اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مصر کے منتخب صدر محمد محمد المرسی نے کل جمعہ کے روز میدان التحریر میں حاضر ہوکر علامتی طور پر اپنی صدارت کا حلف اٹھایا جبکہ میدان میں ان سے کوئی حلف لینے والا نہ تھا بلکہ ان کا علامتی حلف در حقیقت عوام سے ان کے خطاب کا حصہ تھا۔ میدان التحریر میں المرسی کی تقریر کو بہت سے سیٹلائٹ چینلز نے براہ راست نشر کیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ عوام کے ساتھ اپنے رشتے کسی صورت میں بھی ٹوٹنے نہيں دیں گے۔انھوں نے کہا: یہ میرے لئے فخر و اعزاز کا مقام ہے کہ میں مصر کا پہلا منتخب صدر ہوں اور میدان التحریر نے درحقیقت نئے مصر کو جنم دیا ہے۔ انھوں نے شہدائے انقلاب کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ شہداء نے اپنے پاک خون سے آزادی کے شجر کی آبیاری کی ہے۔ انھوں نے کہا: میں اسلام پسند ہوں لیکن یہ بات درست نہيں ہے کہ میں اہل فن و ہنر کے لئے رکاوٹیں کھڑی کروں گا میں اہل فن و ہنر اور ذرائع ابلاغ کا تہہ دل سے احترام کرتا ہوں۔انھوں نے عوام سے مخاطب ہوکر کہا: آپ اس حکومت کے مالک ہیں اور آپ ہی اقتدار کا سرچشمہ ہیں اور آپ ہی اس حکومت کو قانونی حیثیت دینے والے ہیں چنانچہ میں نے آپ کے جو بھی وعدے دیئے ہیں ان پر عمل کروں گا۔انھوں نے کہا: کوئی بھی طاقت مصر میں انقلاب کی قوت سے بالاتر نہیں ہے اور مجھ جیسا کوئی بھی آپ کے حقوق کم نہيں کرے گا کیونکہ کوئی بھی ادارہ عوامی ارادے سے بالاتر نہيں ہے۔ انھوں نے اپنے علامتی حلف کو ہی باقاعدہ اور رسمی حلف قرار دیا وار کہا: میں خدا کے اور آپ (مصری عوام) کے ساتھ عہد کرتا ہوں کہ میں آپ کے جمہوری نظام کا تحفظ کروں گا۔ انھوں نے فوجی کونسل کا نام لئے بغیر، اس کونسل کی طرف سے صدر کے چھینے گئے اختیارات کی طرف اشارہ کیا اور کہا: میں صدر کے قانونی اختیارات پر کسی سے سمجھوتہ نہیں کروں گا۔مصر کے منتخب صدر نے اعتراف کیا کہ مصر کا انقلاب مکمل نہیں ہوسکا ہے اور میں عوام کے ساتھ مل کر انقلاب کے تمام اہداف کے حصول کے لئے کوشش کروں گا۔ محمد المرسی چند لمحوں کے لئے اپنے محافظوں کے گھیرے میں ڈائس کے پیچھے سے نکل کر اسٹیج پر آگئے اور عوام کے دوبدو کھڑے ہوگئے اور ان سے عہد کیا کہ وہ "شہداء کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے کیونکہ یہ میرے ذمے عوام اور شہداء کی امانت ہے اور اس مہم کو سر کرنے سے غفلت نہيں کروں گا"۔انھوں نے اپنے صدارت کے دوران اپنے بعض پروگراموں کی طرف اشارہ کیا اور خارجہ پالیسی کو محور فرار دیتے ہوئے کہا: مصر خارجہ پالیسی اور بیرونی تعلقات کے حوالے سے آزاد ہوگا اور کسی صورت میں کسی بیرونی طاقت سے وابستہ نہ ہوگا۔ انھوں نے ضمنی طور پر صہیونی ریاست کی دھمکیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہم صلح کا پیغام لے کر آئے ہیں لیکن اپنی قوم کی طاقت سے کسی بھی قسم کی جارحیت کا جواب دیں گے اور اپنوں کے بھی خبردار کرتے ہیں کہ مصر کی عزت و وقار کو نقصان پہنچانے سے باز رہیں۔