12 جون 2012 - 19:30

فلسطینیوں کےخلاف صہیونی ریاست کےانسان دشمن اقدامات کےتسلسل بالخصوص غزہ کےمحاصرہ پربین الاقوامی ردعمل سامنےآرہاہے اور عالمی رائےعامہ مختلف طریقوں سے صہیونی ریاست کےخلاف نفرت وبیزاری کااظہارکررہی ہے۔

ابنا: غزہ کےعوام کےلئےبین الاقوامی کاروانوں کی روانگی اورغزہ کامحاصرہ توڑا جاناان ميں شامل ہے۔

غزہ کےعوام کی مدد کےلئے عالمی کوششوں کےتسلسل کےطورپر ایک اورامدادی کارواں جلد ہی غزہ کےلئےروانہ ہوگا۔

اٹلی کی بعض فعال شخصیتوں نےمنگل کوروم میں ایک اجلاس میں اعلان کیاہےکہ صہیونی ریاست کی شدید پابندیوں کےباوجود اس سال بھی غزہ کامحاصرہ توڑنےاورفلسطین کےمظلوم عوام کوامداد پہنچانےکےلئے کاروان آزادی کاسلسلہ جاری رہےگا ۔

اٹلی کی سماجی کارکن محترمہ پاٹریٹسیاچگونی نےکہاکہ غزہ بھیجےجانےوالےبحری جہازگذشتہ دنوں ناروےسےغزہ کےلئےروانہ ہوئےہیں۔

یہ بحری جہاز امدادی سامان اکٹھاکرنےکرنےکےلئے اٹلی سمیت یورپ کےمختلف ساحلی شہروں میں رکتےہوئےجلد ہی اس علاقےتک پہنچیں گے۔

فلسطینی مصنف احمدرفیق اواد نےجواس اجلاس میں موجود تھے صہیونی ریاست کےسامنےعالمی خاموشی پرشدید تنقید کی۔

امریکی ڈینٹسٹ اڈوارڈ شپارڈ جوفلسطینیوں کےحامی ہيں اوراٹلی میں قیام پذیرہیں کہاکہ امریکہ اوریورپی ممالک کےحکام غزہ کی افسوسناک حالت پرکوئی توجہ نہيں دےرہےہيں۔

غزہ کی جانب انسانی ہمدردی کی بنیاد پرروانہ ہونےوالےکاروانوں میں دنیاکےسترہ ملکوں سے بڑی تعداد میں سیاسی ، صحافتی شخصیتیں، نمائندے اورخودمختارافراد غزہ پہنچ رہےہیں۔

غزہ کےلئےبین الاقوامی کاروانوں کاتسلسل غزہ کامحاصرہ توڑنےکےلئےعالمی عزم کی عکاسی کرتاہے۔

مذکورہ مسائل سےپتہ چلتاہےکہ رائےعامہ صہیونی ریاست کی دھمکیوں سےمرعوب نہيں ہوئی ہے۔

صہیونی ریاست نےغزہ کےلئےامداد رسانی کاسلسلہ روکنےکےلئے امدادی کاروانوں کوبارہا دھمکی دی ہے اورکئی بار ان قافلوں پرحملہ بھی کیاہےجس میں کئی امن کارکن جاں بحق اورزخمی بھی ہوچکےہيں۔

صہیونی ریاست کےاقدامات نےاس حقیقت کوآشکارکردیاہے کہ یہ جرائم پیشہ حکومت کسی بھی بین الاقوامی قانون کی پابند نہيں ہے۔ درحقیقت صہیونی ریاست انسانیت دشمن ماہیت کی حامل ہےاور اس کی بنیاد قتل، تشدد ، قتل عام اورخوف ووحشت پھیلانےپراستوار ہے۔

یہ ایسی حالت میں ہےکہ صہیونی ریاست کو بڑےپیمانےپرمغربی حکومتوں کی حمایت بھی حاصل ہے اوروہ مغربی حکومتوں کی مدد اورعالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کی خاموشی سےفائدہ اٹھاکرفلسطینی عوام کےخلاف اپنےجرائم جاری رکھےہوئےہے۔

اس موضوع نےرائےعامہ کو تنقید کرنےپرمجبورکردیا ہے اور یورپی ممالک کی جانب سے غزہ کوامداد پہنچانےکےلئے بین الاقوامی اقدامات میں اضافہ ،ان ملکوں کےحکام کی جانب سے صہیونی ریاست کی حمایتی پالیسی پربڑھتےہوئے احتجاج کاثبوت ہے۔.......

/169