20 جون 2012 - 19:30

امريکا کے صدارتي اليکشن ميں تقريبا ساڑھے تين مہينے باقي بچے ہيں اور دونوں صدارتي اميدواروں کے درميان چندہ اور پيسہ جمع کرنے کي رقابت ميں شدت آگئي ہے -

ابنا:  ريپبليکن صدارتي اميدوار ميٹ رامني کي انتخابي کميٹي نے اعلان کيا ہے کہ ميٹ رامني نے چندے کي رقم جمع کرنے ميں نيا ريکارڈ قائم کيا ہے - اس اعلان کے مطابق بدھ کے روز   جمع ہونے والے چندے کي رقم آٹھ ملين ڈالر کے قريب تھي -  امريکي ذرائع ابلاغ نے اسي کے ساتھ اعلان کيا ہے کہ موجودہ صدر  اور آئندہ اليکشن کے لئے ڈيموکريٹ اميدوار باراک اوبامانے انتخابي تشہيرات پر خرچ کرنے کے لئے مئي ميں ايک سو دس ملين ڈالر کي رقم جمع کي تھي جو اسي مدت ميں ميٹ رامني کے ذريعے جمع کي جانے والي رقم سے دس ملين زيادہ تھي -امريکا کي اب تک کي تاريخ بتاتي ہے کہ اس ملک ميں انتخابات بالخصوص صدارتي اليکشن ميں ہر چيز سے زيادہ پيسہ اہميت رکھتا ہے - اگر چہ انفرادي خصوصيات ، سياسي کردار، اور پارٹيوں کي جانب سے پيش کئے جانے والے منصوبے بھي رائے دہندگان کو اپني جانب متوجہ کرنے ميں موثر واقع ہوتے ہيں ليکن جو چيز فيصلہ کن ہوتي ہے اور انتخابات کے رخ کو بدل سکتي ہے وہ پيسہ ہے- يہي وجہ ہے کہ امريکا ميں صدارتي اليکشن بہت مہنگا ہوتا ہے -دو ہزار آٹھ ميں ايسي حالت ميں کہ امريکا ايسے اقتصادي بحران کا مرکز تھا جس کي گزشتہ اسي سال ميں کوئي نظير نہيں تھي، اميدواروں اور سياسي جماعتوں نے چھے ارب ڈالر سے زائد کي رقم انتخابات پر خرچ کي - دو ہزار آٹھ کے صدارتي اليکشن ميں باراک اوباما نے جن کو کم لوگ پہچانتے تھے، چھے سو ملين ڈالر کي رقم خرچ کرکے ، ڈيموکريٹک پارٹي کے اندر اپنے حريفوں پر غلبہ حاصل کيا اور ريپبليکن اميدوار کو  شکست ديدي -امريکا ميں حال ہي ميں فيڈرل سپريم کورٹ نے اپنے ايک فيصلے ميں انتخابي چندہ جمع کرنے پر ہرقسم کي پابندي اور اس کو محدود کرنے کے اقدام کو آئين کے خلاف قرار ديا ہے جس کے پيش نظر توقع ہے کہ دو ہزار بارہ کے صدارتي اليکشن کے اخراجات پچھلے تمام ريکارڈ توڑ ديں گے - چنانچہ ايک مہينے ميں اوباما اور رامني دونوں صدارتي اميداروں ميں سے ہر ايک نے سو ملين ڈالر سے زائد رقم تشہيراتي مہم پر خرچي کي ہے - يہ ايسي حالت ميں ہے امريکا بدترين اقتصادي بحران سے دوچار ہے اور دسيوں لاکھ عام شہري بے روزگار اور زندگي کي بنيادي ترين سہولتوں سے بھي محروم ہيں -......./169