22 جولائی 2012 - 19:30

ایسےحالات میں جب عرب ممالک کےخلاف صیہونی حکومت کی توسیع پسندانہ پالیسیاں اپنے عروج پرہونےکےساتھ ہی تشویشناک حدتک بڑہ چکی ہیں بعض عرب حکومتیں عرب امن کی جائزہ کمیٹی کےقالب میں اس غاصب حکومت کےخلاف سازباز پرتاکیدکررہی ہیں۔

ابنا: اس سلسلےمیں عرب امن کی جائزہ کمیٹی، مشرق وسطی میں سازباز کےعمل کاجائزہ لینےکےلئے دوحہ میں اتوارکوایک اجلاس میں، فلسطینی انتظامیہ کوماہانہ سوملین ڈالر دینے پراتفاق کیاہے۔عرب امن منصوبےکی جائزہ کمیٹی نے ایک بارپھردوخودمختارملکوں کی تشکیل کےسازشی راہ حل کی حمایت کی اور سازبازکاعمل جاری رکھنےپرتاکیدکرتےہوئےاعلان کیاکہ اگراسرائیل دوخودمختارملک کی تشکیل کےراہ حل اور غرب اردن میں ہرقسم کی کالونیوں کی تعمیرروکنےپرراضی ہوجائےتو فلسطینی انتظامیہ اور اسرائیل کےدرمیان مذاکرات شروع کئےجاسکتےہيں۔اس منصوبےکےمطابق فلسطینی مملکت صرف غرب اردن اورغزہ پٹی تک ہی محدود ہوکررہ جائےگی۔عرب امن منصوبےکی جائزہ کمیٹی مشرق وسطی سازباز کےعمل کاجائزہ لینےکےلئے تشکیل پائی ہے۔سعودی حکام نےیہ تجویز، عرب امن منصوبے کو صیہونی حکومت کےساتھ تعلقات کومعمول پرلانےکےلئے  دوہزاردو میں لبنان کےدارالحکومت بیروت میں دی تھی ۔عرب امن منصوبہ جوسعودی عرب نےسن دوہزاردو میں پیش کیاتھااس میں فلسطینی عوام کےحقوق کاایک بڑا حصہ منجملہ فلسطینی آوارہ وطنوں کی جلاوطنی ، فلسطینی قیدیوں کی بابت عدم توجہی نیزغاصب صیہونی حکومت کوقانونی طورپرتسلیم کیاگیاہے ۔عرب امن منصوبےمیں صیہونی حکومت کےساتھ بائیس عرب ملکوں کو سازبازمعاہدےميں شامل کیاگیاہے جس کےعوض عرب ممالک صیہونی حکومت کوتسلیم کریں گے اور وہ انیس سو سڑسٹھ سےپہلےکی سرحدوں تک پسپائی اختیارکرےگی۔بعض عرب حکومتوں کی جانب سےصیہونی حکومت کےساتھ سازبازکےعمل پرتاکیدایسےعالم میں جاری ہےکہ اس عمل کا صیہونی حکومت کےجرائم میں اضافے اورتوسیع پسندی کاسلسلہ جاری رکھنےکےسلسلےمیں اس حکومت کی گستاخی اور علاقےمیں غاصبانہ قبضےکےسوااس کاکوئی نتیجہ نہیں نکلاہے۔سازشی عرب حکومتوں کی جانب سے سازبازمذاکرات پھرسےشروع کرنےکانیادور ایسےعالم میں شروع ہوا ہےکہ یہ حکومت امن پریقین ہی نہيں رکھتی اوراپنی توسیع پسندانہ پالیسیوں کوجاری رکھنےکےلئےنام نہاد امن کاعمل ایک ہتھکنڈےکےطورپرجاری رکھےہوئےہے اور اس کےذریعےاپنےجرائم چھپاناچاہتی ہے۔صیہونی حکومت کوجب عالمی رائےعامہ کی ناراضگی کاسامنا ہوتاہے تو وہ بظاہر امن پسندی کاناٹک کرتی ہے تاکہ اس طرح مغربی ممالک کی جانب سے بتائےگئےطریقوں سےاپنےجرائم پرپردہ ڈالے اورجرائم کےخلاف رائےعامہ کےاحتجاج کوکم کرسکے۔صھیونی حکومت امن پسندی کےسہارے اپنےعرب فریق سےاپنی توسیع پسندانہ پالیسیاں منوانااور ان سےمزید مراعات حاصل کرناچاہتی ہے۔ایسےحالات میں فلسطین کی مزاحمتی تنظیمیں اورعوام مشرق وسطی سازبازکےعمل کومستردکرتےہوئےاپنےمکمل حقوق کےحصول تک صیہونی حکومت کےخلاف استقامت جاری رکھنے پرتاکیدکرتےہیں اوراس بنیاد پر تحریک حماس نے ایک بارپھرتاکیدکی ہےکہ یہ تحریک اپنےسرزمین کاایک ذرہ بھی نظراندازنہيں کرےگی۔

.......

/169