ابنا: اس سال تیئس جنوری کویورپی یونین کےستائیس رکن ملکوں نے ایران سےتیل خریدنےکےنئےمعاہدوں پر پابندی کےحق میں ووٹ دیاتھا جس پرجولائی کےمہینےسےعمل درآمد ہوناہے۔
برطانیہ کےوزیرخارجہ ویلیم ہیگ نے ایران کےخلاف پابندیوں میں شدت کی پالیسی جاری رکھنےپرتاکیدکرتےہوئےکہاہےکہ ایران کےخلاف پابندیوں کی تفصیلات کی یورپی یونین کی جانب سےتائیدہوگئی ہے۔
ان پابندیوں میں تیل کی خریداری کی سابقہ قراردادوں کی منسوخی اورایران سےتیل کےنقل وحمل کےلئےانشورنس کےلئے یورپی انشورنس کمپنیوں پر پابندیاں عائدکرناشامل ہے، یہ وہ مثالیں ہیں جن پرعمل درآمد میں ہفتوں پہلےسےمسائل پیش آرہےہیں۔
اس اعلامیےمیں دعوی کیاگیاہےکہ یورپی یونین کامقصد، ایران کےایٹمی مسئلےمیں بامعنی مذاکرات کی بنیاد پرطویل مدت اورجامع مذاکرات کرناہے۔
یورپی یونین کےوزرائےخارجہ،ایسےعالم میں معینہ وقت پرایران کےتیل پرپابندی پرتاکیدکررہےہیں کہ ابھی چندروزپہلےہی گروپ پانچ جمع ایک کےساتھ ایران کےمذاکرات کاتیسرادورختم ہواہے۔
سیاسی ماہرین کی نظرمیں اس فیصلےمیں دونکتہ پایاجاتاہے ، ایک یہ کہ مغرب اپنےغیرروایتی رویےاورسیاسی روش میں جوپابندیوں کی وجہ سے زیادہ وسیع رخ اختیارکرگئي ہے تبدیلی کےلئےتیارنہيں ہے۔البتہ ایران کےخلاف یورپی یونین کی پابندیوں نے جوپہلی جولائی سےشروع ہوں گی، چین ، ہندوستان ،جاپان اورشمالی کوریاجیسےایرانی تیل کےخریداروں کوسنگین چیلنجوں سےدوچارکردیاہے۔
یورپ اورایشیاء کےسیکڑوملکوں نےامریکہ سےمطالبہ کیاہےکہ انھیں ان پابندیوں سےمعاف رکھاجائے ۔امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن بھی ایران سےتیل کی خریداری پرپابندیاں عائد کرنےکےسلسلےمیں پیش آنےوالی مشکلات کااعتراف کرچکی ہیں ۔ امریکہ کےانرجی کےادارہ شماریات نے اپنی رپورٹ میں گذشتہ عیسوی سال کےنصف دوم میں چین نےپانچ سوپچپن ہزاربیرل ، جاپان نےتین سواکتالیس ہزاربیرل، ہندوستان نےتین سواٹھائیس ہزاربیرل اور جنوبی کوریا نےدوسوچوالیس ہزاربیرل تیل درآمدکیاہے۔
اس انحصارکےپیش نظر امریکہ نےایران کےتیل کےبعض خریداروں کوان پابندیوں سے مثتثنی بھی کیاہے لیکن مسئلہ یہ ہےکہ امریکہ نےاپنےداخلی قوانین آزاد عالمی تجارت پرلاگوکرکےعملی طورپراپناحق حاکمیت دوسرےملکوں پر مسلط کیاہے۔
البتہ اس بیچ امریکہ نےجاپان ، کوریا اورہندوستان جیسےبعض ملکوں کواپنی پابندیوں سےجزئی طور پرمعاف بھی رکھاہے۔
حقیقت یہ ہےکہ مغرب کامسئلہ ایران کاایٹمی مسئلہ نہيں ہے کیونکہ مسئلہ اگرصرف یہ ہوتاتو اس کےحل کےلئےدوسرےراستےاختیارکئےجاتےجوکہ دباؤ اوردھمکی کی شکل میں نہ ہوتےبلکہ آئی اےای اےکےساتھ باہمی تعاون اورگفتگوکی شکل میں ہوتے اورمقصد تک پہنچنےکےلئےفریقین ایران کی جامع تجاویزپرکام کرنےکےلئےسنجیدہ ہوتے۔
بہرحال پابندی دودھاری تلوارکی طرح ہے جس کااثر صرف ایران پرنہيں پڑےگا بلکہ عالمی اقتصاد پربھی پڑےگا ۔اسی بناپر امریکی اقدامات اوریورپی یونین کی جانب سے اس کی اندھی پیروی کااثرایران سےزيادہ مغرب بالخصوص یورپی یونین کی بکھرتی ہوئی معیشت پرپڑےگااس لئےیورپ کویورپی یونین کےانتشار اوریوروکےانجام کی فکرکرنی چاہئےجوتلوارکی دھارپرکھڑاہے۔
.....
/169