17 جولائی 2012 - 19:30

صہیونی ریاست میں سیاسی بحران کاسلسلہ جاری ہے اور اس حکومت کو سیاسی لحاظ سےسنگین حالات کاسامناہے۔ اس سلسلےمیں شائول موفاز کی کادیماپارٹی وزیراعظم نتن یاہوکی کابینہ سےالگ ہوگئی ہے۔

ابنا: کادیما پارٹی کےاس فیصلےسے صہیونی ریاست میں موجود شگاف کھل کرسامنےآگیاہے۔شاؤل موفاز نےاعلان کیاہےکہ انتہاپسند ارتھوڈکس یھودیوں کےلئےجبری سروس کےمسئلےکی وجہ سےوہ کابینہ سےباہرنکل رہے ہيں۔صہیونی وزیراعظم بنیامن نتن یاھو اور نائب وزیراعظم شاؤل موفاز کےدرمیان موجود اختلافات حل نہ ہونےکی وجہ سے اسرائیلی کابینہ کا نیا اتحاد بھی جلدہی شکست سےدوچارہوگیاجس کی وجہ سے صہیونی ریاست سیاسی اورساتھ ہی پیچیدہ بحران سےدوچارہوگئی ہے۔پارلیمنٹ کوتحلیل ہونےاورقبل ازوقت انتخابات سےبچنےکےلئے بنیامین نتن یاھو نے نیااتحاد قائم کیاتھا لیکن صرف ڈھائی مہینےمیں ان کی کابینہ کا شیرازہ دوبارہ بکھرگیا۔بنیامین نتن یاھو کی جانب سےنئی کابینہ کی تشکیل نے اس وقت تو ان کی حکومت بچالی ہے لیکن نئی سیاسی جماعتوں کی مدد سےاتحادی کابینہ کی تشکیل نہ صرف صہیونی ریاست میں سیاسی اختلافات میں کمی کاباعث نہیں ہوگی بلکہ بنیامین نتن یاھو کےاس عجولانہ قدم نے صہیونی ریاست کوایک بارپھر بحران اورآشفتگی کےنئےدور میں پہنچا دیاہے ۔صہیونی ریاست کےحالات اب پارلیمنٹ کی تحلیل اور قبل ازوقت انتخابات کےانعقاد کی جانب گامزن ہيں۔ اوردوسری صورت  میں ایک بارپھرایک غیرمستحکم کابینہ تشکیل دینی پڑےگی ۔ سیاسی ماہرین کاخیال ہےکہ سیاسی بیچینی اور اقتصادی مسائل نےیہ امکان پیدا کردیاہے کہ مختلف سازشوں کےباوجود نتن یاھو کی کابینہ دوہزارتیرہ تک اپناکام جاری نہ رکھ سکےگی۔ تجزیہ نگاروں کاخیال ہےکہ موجودہ حالات میں قبل ازوقت پارلیمانی انتخابات کےانعقاد سےنہ صرف سیاسیی مسائل حل نہيں ہوں گے بلکہ اس حکومت کونئےمسائل کاسامنا کرناپڑےگاجس کےنتیجےمیں یہ جعلی حکومت سیاسی تباہی کےدہانےپرپہنچ جائےگی ۔صہیونی ریاست میں سیاسی تنازعات اورطاقت کی جنگ کانیاسلسلہ ایسےعالم میں جاری ہےکہ احتجاجی مظاہروں اورشہریوں کی بھوک ہڑتال کےسلسلےنے اس حکومت کےمختلف اقتصادی شعبوں کومفلوج کرکےرکھ دیاہے۔ مذکورہ مسائل نے صہیونی ریاست کےمختلف شعبوں کو پہلےسےزيادہ متزلزل کردیاہے اوراس سےپتہ چلتاہے کہ وہ اندر سےشکست وریخت کی جانب بڑہ رہی ہے۔

........

/169