9 اگست 2012 - 19:30

روسی ذرائع ابلاغ اور اسلامی مذہبی حلقوں میں حال ہی میں ایک انوکھے مذہبی فرقے کے انکشاف نے تشویش کی ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے۔

ابنا: خود ساختہ "جماعت مؤمنین’’ کے نام سے موسوم اس فرقے کے پیروکار عام زندگی گزارنے کے بجائے گذشتہ دس سال سے زیر زمین گزر بسر کر رہے ہیں۔ اپنی دانست میں وہ اسے مذہبی تعلیمات کا عکاس قرار دیتے ہوئے خلافت فی الارض کے لیے کوشاں ہیں۔

‘‘جماعت مومنین’’ فرقے کا سراغ اس وقت لگا جب روسی پولیس نے مسلم اکثریتی ریاست تاتارستان میں تلاشی کی کارروائی کے دوران ایک خود ساختہ جیل کا انکشاف کیا۔ جیل پر چھاپے سے انکشاف ہوا کہ وہاں درجنوں خواتین، بچے اور مرد خود ساختہ قید اختیار کئے ہوئے ہیں۔

انوکھی وضع کے اس فرقے کے بانی 83 سالہ فائز رحمان ساتا روف ہیں، جنہوں نے خود کو ‘مجدد’ یا [نعوذ باللہ] نبی قرار دے رکھا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ زمین پر اسلامی خلافت کے احیاء کی جدو جہد کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ‘‘اگر زمین پر خلافت اسلامی کا قیام ممکن نہیں تو ہمیں انڈر گراؤنڈ ایسی خلافت کا قیام عمل میں لانا چاہیے’’۔ چنانچہ رحمان ستاروف اپنے پیروکاروں کو ایسا کرنے پر قائل کرنے میں کامیاب ہو گیا اور اس نے سنہ 2000ء میں کئی بچوں اور خواتین کے ہمراہ زیر زمین مقید کر لیا۔

فائز رحمان ستاروف جو خود کو مجدد ملت قرار دیتے ہیں سر پر سبز عمامہ باندھتے ہیں جو ان کے فرقے کی ایک خاص پہچان ہے۔ رحمان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی مدد خوابوں کے ذریعے آتی ہے جنہیں وہ وجدان میں تحت الشعور میں آنے والے خیالات کی طرح حقیقی خیال کرتے ہیں۔

روسی ٹیلی ویژن چینل ‘‘فیسٹی’’ کی رپورٹ کے مطابق فائز رحمان ستاروف نے اپنی نوعیت کا یہ منفرد فرقہ کئی سال قبل تشکیل دیا۔ ستر افراد ان کی بیعت کر چکے ہیں۔ بیعت کرنے والوں میں کئی افراد اپنے جواں سال بیٹے بھی فائز رحمان کے حوالے کر چکے ہیں۔ یہ لوگ سنہ دو ہزار کے بعد سے زیر زمین تھے جنہوں نے سورج کی روشنی تک نہیں دیکھی۔

ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاست تاتارستان میں پولیس کو اس فرقے کے لوگوں کے زیر زمین روپوشی کے بارے میں اس وقت علم ہوا جب اس نے ایک شخص کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارنے شروع کیے۔ تلاشی کی کارروائیوں میں پولیس کو 27 بچے اور عورتیں ملیں جو اس خود ساختہ ‘‘اسلامی جماعت’’ کے پیروکارں میں شامل تھے اور زیر زمین ایک خفیہ مقام پر رہ رہے تھے۔ پولیس نے مذہبی جماعت کے بانی سربراہ رحمان ستاروف کو حراست میں لے کر تفتیش کے لیے جیل منتقل کر دیا ہے جبکہ خواتین اور دیگر افراد کو غار سے نکال دیا گیا ہے۔

تاتارستان کے صوبہ کازان میں جہاں اس انوکھے فرقے کی بنیاد رکھی گئی ہے، وہاں پر مسلمان اکثریت میں ہیں اور ان کی مجموعی تعداد پچاس لاکھ سے زیادہ ہے۔ ‘‘جماعت مومنین’’ کی انوکھی تعلیمات کے منظر عام پر آنے کے بعد وہاں کی مسلمان آبادی انگشت بدنداں ہے کیونکہ ان کے درمیان خفیہ طریقے سے اتنے عرصے سے ایسے کسی فرقے کے منظم ہونے اور ان کی روپوشی اختیار کرنے کے بارے میں مقامی لوگ قطعی طور پر لاعلم ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ خود کو روپوش رکھنے والا یہ فرقہ اپنے مقاصد کے لیے پر تشدد طریقے اختیار کرنے کا بھی حامی ہے۔ اسی فرقے کے پیروکاروں نے پچھلے ماہ تاتارستان کے نائب مفتی اعظم فالیوللا یعقوبوف کو ہلاک کر دیا تھا۔ جبکہ اسی حملے میں مفتی اعظم بال بال بچے تھے۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب نائب مفتی اپنی گاڑی میں سوار ہو کر دفتر جا رہے تھے کہ نامعلوم افراد نے ان کی گاڑی پر دستی بموں سے حملہ کر دیا۔

پولیس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ‘‘جماعت مومنین’’ کے نام سے اس گروہ سے وابستہ افراد مزید بھی کئی مقامات پر روپوش ہو سکتے ہیں۔ ان میں کم عمر افراد کی تعداد زیادہ ہے۔ حراست میں لیے گئے تیس کے قریب افراد کی عمریں پندرہ سے اٹھارہ برس کےدرمیان ہیں۔

.......

/169