ابنا: اقوام متحدہ کے انساني ہمدردي کے امورکي انڈر سيکريٹري جنرل وليري آموس نے اسرائيل سے غزہ کي پٹي کا پانچ سالہ محاصرہ فوري طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کيا ہے. اسرائيلي محاصرہ سے تقريباً 16 لاکھ فلسطينيوں کا روزگار اور روز مرہ زندگي کے امور بري طرح متاثر ہوئے ہيں جبکہ اسرائيل کا يہ غير قانوني محاصرہ چھٹے سال ميں داخل ہوگيا ہے.
اقوام متحدہ کي انڈر سيکريٹري جنرل وليري آموس نے کہا کہ اسرائيل کا غزہ کا محاصرہ بين الاقوامي قانون کي خلاف ورزي ہے کيونکہ اسرائيل کے اس اقدام سے غزہ ميں رہنے والوں کے بنيادي انساني حقوق کي نفي ہوئي ہے اور انہيں اجتماعي سزا کا سامنا ہے.
واضح رہے کہ اسرائيل نے 2007ء ميں غزہ کي پٹي کا محاصرہ کر ليا تھا اور اس محاصرے کا چھٹا سال شروع ہوگيا ہے اس سلسلے میں عرب ممالک نے کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا بلکہ سعودی عرب اور قطر عملی طور پر امریکہ اور اسرائیل کا ساتھ دے رہے ہیں........
/169