2 اگست 2012 - 19:30

ايک ايسے وقت ميں جب شامي فوج ملک کے مختلف علاقوں ميں دہشتگردوں کے خلاف فيصلہ کن کاروائي کر رہي ہے امريک صدر باراک اوباما نے خفيہ حکم کے ذريعے سي آئي اے کو شامي باغيوں کي ہرطرح کي امداد فراہم کرنے کا حکم دے ديا ہے۔

ابنا: امريکي حکومت نے شام ميں سرگرم مسلح دہشت گردوں اور ان کي کاروائيوں کي باضابطہ حمايت کا اعلان کرديا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امريکي صدر باراک اوباما نے ايک خفيہ فرمان پر دستخط کردئے ہيں جس ميں شام کے عوام اور حکومت کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروہوں کي براہ راست حمايت کي اجازت دے دي ہے واضح رہے کہ شام کے مسلح دہشت گردوں کے لئے امريکي صدر باراک اوباما نےحمايت کا يہ فرمان ايک ايسے وقت جاري ہے کہ جب شام کے نہتے اور بے گناہ شہريوں پر ان دہشت گردوں کےمظالم اور بربريت کي فلمين اور تصويريں منظر عام پر آنے کے بعد مختلف عالمي اداروں اورتنظيموں منجملہ ايمنسٹي انٹرنيشنل نے ان گروہوں کے وحشيانہ اقدامات کي مذمت کي ہے۔ايمنسٹي انٹرنيشنل نے اپنے بيان ميں کہا ہے کہ شام ميں مسلح دہشت گرد گروہ بين الاقوامي قوانين کي خلاف ورزي کرتے ہوئے بشار اسد کي حکومت کے لئے ہمدردي رکھنےوالے عام شہريوں کي شناخت کرکے ان کا قتل عام کررہے ہيں۔ايمنسٹي انٹرنيشنل نے اپنے بيان ميں کہا ہے کہ اس طرح کے وحشيانہ اقدامات ملک کے تمام علاقوں خاص طور پر حلب ميں انجام دئےگئے ہيں۔اقوام متحدہ کے سکريٹري جنرل کی ترجمان مارٹين نسير کي نے بھي شام ميں عام شہريوں کے قتل عام پر اپني گہري تشويش کا اظہار کرتے ہوئےکہا ہے کہ شام ميں مخالف مسلح گروہ شہر کے اندر لڑائيوں کے دوران بھاري ہتھياروں کا استعمال کررہے ہيں اور عام شہريوں پر وہ ان بھاري ہتھياروں کے بے دريغ استعمال کررہے ہيں۔ اقوام متحدہ کے سکريٹري جنرل کی ترجمان نے کہا کہ يہ ادارہ اس بات کي تصديق کرتا ہے شام ميں مسلح گروہ ٹينک توپ مارٹر گولے جيسے بھاري ہتھيار عام شہريوں کے خلاف استعمال کررہے ہيں۔ايک ايسے وقت جب اس بڑے پيمانے پر شام ميں سرگرم دہشت گردوں کے مجرمانہ اور وحشيانہ اقدامات کي مذمت جاري ہے امريکي وزارت خارجہ کي ترجمان نے بدھ کي رات اپنے ايک بيان ميں کہا کہ امريکا نے شام کے مسلح گروہوں کےلئے پچيس ملين ڈالر مدد دينے کا فيصلہ کرليا ہے۔شام ميں امريکا کي طرف سے دہشت گردوں کي کھلي حمايت کا اعلان ايسے عالم ميں ہے جب دور روز قبل شام کي فوج نے کہا تھا کہ ترکي نے اپنے مخاصمانہ اقدامات کے تحت بعض عرب اور مغربي ملکوں کے ساتھ مل کر شام سے متصل سرحد کے قريب ايک جاسوسي مرکز قائم کيا ہے جس کے ذريعے وہ شامي فوج کي نقل وحرکت پر نظررکھتے ہيں اور اس کي اطلاع دہشت گردوں کو ديتے ہيں۔ادھر شام کے اندر سے بھي خبر ہے شامي فوج اور سيکورٹي فورسز نے عوام کي مدد سے بدھ اور جمعرات کو  دمشق حمص اور حلب ميں دہشت گردوں کے خفيہ ٹھکانوں کا سراغ لگا کر انہيں تباہ اور سيکڑوں کي تعداد ميں دہشت گردوں کو ہلا کرديا ہے۔ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں ميں سعودي عرب ترکي قطر ليبيا يمن اور تيونس کے دہشت گردوں کو ديکھا جاسکتا ہے۔ شامي فوج  اور سيکورٹي فورس کي ان کاروائيوں ميں بھاري مقدار ميں اسلحہ و گولہ بارود دہشت گردوں کے قبضے سے ضبط کئے گئے ہيں۔ ايک خبر يہ بھي ہے کہ شامي فوج نے مسلح دہشت گردوں کے مواصلاتي سسٹم کو بھي تباہ کرديا ہے يہ مواصلاتي ترکي کے ذريعے دہشت گردوں کو فراہم کيا گيا تھا۔ خبروں ميں بتاياگيا ہے شامي فوج دمشق حلب اور حمص شہروں ميں دہشت گردوں کو ڈھونڈھ ڈھونڈ کر نکال رہي ہے اور ان کا قلع قمع کررہي ہے۔

.......

/169