23 جون 2012 - 19:30

اقوام متحدہ کے خصوصی نمایندہ کوفی عنان اور عرب لیگ نے شام کے بحران کی مدد کے بارے میں جنیوا میں ہونے والے بین الاقوامی اجلاس میں ایران کی شرکت کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ ابھی تک اس اجلاس میں شرکت کرنے والے ممالک کا تعین بھی نہیں ہوا ہے ۔

ابنا: لیکن کوفی عنان نے گذشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں جنیوا اجلاس میں ایران کے کردار کی تاکید کرتے ہوئے اس اہم اجلاس میں ایران کی شرکت پر زور دیا ہے ۔ جنیوا اجلاس شاید جون کے آخر تک منعقد ہوگی اور اس اجلاس میں بحران کے حل کے بارے میں حکمت عملی اور طرفین کو دشمنی اور آپسی جھڑپ سے پرہیز کرنے جیسے مسائل کا جائزہ لیا جائے گا ۔گذشتہ ایک برس سے شام کے حالات خراب ہیں جس کے نتیجہ میں اب تک بہت زیادہ مالی اور جانی نقصان ہوچکا ہے ۔ اس سلسلے میں شام کے بحران کے حل کے بارے میں کوفی عنان کا منصوبہ سامنے آیا ،لیکن دہشت گرد گروہ اور بعض علاقائی اور بیرونی ممالک شام میں امن وامان کی بازگشت نہیں چاہتے ہیں اور وہ کوفی عنان کے منصوبہ کے مخالف ہيں اس لئے وہ ا س منصوبہ کو ناکام بنانے کے لئے کوشش کر رہے ہیں ۔ اسلامی جمہوریہ ایران شام کے سیاسی بحران کو حل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے اور ایران نے بارہا علاقائی اور عالمی ممالک اور گروہوں سے شام کے داخلی امور میں جلد بازی سے ہر قسم کی مداخلت سے پرہیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی نظر میں شام کے بارے میں ہر قسم کی جلد بازی سے پورے خطے کو نقصان پہونچ سکتا ہے ۔ اس سلسلے میں کوفی عنان بھی غیر جانب دارانہ طور پر شام کے بحران کے حل پر تاکیدکرتے ہیں اور شام کے داخلی امور میں ہرقسم کی بیرونی مداخلت کے مخالف ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ شام میں اصلاحات بہت ضروری ہیں لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے کہ علاقائی اور بیرونی طاقتوں کو شام میں داخلی جنگ اور شام کو ٹکڑے کرنے سے روکا جائے ۔ سیاسی مبصرین کی نظر میں خطے میں آنے والے انقلابات اور شام کے حالات میں فرق ہے ،شام چونکہ صیہونی حکومت کے مقابلے میں استقامت کے فرنٹ لائن پر ہے اس لئے شام علاقے میں پیدا ہو نے والے حالات کے بہانے دشمنوں کی سازشوں کا شکار ہوگیا ہے ۔ شام کے دشمن اس بہانے استقامت کو ختم کرنا چاہتے ہیں ۔اس لئے شام کے بارے کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ شام ایک خود مختار اور آزاد ملک ہے اور اس کے داخلی مسائل سے شام کی حکومت کو گرانے کےلئے استفادہ نہیں کرنا چاہئیے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ شام کے پڑوسی ممالک شام کے بحران کو حل کرنے میں بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں ۔کوفی عنان اسی طرح روسی حکام کا کہنا ہے کہ علاقائی ممالک خاص طور ایران شام کے مسئلے کے حل کے سلسلے میں بنیادی کردار ادا کرسکتا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ شام کے کے مسائل کے حل کے لئے باہمی تعاون اور مشترک جد وجہد اور شام میں قومی وحدت وفکری اتحاد کی تقویت کی ضرورت ہے ۔......./169