14 جون 2012 - 19:30

شام کے تعلق سے موصولہ اطلاعات سے واضح ہورہا ہےکہ امریکہ اس کے مغربی اور عرب اتحادیوں نے شام میں سرگرم عمل اپنے حمایت یافتہ دہشتگردوں کو ہتھیاروں اور جدید ترین فوجی ساز و سامان کی ترسیل میں اضافہ کردیا ہے اور یہ کاروائياں بڑی تندھی سے انجام پارہی ہیں۔

ابنا:‌ شام کے ذرائع اور مغربی ذرائع ابلاغ نے رپورٹیں دی ہیں شام میں سرگرم عمل دہشتگردوں کو جدید ترین ہتھیار اور ساز وسامان بھیجے گئے ہیں اور ان ہتھیاروں اور جدید ترین ساز وسامان کے لئے پیسہ سعودی عرب اور قطر نے فراہم کیا ہے۔ ان رپورٹوں کے مطابق دہشتگردوں کی بڑ ھ چڑھ کرمدد کرنے کا مقصد حکومتی مراکز پرحملے اور عوام کا قتل عام کرنا ہے۔ رویٹرز کی رپورٹ کے مطابق شام کے دہشتگردوں کے لئے لبنان اور ترکی کی سرحدوں سے ہتھیار بھیجے جارہے ہیں۔ ادھر روس کے وزیر خارجہ سرگئي لاوروف نے کہا ہےکہ بعض مغربی اور عرب ممالک بدستور شام میں سرگرم عمل دہشتگردوں کے لئے ہتھیار روانہ کررہے ہیں۔

امریکی حکومت کی جانب سے شام میں دہشتگردوں کے لئے ہتیھار بھیجے جانے کی خبروں کے سامنے آنے کےبعد امریکہ کو ناچار اس کا اعتراف کرنا پڑا اور امریکہ نے مزید ڈھٹائي کا ثبوت پیش کرتےہوئے کہا کہ واشنگٹن شام میں سرگرم عمل دہشتگردوں کو مزید فوجی امداد روانہ کررہا ہے۔ امریکہ کی وزارت خارجہ کی ترجمان ویکٹوریا نولینڈ نے گذشتہ روز کہا کہ امریکہ شام کی حکومت کے مخالفیں کی مدد کرنے کے لئے پیشرفتہ مواصلاتی وسائل روانہ کررہا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق امریکہ نے شام میں سرگرم عمل دہشتگردوں کے لئے فلٹر شکن سافٹ ویر اور سٹیلائٹ فون بھیجے ہیں۔ قابل ذکرہے امریکہ ایسے عالم میں شام میں سرگرم عمل دہشتگردوں کی حمایت کررہا ہے کہ شام کے دہشتگردوں نے علی اعلان کوفی عنان کی جنگ بندی کی تجویز مسترد کردی ہے اور بدستور دہشتگردی پھیلارہے ہیں اور حکومت دمشق سے مذاکرات کرنے پر راضی نہیں ہیں۔ یا درہے شام میں سرگرم عمل دہشتگردوں کو امریکہ، بعض مغربی ممالک، سعودی عرب، قطر اور ترکی کی حمایت حاصل ہے اور ان ہی ملکوں گی مدد سے یہ کرائے کے دہشتگرد شام کے عوام کا قتل عام کررہے ہیں۔ سب سے عجیب بات تو یہ ہےکہ شام میں ایسے ممالک جمہوریت کا مطالبہ کررہے ہیں جن میں دور دور تک جمہوریت کا نام و نشان بھی نہیں پایا جاتا ہے۔

ادھر کینڈا کے ایک سیاس اور اقتصادی امور کے ماہر مائیکل چاوسدوسکی نے کہا ہےکہ امریکہ مشرق وسطی میں اپنے اتحادیوں کی مدد سے شام کے خلاف جنگ کی نئي روشیں اپنارہا ہے ، انہوں نے کہا کہ امریکہ اور نیٹو نیز ان کے آلہ کاروں نے شام میں کلاسیکل جنگ سے پرہیز کرتے ہوئے دہشتگردوں کو شام کی قوم کے قتل عام پر مامور کردیا ہے۔ واضح رہے کہ دہشتگرد گروہ مارچ دوہزار گيارہ سے قطر سعودی عرب اور ترکی کی حمایت سے شام میں بدامنی پھیلارہے ہیں اور اس طرح شام میں بیرونی فوجی مداخلت کی زمین ہموار کرنا چاہتے ہیں۔ ادھر شام میں دہشتگردوں کی کاروائیوں میں اضافے کے پیش نظر بشار اسد کی حکومت نے دہشتگردوں کو ہتھیار ڈالنے کے لئے ایک دن کی مہلت دی ہے۔
.......
/169