12 جولائی 2012 - 19:30

ملی یکجہتی کونسل کا قیام نعمت الٰہی سے کم نہیں۔ اس کا ادراک صرف وہی کر سکتے ہیں جنھیں اتحاد امت کی اہمیت کا اندازہ ہے.

ابنا: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی نے کہا ہے کہ امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز اور مشکلات سے اس وقت تک کامیابی سے نمٹانہیں جا سکتا جب تک ہم صدر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کو اپنے لئے مشعل راہ قرار نہ دیں۔ ملی یکجہتی کونسل کا قیام ملک کی موجودہ سیاسی اور مذہبی صورتحال کے پیش نظر کسی نعمت سے کم نہیں اور اس امر کا ادراک صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جنھیں امت کی وحدت کی اہمیت کا اندازہ ہے۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے میریٹ ہوٹل اسلام آباد میں ملی یکجہتی کونسل کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسالک کے مابین مشترکات کے فروغ سے ہی امت واحدہ کا خواب شرمندہ تعبیرہوسکتا ہے۔اس عظیم اور نیک مقصد کے حصول کے لئے ہمیں بڑی دانشمندی کے ساتھ چلنا ہو گا۔ تنقید آسان جب کہ تعمیر و اصلاح کا مرحلہ انتہائی دشوار گزار اور مشکل امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل کا احیاء پاکستان میں بسنے والے تمام مکاتب فکر کے افراد کے لئے امید کی کرن ثابت ہو سکتا ہے۔ ملی یکجہتی کونسل میں قائم کردہ مصالحتی کمیشن کی فعالیت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے علامہ امین شہیدی نے کہا کہ اس کمیشن کی فعالیت محرم الحرام، سفر اور ربیع الاول تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ وطن عزیز میں مذہبی منافرت کی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے پورا سال ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہو گا تاکہ اسلام اور پاکستان دشمن قوتیں جو ہماری صفوں میں دراڑیں پیدا کر کے ہمیں کمزور کرنے میں مصروف عمل ہیں ان کے مکروہ اور ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان باہمی احترام کی پالیسی کو فروغ دینے کے لئے مصروف عمل ہے ۔......./169