ابنا: لطف اللہ فروزندہ نے تہران میں ناوابستہ تحریک کے سربراہی اجلاس کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہا کہ یہ ایک تاریخی موقع ہے اور اس اجلاس میں شرکت والوں کو ا سلامی انقلاب کی ماہیت، اسلامی حکومت کے حق میں عوام کی اعتماد اور ملکی امور میں ان کی مشارکت نیز ایٹمی شعبے میں ایرانی سائنس دانوں کی کامیابیوں اور ایران کے خلاف لگائي گئ پابندیوں کی حقیقت سے آگاہ کرنا چاہیئے۔
انہوں نے کہا کہ سامراج اور صہیونیت کے چہرے سے نقاب ہٹاکر اھل عالم کو ان کے حقیقی چہرے سے آشنا کرائے جانے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ناوابستہ تحریک کے ارکان متحد نہ ہوں اور مشترکہ مواقف اختیار نہ کریں تو سامراجی سازشوں کے تحت نابود ہوجائيں گے۔ قابل ذکر ہے تہران میں چھبیس اگست سے اکتیس اگست تک ناوابستہ تحریک کا سربراہی اجلاس ہونے والا ہے ۔
.......
/169