8 جولائی 2012 - 19:30

اگر چہ سعودی عرب کی حکومت نے ملک میں مظاہرہ کرنے پر پابندی عائد کردی ہے لیکن اس کے باوجود ملک کے مختلف شہروں میں عوام نے آل سعود کے خلاف زبردست مظاہرے کئے ہیں۔ عوامیہ اور قطیف کے عوام نے بھی گذشتہ روز آل سعود کے خلاف وسیع پیمانے پر مظاہرہ کرکے ملک کے نظام کے خلاف نعرے لگائے۔

ابنا: القطیف اور العوامیہ کے مظاہرین نے خالی ہاتھوں آل سعود کی جدید ترین ہتھیاروں سے لیس فوج کے  مقابل ، اللہ اکبر ، آل سعود مردہ باد اور حکومت کی پسپائی کے لئے نعرے لگائے۔ مظاہرین نے اجتجاج کے دوران اس بات پر بھی تاکید کی کہ ہم آل سعود کی گولیوں سے ہراساں نہیں ہیں اور آل سعود کی حکومت کی سرنگونی تک اپنے مظاہرے جاری رکھیں گے۔

مظاہرے کے دوران سعودی عرب کے سیکورٹی اہلکاروں نے مظاہرین پر مشین گنوں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں تین افراد جاں بحق ہوگئے۔ حالانکہ اس سے پہلے لبنان کے المنار ٹی وی چینل نے اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب کے سیکورٹی اہلکاروں نے شیخ باقر نمرالنمر کی رہائی کے سلسلے میں سعودی عرب کے مشرقی علاقے القطیف میں ہونے والے مظاہرے میں اندھا دھند گولیاں چلائیں تھی جس کے نتیجے میں دوافراد جاں بحق ہوگئے  تھے۔

اسی طرح آل سعود کے سیکورٹی اہلکاروں نےحکومت آل سعود کے زبردست مخالف شیخ نمر النمر کو بھی مظاہرے کے دوران گرفتار کیا تھا۔

شیخ نمر النمر نے گرفتاری سے پہلے اپنی تقریر میں آل سعود کے درمیان اقتدار کی جنگ اور اس کےاندرونی اختلافات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم اپنی قوم کو شہادت و کرامت ، انسانی شرافت ، آزادی ۔ عدالت اور آل سعود کی حکومت سے نجات دلانے کے لئے شہادت کے لئے آمادہ و تیار ہیں۔

سعودی عرب کے مغربی شہر مدینہ منورہ کے عوام نے بھی مظاہرہ کرکے برسوں سے آل سعود کی جیلوں میں بے جرم و خطا قید ہونے والے سیاسی افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا اور سعودی عرب کی جیلوں میں مقید سیاسی افراد پر ہونے والے ظلم و شکنجے کے فوری روکنے اور ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ بھی کیا۔

اسی طرح جمہوری مرکز اور سعودی عرب کی انسانی حقوق تنظیم کے صدر علی الیامی نے سیاسی اور حکومت مخالف افراد کی گرفتاری کے خلاف سعودی عرب کے مختلف علاقوں  میں آئندہ  ہونے والے شدید مظاہروں کے بارے میں خبردار کیا ہے ۔

ادھر ایمنسٹی انٹرنیشنل تنظیم نے اپنی حالیہ رپورٹ میں حکومت آل سعود کے سیکورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں مظاہرین کے بے رحمانہ قتل اور سرکوبی کے خلاف سخت مذمت کا اظہار کرتے ہوئے تاکید کی کہ سعودی عرب نے ریڈ لائن سے تجاوز کیا ہے اور اپنے ملک میں اصلاحات کے لئے کوئی ٹھوس اقدام انجام نہیں دیا ہے۔

انسانی حقوق تنظیم کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب ميں سیاسی قیدیوں کی تعداد تیس ہزار تک پہنچ چکی ہے جو آل سعود کے ظلم و بربریت اور غیر اخلاقی تشدد کا شکار ہیں جب کہ ان ميں سے بہت سے افراد ایسے ہیں جن پر کوئی جرم ثابت نہیں ہے اس کے باوجود وہ قید وبند  کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں  ۔

سعودی عرب میں تشدد آمیز اقدامات اور غیر منصفانہ محاکموں کا سلسلہ اب بھی بدستور جاری ہے ، اسی طرح سعودی عرب میں شدید ایذاؤں ، غیر انسانی تشدد اور توہین آمیز واقعات میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔

سعودی عرب کی انسانی حقوق تنظیم کے ایک فعال رکن جعفر الشایب نے حال ہی میں آل سعود کی قید سے رہا ہونے والے ایک شخص، کہ جس پر سخت تشدد ہوئے تھے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے حکومت آل سعود  سے اس غیر انسانی اقدامات کے فوری روکنے کا مطالبہ کیا ہے ۔

تقریبا ایک برس سے سعودی عرب میں آل سعود کی تعصب آمیز پالیسیوں ، حکومت میں موجود ظلم و جارحیت ، انسانی حقوق کے نظر انداز کئے جانے اور سیاسی قیدخانوں میں مقید افراد کی رہائی کے سلسلے میں عوام نے ملک کے مختلف علاقوں میں وسیع پیمانے پر مظاہرے کرکے اپنے انسانی حقوق کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے اور حکومت آل سعود کی سرنگونی کے درپے ہیں۔.......

/169