24 جون 2012 - 19:30

سعودي عرب کي قومي سيکورٹي کونسل نے ملکي ذرائع ابلاغ کو حزب اللہ لبنان کے خلاف اندرون اور بيرون ملک پروپيگنڈا مہم تيز کرنے کا حکم ديا ہے.

ابنا: النخيل نيوز اينجسي کے مطابق ، سعودي عرب کي قومي سلامتي کونسل کے سيکريٹري بندر بن سلطان نے ملکي ذرائع ابلاغ کو حکم ديا ہے کہ وہ لبنان کي تبديليوں پر گہري نظر رکھيں اور عوامي تحريک مزاحمت حزب اللہ کے خلاف ہمہ گير اور بھرپور پروپيگنڈا مہم شروع کريں-امريکہ ميں مقيم سعودي شاہي حکومت کے مخالف رہنما نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کي شرط پر کہا ہے کہ بندر بن سلطان نے العربيہ ٹيلي ويژن، روزنامہ الحيات، الشرق الاوسط اور  عربي زبان کے دوسرے اخبارات اور ذرائع ابلاغ کو ہدايت دي ہے کہ وہ اپنے تجزيوں ميں اس نکتے کو خاص طور پر اٹھائيں کہ لبنان کے حاليہ واقعات اس ملک کے شيعہ مسلمانوں کي سازشوں کا نتيجہ ہيں اور حزب اللہ اہلسنت پر اپني بالادستي قائم کر کے ان کے حقوق غصب کرنا چاہتي ہے- اس رپورٹ کے مطابق سعودي عرب کے ولي عہد نے گزشتہ ہفتے لبنان کي سياسي جماعت المستقبل کے سربراہ سعد حريري اور سابق وزيراعظم فواد سنيورہ کے تعاون سے رياض ميں حزب اللہ کے خلاف مہم کے لئے  آپريشن روم قائم کرديا ہے-اس آپريشن روم کے قيام کا مقصد لبنان کي صورتحال کو کشيدہ کرنے اور اس کا الزام وزيراعظم ميقاتي حکومت کے سرڈالنا ہے تاکہ يہ ظاہر کيا جاسکے کہ لبنان کے واقعات حزب اللہ کي بغاوت کا نتيجہ ہيں-  رپورٹ ميں مزيد کہا گيا ہے کہ بندر بن سلطان لبنان کي صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس ملک ميں قومي اختلافات کو  ہوا دينے  اور اہلسنت کي آبادي کو حزب اللہ کے خلاف بھڑکانے کے لئے استمعال کرنا چاہتے ہيں- کہا جارہا ہے کہ سعودي ولي عہد بندر بن سلطان نے طرابلس اور بيروت  سميت لبنان کے مختلف علاقوں ميں سني گروہوں ميں بھاري رقم تقسيم کرنا شروي کردي ہے اور ان سے کہا ہے کہ وہ اس پيسے سے اسلحہ خريديں جنہيں وقت آنے پر حزب اللہ کے خلاف استعمال کيا جائے گا. ......./169