31 جولائی 2012 - 19:30

ايک ايسے وقت جب ميانمار کے مسلمانوں کے خلاف ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہيں اور ہزاروں کي تعداد ميں ان کا قتل عام کرکے ميانمار کے مغربي علاقوں ميں ان کي نسلي صفائي کي جارہي ہے ميانمار کے حکام نے راخين صوبے ميں مسلمانوں کے خلاف تشدد کي خبروں کي ترديد کي ہے.

ابنا: ميانمار کے مسلمانوں کے قتل عام کے مذمتوں کا سلسلہ عالمي سطح پر جاري ہے اور مغربي علاقوں ميں مسلمانوں کے خلاف ہورہے ظلم و ستم کا جائزہ لينے کے لئے اقوام متحدہ کے انساني حقوق کميشن کے نمائندے تھامس اوجہ کينتانا ميانمار پہنچ گئے ہيں اس دوران ميانمار کے وزير خارجہ نے اقوام متحدہ کے اہلکار تھامس اوجہ کينتانا سے ملاقات ميں کہا کہ مغربي علاقوں ميں حالات معمول پر آگئے ہيں اور کسي ثبوت و شواہد کے  بغير ميانمار کي حکومت پر الزام لگايا جارہا ہے کہ وہ مسلمانوں کے قتل عام ميں بودھسٹوں کے ساتھ شريک ہے ميانمار کے وزير خارجہ کے اس بيان سے ايسا ظاہوتا ہے کہ روہنگيا مسلمانوں کي اتني بڑي تعداد ميں آوارہ وطني اور ہمسايہ ملکوں کي طرف اپني جان بچاکر فرار کرنے جيسے واقعات نيز ہزاروں کي تعداد ميں مسلمانوں کا قتل عام جو عالمي ذرائع ابلاغ ميں مسلسل تصويروں کے ساتھ پيش کيا جارہا ہے يہ سب کچھ ان کي نظر ميں صرف ايک فسانہ ہے جس کي کوئي حقيقت نہيں ہے –

يہاں پر يہ سوال پيدا ہوتا ہے کہ اگر ميانمار کے مسلمانوں کا اتنے بڑے پيمانے پر قتل عام اور ايک لاکھ مسلمانوں کا بے گھر ہوجانا صرف ايک الزام ہے تو پھر اسلامي تنظيموں اور انساني حقوق کے اداروں اور حتي خود آسيان تنظيم نے جس کا ميانمار بھي ممبر ہے حکومت ميانمار سے اس بڑے واقعے پر وضاحت کيوں طلب کي ہے اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے نمائندوں کا دورہ ميانمار کيوں انجام پايا ہے کيا اقوام متحدہ کے نمائندے مسٹر تھامس اوجہ کينتانا صرف سير و تفريح کے لئے ميانمار گئے ہيں سب سے بڑھ کر جو لوگ کيمپوں ميں انتہائي وحشت کے عالم ميں ہزاروں کي تعداد ميں زندگي بسر کررہے ہيں وہ کون لوگ ہيں اور کيوں اپنے گھروں سے بے گھر ہوئے ہيں ؟

ميانمار کے مسلمانوں کے حق ميں يہ ظلم کم ہے کہ حکومت علي الاعلان يہ کہہ رہي ہے کہ وہ ان مسلمانوں کو اپنے ملک کا شہري تسليم نہيں کرتي حکومت کے وزيربرائےايميگريشن نے پير کو ايک پريس کانفرنس ميں کہا کہ برما يا ميانمار ميں بسنے والي ايک تيس قوميتوں ميں جنھيں سرکاري طور پر تسليم کيا جاتا ہے اس ميں مسلمان شامل نہيں ہيں جبکہ تاريخي حقا‍ ئق يہ بتا تے ہيں کہ اس ملک ميں مسلمان صديوں سے آباد ہيں جب برما باقاعدہ ايک ملک نہيں تھا اس وقت بھي يہاں مسلمان آباد تھے –اس وقت ميانمار کي حکومت کا کہنا ہے کہ اس ميں بسنے والے مسلمانوں کو دوسرے ملکوں ميں جانا ہوگا جبھي ان پر ہونےوالے مظالم کا خاتمہ ہوسکے گا برما کي حکومت کے اس طرح کے بيان کا مطلب صاف ہے کہ وہ ميانمار ميں مسلمانوں کي نسلي صفائي کا تہيہ کرچکي ہے بہرحال اس وقت دنيا کي نظريں اقوام متحدہ پر لگي ہوئي ہيں کہ يہ ادارہ جس پر اس وقت بھاري ذمہ داري عائد ہوتي ہے ميانمار کے مسلمانوں کے سلسلے ميں کيا قدم اٹھاتي ہے اور ميانمار کي حکومت پر کتنا دباؤ ڈال سکتي ہے ليکن حقيقت تو يہي ہے کہ اقوام متحدہ دنيا کا سب سے بڑا ادارہ ہونے کے بعد بھي ابھي تک اس طرح کے معاملات ميں کچھ بھي کرسکنے کي پوزيش ميں کبھي نہيں رہا –

اس دوران ميانمار ميں مسلمانوں کے خلاف ہورہے مظالم کي مذمتوں کا سلسلہ بھي جاري ہے جامعہ الازہر کے شيخ احمد الطيب نے اپنے ايک بيان ميں مسلمانوں کے قتل عام کي مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ميانمار کےمسلمانوں کے قتل عام کا سلسلہ فوري طور پر بند ہونا چاہئے- ہندوستان ممتاز شيعہ مسلمان عالم دين مولانا سيد کلب جواد نقوي نے ميانمار کے مسلمانوں کے قتل عام کو موجودہ دور کي انسانيت کي پيشاني پر کلنک کا ٹيکہ قرار ديا انہوں نے ايرنا سے گفتگو کرتے ہو‏ے ميانمار کے مسلمانوں کے قتل عام کي مذمت کرتے ہوئے انساني حقوق کے دعويداروں سے سوال کيا کہ وہ جو ہر ملک ميں انساني حقوق کي خلاف ورزي کا ڈھنڈورا پيٹا کرتے ہيں اس وقت کہاں ہيں اور انہيں ميانمار کے مسلمانوں کا قتل عام نظرکيوں نہيں آرہا ہے.......

/169