ابنا: اطلاعات کے مطابق اسماعیل کوثری نے کہا کہ میمانمار کے مسلمانون کا قتل عام خاص اہداف کے تحت جاری ہے اور نسلی تصفیہ کی یہ سازش سامراج نے بنائي ہے جس کا ہدف شام کے حالات سے رائےعامہ کو منحرف کرنا ہے۔ انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم ، او آئي سی ، اور انسانی حقوق تنظیموں سے میانمار کی صورت حال کا جائزہ لینے کےلئے ماہرین کی ٹیم روانہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔مجلس اعلائے اسلامی عراق کے ایک عہدیدار سید صدرالدین القبانچی نے میانمار میں مسلمانوں کے قتل عام کی مذمت کی ہے۔ سید صدرالدین القبانچی نے، جو نجف اشرف کے امام جمعہ بھی ہیں ، میانمار میں مسلمانوں کےقتل عام پر عالمی برادری کی خاموشی کی مذمت کی۔پاکستان میں بھی مذہبی جماعتوں نے میانمار میں مسلمانوں کے قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے اس المیئے کی روک تھام کی اپیل کی ہے۔دریں اثنا اسلامی جمہوریہ ایران کی یونیورسٹیوں کے طلباء نے تہران میں اقوام متحدہ کے دفتر کےسامنے اجتماع کرکے میانمار میں مسلمانون پر ڈھائے جانے والے مظالم اور ان کے قتل عام کی مذمت کی ہے۔فارس نیوز کی رپورٹ کے مطابق اسلامی یونین کی دعوت پر ایران کی یونیورسٹیوں کے طلباء نے امریکہ اور صہیونی ریاست کے خلاف نعرے لگائے اور مختلف علاقوں بالخصوص میانمار میں مسلمانوں پر جاری تشدد کی مذمت کی۔قابل ذکر ہے کہ میانمار میں ایک عرصے سے مسلمان حکومت کے تشدد اور امتیازی سلوک کا شکار ہیں اور صوبہ راخین میں حالیہ تشدد میں اسی مسلمان جاں بحق اور تیس ہزار بے گھر ہوچکے ہیں۔ میانمار کی حکومت تقریبا دس لاکھ مسلمانوں کو اقلیت کی حیثیت سے تسلیم نہیں کرتی ہے اور انہیں کسی طرح کے حقوق حاصل نہیں ہیں۔...../169
18 جولائی 2012 - 19:30
News ID: 330195
اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی میں خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کمیشن کے رکن اسماعیل کوثری نے کہا ہے کہ میانمار میں مسلمانوں کا قتل عام یقینا" سامراج کی سازش ہے۔