ابنا: سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں حالیہ چند دنوں میں رونما ہونے والے واقعات اور ان علاقوں میں عوامی احتجاج میں شدت نے آل سعود حکومت کے لئے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔گزشتہ چند دنوں کے دوران سعودی عرب کے مشرقی شہروں قطیف اور عوامیہ میں بڑے پیمانے پر لوگوں نے مظاہرے کئے جو سعودی عرب کے حکمراں نظام کی سرنگونی کا مطالبہ کررہے تھے۔ان مظاہروں میں سیکورٹی فورسز کے حملے سے تشدد پھوٹ پڑا اور کئي افراد جاں بحق اور زخمی ہوگئے۔اس درمیان ممتاز شیعہ سعودی عالم دین شیخ نمر باقر النمر کے زخمی ہونے اور پھر سعودی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں ان کی گرفتاری سے سعودی حکمرانوں کے ظلم و ستم سے مقابلے کے لئے سعودی عرب کے مشرقی علاقوں کے لوگوں کے عزائم مزید مضبوط ہوئے ہیں اور آل سعود کو بھی اس امر سے وحشت ہوگئي ہے۔سعودی حکام کوملک کے مشرقی علاقوں کے عوامی قیام کے ملک کے دیگر علاقوں میں پھیلنے کا خوف لاحق ہے جو مشرقی علاقوں کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کرنے کا موجب بنا ہے۔بعض رپورٹوں کے مطابق سعودی حکام کا ملک کے مشرقی علاقوں میں تین ہزار فوجی بھیجنے کا منصوبہ ہے۔سعودی فوجیوں کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں اور فوجیوں سے کہا گیا ہے وہ قطیف اور عوامیہ شہروں میں جانے کے لئے تیار رہیں۔سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں تین ہزار فوجی بھیجنے کا مقصد ان علاقوں میں عوامی قیام کا مقابلہ کرنا بتایا گيا ہے لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا طاقت اور تشدد پر مبنی پالیسی سے کسی قوم کی عدل و انصاف اور آزادی کی آواز کو دبایا جاسکتا ہے؟سعودی عرب میں آل سعود خاندان کے تسلط پر مبنی ایک سیاسی روایتی نظام کی حکمرانی ہے اور ملک کا انتظامی طریقہ ایک حاکم اقلیت کے مذہبی تعصبات کی بنیاد پراستوار ہے۔یہ مسئلہ حالیہ برسوں میں سعودی عرب میں عوامی ناراضگی کا سبب بنا ہے لیکن چونکہ سعودی عرب میں گھٹن کا ماحول ہے اس لئے وہاں ہر مخالف آواز کو دبا دیا جاتا ہے۔تاہم اب جبکہ علاقے میں اسلامی بیداری کی تحریک شروع ہوچکی ہے سعودی عرب بھی نئي علاقائي صورت حال سے متاثر ہوا ہے۔گزشتہ ایک سال سے سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں مظاہرے ہورہے ہیں اور اس دوران دسیوں سعودی جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ بہت سے افراد کو گرفتار کیا گیا ہے لیکن آل سعود حکام کے ظلم و ستم سے مقابلے کے سلسلے میں عوامی عزم و ارادے میں ذرہ برابر بھی خلل نہیں پڑا ہے بلکہ قطیف شہر کے انقلابی نوجوانوں نے سعودی حکام کو خبردار کرتے ہوئے ممتاز عالم دین شیخ نمر کو رہا کرنے کے لئے پانچ دن کی مہلت دی ہے۔قطیف شہر کے انقلابی نوجوانوں نے گزشتہ روز ایک بیان جاری کرکے کہا ہے کہ اگر پانچ دن کے اندر شیخ نمر کو رہا نہیں کیا گیا تو وزارت داخلہ سے وابستہ تمام مراکز پر حملہ کیا جائے گا اور الشرقیہ علاقے میں واقع تیل کے کنووں میں آگ لگا دی جائے گي۔ادھر آل سعود خاندان کے اندر سعودی بادشاہ شاہ عبداللہ کی جانشینی پر اختلاف رائے کی خبریں ہیں۔درحقیقت کہا جاسکتا ہے کہ اس وقت سعودی عرب کے مشرق میں عوامی احتجاج کے علاوہ آل سعود حکام شاہی خاندان میں اقتدار کی جنگ سے بھی پریشان ہیں۔اس بناپر بعض سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ شیخ نمر کی گرفتاری پر مبنی سعودی حکومت کا اشتعال انگیز اقدام نافرمان سعودی شہزادوں کے سامنے ملک کے مشرق میں ہونے والے واقعات کو نمایاں اور شہزادوں کو متحد کرنے کی ریاض کی ایک کوشش ہے لیکن جو چیز ناقابل انکار ہے وہ یہ ہے کہ سعودی عرب کو کشیدہ اور سخت صورت حال کا سامنا ہے۔سعودی حکام کے خلاف احتجاج تقدیر ساز مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔آل سعود حکومت اس خیال میں ہے کہ طاقت کے استعمال سے عوامی قیام کو روک لے گی لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ آل سعود حکومت جتنا زیادہ تشدد سے کام لیتی ہے احتجاج ایک نئي شکل اختیار کرلیتا ہے اور یہ صورت حال حکومت کی بنیادیں متزلزل ہونے کے مترادف ہے۔وہ حکومت جو آل سعود خاندان کے بانی عبدالعزیز سے ان کے بیٹوں کو ورثے میں ملی ہے۔ ......./169
12 جولائی 2012 - 19:30
News ID: 328799
ثبوت و شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب کو ان دنوں بحرانی حالات کا سامنا ہے۔