتھ نہیں لیجائینگے۔ ہم سب کچھ دنیا میں ہی چھوڑ کر جائیں گے۔ ہمیں تنہا اللہ کی بارگاہ میں پہنچنا ہے۔ وہاں صرف ہمارے اعمال ، ہماری نیکیاں ہمارے کام آئیں گی۔

اس موقع پر نمازیوں کے جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر میں عالمی مجلس برای تقریب مذاہب اسلامی کے نمائندہ اور برصغیر میں تقریب خبر رساں ادارے (تنا) کے بیورو چیف حجت الاسلام والمسلمین حاج عبد الحسین کشمیری نے موجود تمام نمازیوں کو اپنی اور عالمی مجلس برای تقریب مذاہب اسلامی کی طرف سے عید الفطر کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تبارک و تعالیٰ مسلمانوں کے صفحوں میں اتحاد و اتفاق پیدا کرے۔

.....

/169