اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی - ابنا - کی رپورٹ کے مطابق، شام میں جاری بغاوت کو سعودی عرب اور قطر کے علاوہ ترکی، اسرائیل، امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی حمایت بھی حاصل ہے اور اس کا اصل مقصد قطعی زوال کا سامنا کرنے والی غاصب صہیونی ریاست کو بچانا ہے جس کے لئے اسلام کے نام سے ناجائز فائدہ اٹھایا جارہا ہے اور آل سعود کے بادشاہ اور دیگر حکام ایک بار پھر استعمار اور اسرائیل کی خدمت کے لئے اسلامی اخوت کا نام استعمال کررہے ہیں۔ آل سعود کے مطلق العنان بادشاہ ـ جو دنیا بھر میں فرقہ واریت کے لئے اربوں ڈالر سرمایہ کاری کرنے کے حوالے سے خاصے بدنام ہیں ـ نے "اسلامی یکجہتی" کے نام سے کانفرنس مکہ مکرمہ میں بلوائی ہے جو 15 اگست کو منعقد ہوگی۔ دنیا کے مسلمانوں اور غیرمسلموں کو معلوم ہے کہ شام کے خلاف عالمی سازش یہودی ریاست کو بچانا ہے لیکن آل سعود کے وزیر خارجہ "سعود الفیصل" نے کہا ہے کہ "یہ کانفرنس اسلام اور مسلمانوں کی خدمت اور وحدت کے لئے منعقد ہورہی ہے لیکن انھوں نے یہ نہيں بتایا کہ آل سعود کے نزدیک اسرائیل کی خدمت اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کیونکر سمجھی جارہی ہے۔ سعودی بادشاہ نے فرمان جاری کیا ہے کہ جمہوریت اور عوامی حقوق اور بادشاہت سے نجات کے لئے ترسنے والے بلادالحرمین فوری طور پر شام کے عوام کو مدد پہنچانے (!) کے لئے چندہ جمع کرائیں۔ بادشاہ نے بھی اس بات کی وضاحت نہیں کی ہے کہ ایک چھوٹے سے مسلح دہشت گرد ٹولے کو ایک ملک کے عوام کا لقب کیونکر دیا جاسکتا ہے جبکہ آل سعود اور آل ثانی کے علاوہ ترکی، اسرائیل اور امریکہ و یورپ نے بھی "ان ہی عوام" کو مدد پہنچانے کے لئے تشہیری مہم چلا رہے ہیں، ہتھیار شام میں داخل کررہے ہيں، جاسوسی کروا رہے ہيں اور شام کے اعلی حکام اور سائنسدانوں کو قتل کرنے ميں آل سعود اور آل ثانی کا ہاتھ بٹا رہے ہیں اور اس شرارت اور جرم کو شامی عوام کی مدد کا نام دیا جارہا ہے۔ اپنے عوام کی سوچ اور فہم و شعور تک پر قدغن لگانے والی آل سعود کی وزارت داخلہ نے بھی کہا ہے کہ شامی عوام کی مدد کے لئے امداد اکٹھی کرنے کی یہ مہم سعودی سرحدوں کے اندر چلائی جارہی ہے۔ یاد رہے کہ شام میں اسرائیل و امریکہ مخالف مزاحمت محاذ کو توڑنے کی غرض سے شروع کرائی جانے والی بغاوت کے آغاز سے ہی آل سعود اور قطر پر مسلط خاندان آل ثانی نے اس بغاوت کی اعلانیہ حمایت کا اعلان کیا ہے اور اس ملک میں فوجی اور مالی امداد نیز افرادی قوت بھجوا رہے ہیں۔
تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:
وہابی دعوت؛ حضرت زینب (س) کا حرم منہدم کیا جائے
.......
/169