18 جون 2012 - 19:30

ماسکو میں اسلامی جمہوریہ ایران اور پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور گذشتہ روز اختتام پذیر ہوا۔پیر کے دن اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سعید جلیلی نے یورپی یونین میں خارجہ پالیسی شعبے کی سربراہ کیتھرین ایشٹن اور پانچ جمع ایک کے نمائندوں سے مذاکرات کئے۔

ابنا: ادھر اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل میں خارجہ پالیسی اور عالمی امور کے شعبے کے سربراہ علی باقری نے مذاکرات کے بعد صحافیوں سے گفتگومیں کہا کہ ہمیں امید ہے کہ پانچ جمع ایک گروپ انیس جون کو ایران کے پکیج کا جواب دے گا۔ علی باقری نے کہا کہ مذاکرات تعمیری اورمثبت رہے ہیں اور دونشستوں میں انجام پائے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی وفد نے استنبول دو مذاکرات میں ہونے والے سمجھوتوں کی اساس پر پانچ جمع ایک گروپ کو جامع پکیج پیش کیا۔

انہوں نے کہا ہم نے تاکید کی ہےکہ یورینیم کی افزودگي کا حق این پی ٹی معاہدہ کی رو سے ایک مسلم حق ہے اور ہم اس پر تاکید کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم نے شفاف سازی اور اعتمادی سازی نیز باہمی تعاون کے لئے بھی تجویزیں پیش کی ہیں جو ایٹمی اور غیر ایٹمی مسائل پر مشتمل ہیں جس پر ہمارے مد مقابل کو غور کرنا چاہیے۔ علی باقری نے کہا کہ ایٹمی مسائل میں پیشرفت کی بنیاد یہ ہے کہ پانچ جمع ایک گروپ کو ملت ایران کا اعتماد حاصل کرنا ہوگا اور ہماری تجویزوں کا مثبت جواب دے اور ماضی کی غلطیوں کا تدارک کرے۔

علی باقری نے کہا کہ ایرانی وفد نے آئي اے ای اے اور اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق ایران کے ایٹمی پروگرام کو سلامتی کونسل میں بھیجے جانے کو غیر قانونی ثابت کیا اسی طرح سے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کے خلاف جو قراردادیں منظور کی گئي ہیں وہ بھی غیر قانونی ہیں۔ واضح رہے کہ محترمہ کیتھرین ایشٹن نے ایران کے مواقف اور نظریات سے آگاہ ہونے کے بعد آج ان امور کا جواب دینے کے لئے وقت مانگا ہے۔ ا

دھر کیتھرین ایشٹن کے ترجمان نے پیر کے مذاکرات کو مثبت قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات دوستانہ ماحول میں انجام پائے ہیں۔ ادھر روس کے نائب وزیر خارجہ اور پانچ جمع ایک میں روس کے نمائندے سرگئی ریابکوف نے ایک انٹرویو میں ایران کے خلاف پابندیوں کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو مذاکرات میں ایران کے خلاف کسی بھی طرح کی پابندیوں کی بات نہیں کی گئي ہے جو ایک پیشرفت شمار ہوتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ دونوں فریقوں کو ایران کے ایٹمی پروگرام کے تعلق سے اعتماد سازی کرنی ہوگي۔  .......

/169