4 جولائی 2012 - 19:30

ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی پیغمبر اعظم سات فوجی مشقوں کو عالمی میڈیا نے بھرپورکوریج دی ہے ۔

ابنا: عالمی ذرائع ابلاغ نےسپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی فوجی مشقوں کونہایت اہمیت کاحامل قراردیتےہوئے انہیں ایران کی دفاعی توانائیوں کامظہرقراردیا۔ فارس نیوز کی رپورٹ کے مطابق عالمی میڈیا کے مطابق یہ مشقیں پابندیوں کے باوجود خطروں کے مقابلے میں ایران کی میزائيلی پیشرفت کی نشانی ہیں۔ سپاہ پاسداران نے اپنی فوجی مشقوں کے آخری مرحلے میں خلیج فارس نامی میزائل کا کامیاب تجربہ بھی کیا ہے۔ یہ میزائل سمندری اھداف کی طرف داغے گئے۔ سپاہ نیوز کے مطابق ان فوجی مشقوں میں فضائیہ کے لڑا کا اور ڈرون طیاروں نے دشمن کے ٹھکانوں پر حملے کئے۔ منگل کےدن ان مشقوں کا اہم ترین مرحلہ انجام پایاتھا جس میں مختلف فاصلوں پر مار کرنے والے میزائلوں کے کامیاب تجربے کئے گئے تھے۔ ان مشقوں کےدوران شہاب ایک، شہاب دو، شہاب تین ، فاتح ، تندر ، زلزال، خلیج فارس، اور قیام نامی میزائل داغے گئے جنہوں نے کامیابی سے اپنے اھداف کو نشانہ بنایا۔ ان میزائلوں کےتجربے کے بعد اسوشیٹڈ پریس نے امریکی فوجی اڈوں پر ایران کےتندوتیزحملوں کے خطرے کے زیر عنوان سپاہ پاسداران کے عھدیداروں کے حوالے سے لکھا ہےکہ ایران علاقے میں امریکہ کے فوجی اڈوں کو تباہ کرسکتا ہے اور اسرا‏ئیل کےحملوں  کےچند منٹوں بعدہی اس پر بھی حملے کرسکتا ہے۔

اس نیوز ایجنسی نے علاقے میں امریکی فوجی اڈوں پر حملہ کرنے کی ایران کی توانائيوں کے بارے میں سپاہ پاسداران کے ایرو اسپیس کے سربراہ جنرل امیر علی حاجی زادہ کے بیان کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحرین میں امریکی بحریہ کا پانچواں بیڑا پوری طرح سے ایران کے میزائلوں کی زد میں ہے۔ برطانوی اخبار گارڈین نے لکھا ہےکہ ایران نے پیغمبر اعظم سات فوجی مشقوں میں شہاب تین سمیت مختلف طرح کے میزائلوں کا تجربہ کیا ہے جن کی رینج ایک ہزار دوسو کلومیٹر بتائي جاتی ہے اور اس سے اسرائيل کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ گارڈین نے لکھا ہے کہ ان فوجی مشقوں سے ایران کا مقصد پابندیوں کے باوجود اپنی میزائلی صنعت میں پیشرفت کامظاہرہ کرنا ہے۔ ادھر امریکی اخبار کرسچین سائنس مانیٹر نے لکھا ہے کہ ایران نے پیغمبر اعظم سات فوجی مشقیں کرکے یہ پیغام دیا ہے کہ مغرب کی جانب سے ایران کو خطرے اور حملے کی صورت میں نہایت شدید جواب دیا جائے گا ۔ اس اخبار نے لکھا ہےکہ یہ فوجی مشقیں امریکہ کو واضح پیغام دے رہی ہیں۔

واضح رہے کہ ایران میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے پیر سےبدھ تک پیغمبراعظم سات فوجی مشقیں کی تھیں جن میں مختلف طرح کے میزائلوں کا کامیاب تجربہ کیا گيا ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ کی جانب سے ایران کی ان فوجی مشقوں کوایسےعالم میں خطرہ اوردھمکی بناکرپیش کیاجارہاہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کےوزیر دفاع پہلےہی کہہ چکےہيں کہ ایران علاقے کے ملکوں کو امن اور دوستی کا پیغام دیتا ہے۔ جنرل احمد وحیدی نے سپاہ پاسداران کی میزائلی مشقوں کےبارے میں کہا کہ ان مشقوں سے ایران کی مسلح افواج کی توانائياں ظاہر ہوتی ہیں اور جو ممالک ایران کے خلاف جارحانہ عزائم رکھتے ہیں انہیں ایران کی جانب سے شدید جواب کے لئے تیار رہنا ہوگا۔

اس میں کوئی شک نہيں کہ کسی بھی ملک کی فوجی مشقوں کابنیادی مقصد اپنی فوجی صلاحیتوں اورتوانائيوں کااندازہ لگاناہوتاہےلیکن اس کےساتھ ہی دشمن ملکوں یاحملےکامذموم ارادہ رکھنےوالوں کویہ پیغام بھی دیناہوتاہے کہ کسی بھی طرح کی جارحیت کامنہ توڑجواب دیاجائےگا جبکہ علاقےکےملکوں کےلئےپیغمبراعظم فوجی مشقوں کاپیغام امن ودوستی ہے۔ ........

/169