انھوں نے کہا: میرے ہم وطنو! ہم ایک دوسرے کے تعاون سے خارجہ پالیسی کا نیا مفہوم سامنے لائیں گے اور تمام ممالک کی طرف دوستی کا ہاتھ پھیلائیں گے۔اقتدار پر قابض فوجی کونسل صدارتی انتخابات کرنے کے اپنے فیصلے سے کسی صورت میں بھی پیچھے نہیں ہٹے گیقابض فوجی کونسل اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹے گی دریں اثناء مصر سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق صدر محمد المرسی کے نعروں، وعدوں اور دعؤوں کے باوجود، مصر کے اقتدار پر قابض فوجی کونسل صدارتی انتخابات کرنے کے اپنے فیصلے سے کسی صورت میں بھی پیچھے نہیں ہٹے گی اور مصر کے تجزیہ نگاروں اور سیاستدانوں کی رائے بھی یہی ہے۔ اخوان المسلمین کی سیاسی شاخ "جماعت الحریۃ و العدالــۃ کی بیرونی تعلقات کمیٹی کے رکن "ولید الحداد نے جمعہ کے روز العالم سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ فوجی کونسل، اعلی آئینی عدالت کے سامنے صدر کی حلف برداری کے بعد، فوجی کونسل اتنی آسانی سے صدارتی اختیارات کم کرنے کے اپنے فیصلے سے پيچھے نہيں ہٹے گی گوکہ ہمیں امید ہے کہ صدر عوامی حقوق کے حصول کی کوشش کریں گے۔ انھوں نے کہا: صدر اپنی حلف برداری کے بعد انتظامی اختیارات سنبھالیں گے تا ہم مقننہ فوجی کونسل کے پاس ہے [کیونکہ اس کونسل نے پارلیمان کو انتخاب کے صرف ڈیڑھ مہینے بعد اس کی تحلیل کا اعلان کرلیا ہے اور اب مقننہ کے جس عدالت کے سامنے وہ آج بروز ہفتہ حلف اٹھائیں گے اسی عدالت نے کونسل کے کہنے پر نہ صرف پارلیمان کو تحلیل کرلیا ہے بلکہ صدارتی انتخابات بھی اسی عدالت نے اسی کونسل کے کہنے پر کم کردیئے ہیں]۔ انھوں نے کہا کہ ابھی تک مصری انقلاب کی کامیابی کا ایک بنیادی مرحلہ باقی ہے اور ہم عوام اور انقلابیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ صدر کی مدد کریں اور ان کی پشت پناہی جاری رکھیں تا کہ وہ اپنے غصب شدہ اختیارات واپس لے لیں۔ انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت نیز مصری عوام فوجی کونسل کی آئینی ترمیم کے خلاف ہیں کیونکہ یہ ترمیم در حقیقت فوج کو سیاست میں قائم و دائم رکھنے کی کوشش ہے۔ انھوں نے صدر مرسی کی میدان التحریر میں حاضری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مصر کی تاریخ میں پہلی بار ایک منتخب صدر میدان التحریر میں عوام کے سامنے حاضر ہوئے اور ان کے مطالبات پر عملدرآمد کرنے کا عہد کیا ہے اور پہلی بار کسی مصری صدر نے جامعۃالازہر جاکر نماز جمعہ میں شرکت کی ہے اور یہ مصری تاریخ کے نئے مرحلے کا آغاز اور انقلابی مصر کے دور کا ابتدائی نقطہ ہے۔ انھوں نے یقین ظاہر کہ کہ آنے والے مرحلے میں آئینی ترمیم اور پارلیمان کی تحلیل پر مبنی حکم کی منسوخی اور پارلیمان اور صدارتی اختیارات کی بحالی کے لئے، مصر کی تمامی سیاسی جماعتوں اور انقلابیوں کی طرف سے وسیع تر احتجاجی اقدامات کا سلسلہ شروع کیا جارہا ہے۔
...............
/110