اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آیت اللہ العظمی لطف اللہ صافی گلپایگانی نے آل سعود اور وہابیت کے ہاتھوں مقدس مقامات کے انہدام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو کچھ آج حرمین شریفین میں ہورہا ہے اسلام کو نقصان پہنچا رہا ہے اور مستقبل قریب میں ہم اپنے تاریخی ورثے اور تاریخی بنیادوں سے محروم ہوجائیں گے۔ آیت اللہ العظمی گلپایگانی نے حج و زیارت کے ادارے کے سربراہ سید احمد موسوی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: ادارہ حج و زیارت کے اعلی اہلکاروں کو بندگان خدا کی خدمت، شعائر کی تعظیم اور فرائض کی صحیح انجام دہی کا پورا پورا اہتمام کرنا چاہئے کیونکہ حج کے تربیتی پہلؤوں میں نظم و ترتیب کا لحاظ رکھنا تشیع کی عزت اور آبرومندی کا سبب ہے۔انھوں نے کہا: ادارہ حج و زیارت کی طرف سے حجاج کرام اور مقامات مقدسہ کے زائرین کو خدمت رسانی کا کام ایک نہایت اہم کام ہے اور ان مواقع کو غنیمت سمجھنا چاہئے کیونکہ دنیا کے حالات خاص قسم کے حالات ہیں اور ان حالات کے پیش نظر ہمیں مقدس مقامات پر فعالانہ طور پر حاضر ہونا چاہئے۔انھوں نے ادارہ حج و زیارت کے سربراہ سے مخاطب ہوکر کہا: آپ اس ذمہ داری کے معنوی اور روحانی پہلو کو خاص طور پر ملحوظ رکھیں۔ مرجع تقلید حضرت آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی نے کہا: میں آج صبح نماز فجر کے بعد موصولہ استفتائات کا مطالعہ کررہا تھا تو میں نے ایک استفتاء دیکھا جس میں حرمین شریفین میں آل سعود اور وہابی قوتوں کے بھونڈے رویے کی طرف اشارہ کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ آل سعود کی طرف سے عمرہ اور حج پرجانے والے زائرین و معتمرین کے ساتھ نہایت برا رویہ روا رکھا جاتا ہے تو ایسی صورت حال میں کیا بہتر نہيں ہے کہ حج اور عمرہ کا بائیکاٹ کیا جائے؟ ایسی صورت میں ہمارے حج اور عمرہ کے لئے جانے کا کیا فائدہ ہے اور ہم ان رویوں کو کیوں برداشت کریں؟ تو میں نے جواب دیا کہ ہمیں ان کی اس خواہش کے برعکس ـ کہ شیعہ حرمین شریفین میں حاضری نہ دیں ـ حرمین شریفین میں فعالانہ طور پر حاضری دینی چاہئے۔ کہ آل سعود کی طرف سے عمرہ اور حج پرجانے والے زائرین و معتمرین کے ساتھ نہایت برا رویہ روا رکھا جاتا ہے تو ایسی صورت حال میں کیا بہتر نہيں ہے کہ حج اور عمرہ کا بائیکاٹ کیا جائے؟آیتالله العظمی صافی گلپایگانی نے کہا کہ مکہ اور مدینہ سے غیرحاضری کا نقصان اس کے فائدے سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ اہل بیت (ع) کی ولایت حجاز میں ہے اور وہاں جاکر اپنے وجود کا اظہار کرنا چاہئے اور اس حضور کا تحفظ کرنا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہم حج اور عمرہ کا بائیکاٹ کریں تو ہمارے دشمن اور ہمارے مخالفین خوش ہوجائیں گے۔ انھوں نے حج وزیارت کے سربراہ کو ہدایت کی کہ اس ادارے کو مصر جیسے ممالک میں بھی زائرین بھجوانا چاہئے کیونکہ مصر میں بھی متعدد مقدس مقامات ہیں جن میں "مشہد زینبیہ"، "مقام رأس الحسین (ع)" اور "مسجد امام حسین (ع)" وغیرہ شامل ہيں جہاں بہت سے پروگرام کئے جاتے ہيں اور ان مقامات پر حاضری دینے میں ہی مصلحت ہے اور اسی میں تشیع کا فائدہ ہے۔آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی نے حرمین شریفین کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا اور حرمین شریفین میں ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی حاضری کے سیاسی اور معنوی و روحانی اثرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس مقدس سرزمین میں مشاہد مشرفہ اور پوری دنیا کے مسلمانوں کی میراث کو منہدم کرنے پر آل سعود کو خبردار کیا اور کہا: یہ مسئلہ شیعہ اور سنی مسئلے سے کہیں زیادہ بالاتر ہے۔ انھوں نے کہا: مشاہد مشرفہ اور مسلمانوں کی تاریخی میراث کا انہدام نیز حرمین شریفین میں پائے جانے والے موجودہ حالات اسلام کو ایسا عظیم نقصان پہنچا رہے کہ اگر شیعہ اور مسلمان دنیا میں ہو بھی، ان مشاہد و مشارف کی تباہی کی صورت میں ہمارے پاس کوئی تاریخی پشت پناہی اور بنیاد نہيں رہے گی۔ آیت اللہ العظمی گلپایگانی نے کہا: اسلامی ابد تک باقی اور زندہ جاوید ہے چنانچہ اسلام کے آثار اور مکہ اور مدینہ میں مسلمانوں کی میراث کا مکمل تحفظ ہونا چاہئے کیونکہ اگر ہم کہیں کہ "اسلام آنے دس ہزار سال بعد بھی ہوگا اور ہم ثابت کرنا چاہیں کہ "عبدالمطلب، ابوطالب، عبداللہ اور دیگر مشاہد بھی تھے تو ہم یہ سب ثابت نہیں کرسکیں گے اور یوں "کامل ابن اثیر" اور "تاریخ طبری" جیسی کتابوں کا بھی انکار کیا جائے گا۔ (کیونکہ اس کتب میں جو کچھ لکھا گیا ہے آل سعود اور ان کے وہابی پیشوا ان سب کو نیست و نابود کررہے ہیں)۔انھوں نے کہا: آل سعود اور وہابیوں کے کردار سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک حجاز میں موجود تمام اسلامی آثار قدیمہ کو تباہ کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا: بعض مؤرخین حضرت موسی (علی نبینا و آلہ و علیہ السلام) سے دشمنی کی بنا پر ان کا انکار کرتے ہیں جو افسوسناک امر ہے لیکن اب ہمیں زیادہ افسوس کا اظہار کرنا پڑے گا کیونکہ یہ لوگ اسلام کی بنیادوں کو اکھاڑ پھینک رہے ہیں اور پورے دین اسلام کو خطرہ ہے۔ این مرجع تقلید در بخش دیگری از سخنان خود اظهار داشت: حرمین شریفین بالاتر از مسأله شیعه و سنی است، یہ اسلام اور تاریخ اسلام کا مسئلہ ہے اور اب وہابی اسلامی آثار کو منہدم کرکے پورے اسلام کو محو کرنے اور مٹانے کا تہیہ کئے ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا: وہابیت ہر مقدس مقام کو کعبہ کے مقابل کھڑا شیعہ کردیتی ہے اور اس مقدس مقام کی تعظیم کو شرک قرار دیتی ہے اور ایسے مقامات کو منہدم کرنا چاہتی ہے؛ یہ وہی لوگ ہیں جو علم و دانش کے اس دور میں بھی اس حقیقت کے انکاری ہیں کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے اور جو اس حقیقت کا اظہار کرے اس کو کافر سمجھتی ہے۔ آیت اللہ العظمی صافی گلپائگانی نے کہا کہ آج اسلام اور تشیع کو متعارف کرانے کے لئے ماحول فراہم ہے۔انھوں نے کہا: میں پہلی بار حج بجا لانے کے لئے حجاز مقدس پہنچا تو ہماری رہائش بیت اللہ الحرام سے کافی دور تھی اور ہمیں ہر روز یہ فاصلہ پائے پیادہ طے کرنا پڑتا تھا اور ہر روز وہاں کے پولیس مرکز کے سامنے سے گذرنا پڑتا تھا چنانچہ مرکز کے سامنے بیٹھے ہوئے اہلکاروں کو سلام کرتا تھا حتی کہ ایک روز انھوں نے مجھے اپنے پاس بیٹھنے کی دعوت دی۔ میں بیٹھ گیا اور ان کے ساتھ احوال پرسی کی اور باتوں باتوں میں معلوم ہوا کہ ان میں سے ایک اہلکار کا تعلق "نجران" سے ہے چنانچہ میں نے اس کے لئے آیت مباہلہ کی تلاوت کی اور اس کے سے متعلقہ روایات سنائیں اور میرا یہ عمل اس قدر مؤثر تھا کہ ایک دن انہيں ایک اختلافی مسئلے کا سامنا تھا تو انھوں نے ایک آدمی میرے پاس بھجوایا اور اس تنازعے میں میری رائے معلوم کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110