اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مڈل ایسٹ آنلائن کی ویب سائٹ نے اپنی رپورٹ میں آل سعود کے فیصلہ ساز اداروں کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس نامور شیعہ عالم دین کو القطیف میں ان کے ایک دوست کے گھر سے گرفتار کیا گیا اور کل صبح 4 بجے انہيں الدمام منتقل کیا گیا۔ دریں اثناء آل سعود کی وزارت داخلہ نے اس رپورٹ پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے لیکن باخبر ذرائع کی رائے کہ آل سعود کے نئے وزیر داخلہ احمد بن عبدالعزیز ـ جو عرصہ دراز تک سابق وزیر داخلہ و ولیعہد نائف بن عبدالعزيز کے نائب رہے ہیں ـ اپنے دور وزارت کے آغاز پر ہی سیاسی اور مذہبی شعبوں میں فعال راہنماؤں پر سختی کرنا چاہتے ہیں اور اس طرح اپنے قدم جمانے کی کوشش کررہے ہیں۔اطلاعات کے مطابق ہردلعزیز اور شیعیان مظلوم کے پامال شدہ حقوق کے تحفظ کے علمبردار عالم دین کی گرفتاری کے بعد آل سعود نے الشرقیہ کے شیعہ اکثریتی علاقے، بالخصوص القطیف میں، کسی بھی احتجاج کا راستہ روکنے کے لئے زبردست حفاظتی اقدامات کئے گئے ہیں، سیکورٹی فورسز کو الرٹ کیا گیا ہے اور بڑی تعداد میں سیکورٹی فورسز مختلف علاقوں میں تعینات کی گئی ہیں۔آیت الله شیخ نمر باقر النمر بلاد الحرمین کے شیعہ عالم دین ہیں جو 1959 کو العوامیہ نامی قصبے میں پیدا ہوئے ہیں؛ ان کے والد بحرین اور الاحساء کے بڑے عالم دین سمجھے جاتے تھے جو اپنی حیات کے دوران متعدد بار آل سعود کے ہاتھوں گرفتار ہوئے اور اپنی عمر کا ایک حصہ اسیری میں بسر کیا۔ شیخ نمر النمر نے حوزہ علمیہ قم اور حوزہ علمیہ تہران میں علوم دین حاصل کئے ہیں اور آتشین خطبوں اور احتجاجی لب و لہجے کے لئے مشہور ہیں اور ان کے خطبے بلاد الحرمین اور خلیح فارس کی دوسری عرب ریاستوں کے عوام میں خاصے مقبول ہیں۔ انھوں نے اپنا آخری خطبہ جمعہ نائف بن عبدالعزیز کی موت کے بعد دیا جس میں انھوں نے آل سعود کی مطلق العنان حکمرانی کا مذاق اڑایا اور سعودی حکمرانوں کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی جس سعودی وزارت داخلہ نے انہیں گرفتار کرنا چاہا لیکن منطقۃالشرقیہ کے تاحیات گورنر محمد بن فہد نے انہیں گرفتار نہیں ہونے دیا تا کہ شیعہ عوام کو جتایا جائے کہ سعودی حکمران ان پر مہربان ہیں اور یوں ان کی مقبولیت کم کی جاسکے۔ تا ہم احمد بن عبدالعزیز نے وزیر داخلہ بنتے ہی اصلاحات کے خواہاں علماء اور قائدین کی گرفتاری کا سلسلہ شروع کیا اور شیخ نمر النمر کو ـ جو بلاد الحرمین میں عدل و انصاف، سیاسی اصلاحات، آئينی بادشاہت اور تمام مذاہب کے پیروکاروں کے لئے برابری کے حقوق ـ گرفتار کیا گیا۔ آیت الله شیخ نمر باقر النمر کے موقف کی بعض جھلکیاں:٭ علاقے کی قومیں حکمران خاندانوں کا مال مِلک نہیں ہیں اور عوام کو یہ حق پہنچتا ہے کہ ان مطلق العنان حکومتوں سے آزادی حاصل کریں۔ ٭ بحرین میں شیعہ اور سنی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے؛ شیعہ اور سنی آزادی چاہتے ہیں کیونکہ استبداد و آمریت اور مطلق العنانیت کا کوئی مذہب نہیں ہے۔٭ ہم سب کو مظلوم اقوام کی مدد کرنی چاہئے کیونکہ جزیرة العرب اور بحرین میں کوئی فرق نہیں ہے، جدہ اور احساء میں کوئی فرق نہیں ہے، بریدہ اور قطیف میں کوئی فرق نہيں ہے، شیعہ اور سنی میں کوئی فرق نہيں ہے اسلام ایک خیمہ ہے جس نے سب کو اپنے سائے تلے اکٹھا کردیا ہے اور تمام مذاہب کے تمام پیروکاروں کی حمایت کرتا ہے۔ ٭ مسلمان ایک دوسرے پر ظلم و ستم سے خبردار کریں؛ آل سعود کو تمام سنی اور شیعہ فکر کے حامل علماء اور عام قیدیوں، جدہ کے اصلاح پسند قیدیوں اور شیعہ عالم دین "شیخ توفیق العامر" کے رہا کرنا چاہئے۔ ٭ اپنے پامال ہونے والے حقوق کی بحالی کے لئے مظاہروں اور پرامن احتجاجی ریلیوں اور جلسے جلوسوں اور دھرنوں کا انعقاد عوام کا جائز حق اور شرعی ذمہ داری ہے اور کسی اسلامی مذہب نے احتجاج کی ان روشوں کو حرام قرار نہیں دیا ہے۔ ٭ جب علاقے کی استبدادی حکومتیں عوام کے جائز مطالبات کا راستہ بند کردیتی ہیں تو یہ اقوام پرامن مظاہروں کا راستہ اپنانے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔٭ استبدادی حکومتوں کا دعوی ہے کہ ان کے دروازے عوام کے لئے ہمیشہ ہی کھلے رہتے ہيں لیکن جب لوگ ان کھلے دروازوں کی طرف رجوع کرتے ہیں واپس ہی نہیں آتے بلکہ ہمیشہ کے لئے لاپتہ ہوجاتے ہیں۔٭ علاقے میں بحران کا واحد سبب یہ ہے کہ عوام کے مطالبات کا جواب گولی کی زبان سے دیا جاتا ہے۔
آیت اللہ شیخ نمر آل النمر: میں شہادت کے لئے تیار ہوںانھوں نے اپنی گرفتاری کی خبروں کی ترددید کرتے ہوئے کہا: میں آزادی تک پہنچنے کے لئے شہادت کے لئے بھی تیار ہوں۔انھوں نے کہا: کوئی بھی قوت انسانی منزلت و عظمت اور آزادی اور عدل و انصاف تک پہنچنے کے لئے شروع ہونے والی تحریک کو روک نہيں سکے گی۔اس مجاہد عالم دین نے آل سعود سے مخاطب ہوکر کہا: اگر تم عوام کو مارنا چاہتے ہو تو انہيں مار دو لیکن جان لو کہ شہداء کا خون انسانی منزلت، آزادی اور عدل کے درخت کی آبیاری کرتا ہے اور اس درخت کو پر ثمر کردیتا ہے۔انھوں نے کہا: آل سعود کی دھمکیاں بھی اور ان کے ہتھیار بھی، ناکارہ ہوچکے ہیں اسی وجہ سے ان کی حکومت نے پرانے حربے "یعنی تشہیری مہم" اور "پراپیگنڈوں" کا سہارا لینا شروع کیا ہے اور میری گرفتاری جیسی افواہوں کو آل سعود کی خفیہ ایجنسیاں پھیلاتی ہیں۔ انھوں نے کہا: ملک (بلادالحرمین) کو اندرونی بحران اور اقتدار کی کشمکش کا سامنا ہے اور آل سعود کی حکومت اس طرح کی تشہیری مہم کے ذریعے عوام کو دوسرے مسائل میں مصروف کرنا چاہتی ہے لیکن وہ اس سلسلے میں کامیاب نہ ہوسکے گی۔ آیت اللہ نمر آل النمر نے کہا: عوامی تحریک رکے گی نہيں اور مجھے امید ہے کہ میرا خون بھی دوسرے شہداء کے خون سے مل کر عزت و کرامت کے شجر کی نشوونما کا سبب بنے اور مجھے یقین کامل ہے کہ میری گرفتاری یا میرا قتل عوامی تحریک میں شدت آنے کا سبب ہوگا۔
آیت اللہ نمر آل النمر کے خطاب سے معلوم ہوا کہ آل سعود نے ہی ان کی گرفتار کی افواہ اڑائی تھی اور آل سعود نے ہی اس خبر کی تردید ميں رکاوٹیں ڈالی ہیں۔
بلادالحرمین کے شیعہ عالم دین کی گرفتاری کی خبر کی تردید تین روز بعدآل سعود کے مخالف ذرائع نے تین روز قبل شائع ہونے والی اس خبر کی تردید کی ہے کہ سعودی سیکورٹی فورسز نے نئے وزیر داخلہ احمد بن عبدالعزيز کی براہ راست ہدایت پر بلادالحرمین کے مجاہد عالم دین آیت اللہ شیخ نمر النمر کو تین روز گرفتار کیا تھا۔ان ذرائع نے کہا ہے کہ اس خبر کا حقیقت سے کوئی تعلق نہيں ہے۔ تین روز قبل مڈل ایسٹ آنلائن اور اسلام آنلائن نے آیت اللہ نمر آل النمر کی گرفتاری کی خبر شائع کی تھی اور کہا تھا کہ ان کی گرفتاری کے بعد العوامیہ اور القطیف میں کسی قسم کے عوامی احتجاج کا سد باب کرنے کے لئے نیشنل گارڈز کے دستوں نے پوزیشنیں سنبھال لی ہیں۔ .........../110