16 جولائی 2012 - 19:30

سعودی عرب کے مشرقی علاقے کے بگڑتے حالات اور عوامی تحریک کا اثر مدینہ منورہ اور ریاض سمیت جیسے اہم علاقوں تک پہنچنے کی بنا پر اس ملک کے رہنماؤں کی نیندیں حرام ہوگئیں ہیں بعض اخباروں کے مطابق سعودی عرب کے بعض شاہزادے اپنے ساز و سامان کے ساتھ ملک سے بھاگھنے کے فراق میں ہیں۔

ابنا: بعض اخباروں کے مطابق سعودی عرب کے بعض شاہزادے اپنے ساز و سامان کے ساتھ ملک سے بھاگھنے کے فراق میں ہیں۔  اس وقت یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ ریاض کے حکمرانوں کی بے سوچی سمجھی تدبیروں  سے امریکہ کے سیکورٹی اہلکاروں کو پریشانی لاحق ہوگئی ہے اور سعودی عرب میں تیونس، مصر ، لیبیا اور یمن جیسے حالات پیدا ہونے کی وجہ سے ان پر خوف و وحشت طاری ہوگئی ہے جس نے سعودی عرب کے موجودہ حکمرانوں کو ملک کے داخلی صورتحال کوفوجی رنگ دینے پر مجبور کردیا ہے۔ سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں سیکڑوں فوجیوں کا بھیجنا اس بات کی علامت ہے کہ شہر مدینہ منورہ میں بھی سیکورٹی کی ضرورت ہے اور مدینہ منورہ کے مختلف علاقے بالخصوص نبی کریم (ص) کے حرم مطہر کے اطراف کا علاقہ فوجی چھاؤنی میں تبدیل ہوگیا ہے یہاں تک کہ مدینہ منورہ کی پولیس کی گاڑیاں حرم نبوی کے صحن کے اندر داخل ہورہی ہیں اور صحن نبوی میں فوج نے اپنا قبضہ جما رکھا ہے ۔اس ملک کے بگڑتے حالات آل سعود کے خوف و ہراس کی نشاندہی کرتے ہیں سعودی عرب کے وزیر داخلہ نے بھی خبر دار کیا ہے کہ ہم کسی کو بھی اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ ملک کے امن وسکون کو خراب کردے یہ دھمکی ایسے موقع پردی گئی  ہے کہ سعودی عرب میں عوامی انقلاب کی گھنٹی بج چکی ہے ۔شاید سعودی عرب کے کسی بھی رہنما یا شہزادے نے کبھی بھی یہ تصور نہیں کیا ہوگا کہ کبھی ایسا وقت بھی آن پڑےگا کہ سعودی عرب کے عوام کھلم کھلا سڑکوں پر نکل کرحکومت آل سعود کی سر نگونی کے لئے نعرے بلند کريں گے جب کہ عوام کا سڑکوں پر نکل کر اس طرح حکومت کے خلاف نعرے بلند کرنا اس ملک کے موجودہ تمام حکمرانوں کے غرور و تکبر کو خاک میں ملانے کے مترادف ہے ۔برسوں سے عبد العزیز کی اولادیں یکے بعد دیگرے مطلق العنان حکمرانوں کی طرح سعودی عرب کی حکومت پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں اور شاہی خاندان کے ہاتھوں میں ملک کا اقتدار اور اسی کے ساتھ ساتھ ملک میں عوام کی سرکوبی اور تعصب آمیز پالیسیوں کے اجراء نے پہلے سے زیادہ اس ملک کے موجودہ سیاسی نظام کے راز کو سب پر واضح کردیا ہے ، آزادی ، شہریوں کے حقوق یہاں تک کہ انسانی حقوق ایسے موضوعات ہیں جس کامعنی اور پاس و لحاظ سعودی عرب کے حکمرانوں کی لغت میں موجود نہیں ہے اس کے علاوہ آل سعود کے خاندان میں جو فسادات موجود ہیں وہی سعودی عرب میں عوامی تحریک اور انقلاب کا سبب بنا ہے اور عوام روز بروز ان کی جڑیں  کھود رہی ہیں ۔اگر چہ علاقے میں اسلامی بیداری کی لہروں اور تیونس ، مصر، لیبیا ، یمن اور بحرین کے انقلابی تجربات نے سعودی عرب کے عوام کو اس شاہی حکومت کے ظلم وستم کے خلاف کھڑا کردیا ہے لیکن یہ بھی ظاہر ہورہا ہے کہ سعودی عرب کے داخلی مسائل اور سعودی عرب کے شہزادوں کے درمیان اقتداروحکومت کی جنگ بھی اس ملک میں انقلابی تحریک کا سبب بنی ہے ۔سعودی عرب کے عوام کی نظریے کے مطابق ایسے حالات میں جب کہ آل سعود کا خاندان شدید بحران سے دوچار ہے اس وقت اپنے ان حقوق کی بازیابی کےمطالبے کا بہترین موقع ہے جسے برسوں سےکچلا اور نظر انداز کیا جارہا تھا۔یہ بات حقیقت ہے کہ اس وقت سعودی عرب کو امن و ثبات کا جزیرہ نہیں کہا جاسکتاہے مگر حکومت ریاض کے اعلی حکام اس خیال خام میں ہیں کہ سخت سے سخت فوجی کاروائیاں کرکے دوبارہ سعودی عرب کے اقتدار پر قبضہ جمالیں گے ۔حالانکہ اس وقت سعودی عرب میں نئی تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں اگر چہ ابھی ان حالات کے بارے میں کوئی تبصرہ کرنا قبل از وقت  ہوگا لیکن یہ بات ہر ایک کے لئے واضح وروشن  ہے کہ سعودی عرب کے شہزادوں کی مقابلہ آرائی ایک ڈراونے خواب میں تبدیل ہوگئی ہے اور آل سعود کے حکمرانوں کا مستقبل تاریک نظر آرہا ہے ۔.....

/169