15 جولائی 2012 - 19:30

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا گیارہ رکنی وفد غزہ کی صورت حال اوراس محاصرہ شدہ علاقے میں صہیونی ریاست کے حملوں کا جائزہ لینے کے لیے رفح کی سرحدی گذرگاہ کے راستے غزہ میں داخل ہوگیا ہے ۔

ابنا: غزہ میں انسانی حقوق کی صورت حال  کہ جو اس علاقے پر صہیونی ریاست کے حالیہ حملوں کی بنا پر انتہائی مخدوش ہوگئی ہے ۔ اور اسرئیل کی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کی صورت حال پر غور اقوام متحدہ کے اس وفد کے ایجنڈے کے جملہ نکات ہیں ۔ اسرائیل کی جیلوں میں سینیئر قیدیوں کی تعداد 63 تک پہنچ گئی ہے ۔ اور یہ وہ قیدی ہیں کہ جو ایک طویل مدت سے اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں ۔" فلسطینی سینیئر قیدیوں" کی اصطلاح ان قیدیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں جن کی اسرائیلی جیلوں میں قید کی مدت 20 سال سے زیادہ ہوچکی ہے ۔ بیت المقدس ،غرب اردن اور غزہ پر غاصبانہ قبضے  کے چالیس برسوں کے دوران صہیونی ریاست کی جیلوں میں ھمیشہ ہزاروں فلسطینی قید رہے ہیں ۔ ان جیلوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ھزاروں فلسطینی کہ جنہیں ان کے گھروں سے اغوا کیا گیا  یا صہیونی ریاست کے حملوں کے دوران گرفتار کیا گیا مقبوضہ فلسطین منتقل کردیا جاتا ہے ۔

صہیونی ریاست کے جیلوں کی ناگفتہ بہ صورت حال ۔ روشنی کا کم ہونا ۔ ماحول کا نا مناسب ہونا ۔ طبی سہولیات کا فقدان ۔ قیدیوں کو نفسیاتی ایذائیں پہنچانا ۔ اور شدید بیماری کی حالت میں قیدیوں کو علاج معالجے سے محروم رکھنا ۔ یہ وہ جملہ موارد ہیں کہ عالمی برادری جس پر بارہا احتجاج کرتی رہی ہے ۔

صہیونی ریاست کے جیلوں کی المناک صورت حال نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کے وفد کو غزہ آنے پر مجبور کردیا تا کہ غزہ میں اسرائیل کے وحشیانہ اقدامات پرغور کے ساتھ اسرائیل کو انسانی حقوق کے دائرے میں فلسطینی قیدیوں کے حقوق کی رعایت کا پابند کرے ۔ خاصطور پر ایسے میں جبکہ 2007 سے لیکر اب تک غزہ پر اسرائیل نے اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور غزہ کا مکمل محاصرہ کیا ہوا ہے ۔ اس صورت حال نے غزہ کو ایک قیدخانے میں تبدیل کردیا ہے ۔

 گذشتہ پانج برسوں کے دوران غزہ کے رہائشی  علاقے پر صہیونی ریاست کی بمباری اور اس علاقے کے عوام کے بہیمانہ قتل عام نے اسرائیل کو غزہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ریکارڈ ہولڈر بنادیا ہے ۔ صہیونی ریاست کی جانب سے غزہ کا طویل محاصرہ  جنگی جرائم کے مترادف ہے  اور عالمی برادری نے اس کا اعتراف بھی کیا ہے ۔

 غزہ کے جاری محاصرے کے ساتھ اس علاقے میں صہیونی ریاست کے وحشیانہ حملوں نے اقوام متحدہ کے وفد کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ غزہ کی تشویشناک صورت حال کے حوالے سے رپورٹ تیار کرنے کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے معاہدے کے دائرے میں فلسطینی قیدیوں کی صورت حال پر بھی غور کرے ۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل کے خلاف سو سے زیادہ قراردادوں کا جاری ہونا فلسطینی عوام کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی واضح مثال ہے ۔ اگر چہ غاصب صہیونی ریاست امریکہ کی پشت پناہی کے ساتھ ھمیشہ اقوام متحدہ کے سامنے ڈٹی رہی ہےاور صہیونی ریاست نے ھمیشہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نظرانداز کیا ہے ۔

.......

/169