6 اگست 2012 - 19:30

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلامی جمہوریہ ایران کی اقتصادیات پر انصاف پسندانہ نگاہ رکھنے پر تاکید کی.

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے کل شام یونیورسٹیوں کے ایک ہزار کےقریب ذہین اور سرگرم طلباء کی ملاقات میں انصاف پسندی پر مبنی اقتصادیات اور سرمایہ دارانہ نظام کےموضوع پر اسلام کے نقطہ نظرکے بارے میں فرمایا کہ ایران کی اقتصادیات پر انصاف پسندی پر مبنی نگاہ کی ضرورت ہے اوریہ بنیادی آیین کی 44ویں شق سے کوئی اختلاف نہیں رکھتی-رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مزید فرمایا کہ اگر 44ویں شق کا جس طرح اس کی تشریح ہوگئی ہے نفاذ ہوجائے تو ایران میں ناپسندیدہ سرمایہ دارانہ نظام کےقائم ہونے اور ملک کے بنیادی فیصلوں میں اس نظام کے اثراندازہونے کی نوبت نہیں آئے گی – حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اقتصادیات میں سوشلزم کی طرز نگاہ سے دور رہنے کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر 44ویں شق میں مذکور پالیسیوں کا نفاذ ہوجائے تو اس سے انصاف پسندی پر مبنی اقتصادیات کی تکمیل ہوگی.رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس بات پر تاکید کی کہ یورپ اور مغربی ممالک میں دن بدن بڑھتی ہوئی موجودہ اقتصادی مشکلات کا اصل سبب سرمایہ دارانہ نظام کی فطرت یعنی جاگیرداری ہے –حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے "مزاحمتی اقتصادیات" کو جارحیت پر مبنی اقتصادیات سے مختلف قرار دیتے ہوئےفرمایا کہ "مزاحمتی اقتصادیات" کا مطلب ،اقتصادی میدان میں اپنے دفاع کےلئے بلند دیوار کھڑی کرنا نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دباؤ اور پابندیوں کے باوجود ملک کی ترقی وپیشرفت کے راستے کھلے رہیں -آپ نے ایک اسٹوڈنٹ کے بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلامی بیداری کی تحریک میں سرگرم اسٹوڈنٹس تنظیموں کے ساتھ تعلقات دوسری اسٹوڈنٹس تنظیموں کے لئے ضروری ہے رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سافٹ جنگ میں دشمن کےاہداف کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ مجھے مکمل یقین ہے کہ آپ طلباء کوسافٹ جنگ میں کمانڈروں کی حیثیت حاصل ہے اور اسی لئے میری تاکید ہے کہ آپ طلباء سافٹ جنگ میں دشمن کے اصل اہداف یعنی ایرانی عوام اور حکام کی سوچ میں تبدیلی لانے کی بابت ہوشیار رہیں – آپ نے سافٹ جنگ میں عوام کے دل ودماغ اور سوچ وارادے کو دشمن کے نشانے پر قراردیتے ہوئے فرمایا کہ دشمن کی آشکارا طور پر اس بات پر تاکید ہے کہ ہمیں ایرانیوں کی سوچ میں تبدیلی لانی چاہیئے یعنی عوام یہ سوچ لیں کہ سامراج اور عالمی طاقتوں کے مقابلے میں مزاحمت ہمارے مفاد میں نہیں ہے اور آپ طلباء کوسافٹ جنگ میں ہوشیار کمانڈروں کی طرح دشمن کے اصل اہداف کا ادراک کرکے اس کا صحیح مقابلہ کرنا چاہیئے -.....

/169