ابنا: ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی آج کی رپورٹ میں تاکید کی ہے کہ مسلمانوں کے قتل عام کے سلسلے میں انتہا پسند بودھائیوں کو اس ملک کی حکومت کی حمایت حاصل ہے۔میانمار کے مسلمانوں کا بھی کہنا ہے کہ ان پر مظالم ڈھائےجانے کا آغاز خطے میں انگریزوں کے تسلط کے زمانے سے ہوا جب وہ بودھائیوں کو مسلمانوں کے خلاف اکساتے تھے اور پھر سنہ انیس سو اڑتالیس میں میانمار کی آزادی کے بعد اس ملک میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم میں شدت پیدا ہوگئي۔دریں اثناء اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ میں خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کمیشن کے رکن علی دواتگری نے میانمار میں مسلمانوں کے قتل عام کا جائزہ لینے کے لۓ اسلامی تعاون تنظیم کا ایک ہنگامی اجلاس بلائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے میانمار میں مسلمانوں کے قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کا وحشیانہ قتل عام ایسی حالت میں جاری ہے کہ جب انسانی حقوق کے مدعی ممالک اس سلسلے میں کسی رد عمل کا مظاہرہ نہیں کر رہے ہیں۔ادھر غزہ پٹی کے فلسطینیوں نے میانمار کے مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ جبکہ روس کی شیعہ کمیونٹی کے سربراہ نظامی بالو غلانف نے کہا ہے کہ میانمار کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اور اس المناک واقعہ پر یورپ والوں اور ان سے وابستہ ذرائع ابلاغ کی مکمل خاموشی یورپ کی رسوائي کا ایک اور ثبوت ہے۔
.......
/169