ابنا: اس رپورٹ کے مطابق مقامی وقت کے مطابق دوپہر چھہ بجے سے لیکر دوسرے دن صبح تک پانچ افراد سے زيادہ لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی لگادی گئی ہے ۔حکومت میانمارنے جمعہ کے دن آٹھ جون کو مسلمان علاقے میں رونماہونے والے واقعات جس میں مزيد چار دیگر مسلمان مارے گئے تھے راخینہ صوبہ میں کرفیو لگانے کا فیصلہ کیا ہے ۔یہ ایسے وقت ہے کہ گذشتہ پیر کو بھی مسلح گروہ نے اس علاقے میں نو مسلمانوں کو قتل کر دیاتھا ۔
اس واقعہ کے بعد میانمار کے مسلمانوں نے مظاہرہ کرکے واقعہ کے عاملین کو سزا دیئے جانے کا مطالبہ کیا اور میانمار میں مذھبی تعصبات اور فرقہ وارانہ تشدد پر سخت تنقید کی تھی اور مارے جانے والے مسلمانوں کو بے گناہ قرار دیاتھا۔ اگر چہ حکومت میانمار نے اس واقعہ کے بعد عوام سے وعدہ کیا ہے کہ اس و اقعہ کی تحقیقات کراکے اس حادثہ کے عاملین پر مقدمہ چلاکر ملک میں تشدد کو پیھلنے سے روکنے کے لئے ضرور اقدامات کرے گی ۔لیکن جمعہ کے دن مزيد چار مسلمانوں کے قتل کئے جانے کے بعد حکومت کے لئے خطرے کی گھنٹی بج گئی ۔ اسی لئے حکومت نے اس طرح کے و اقعات کو روکنے کےلئے مسلمان علاقے میں ہنگامی حالات کا اعلان کردیا ۔مقامی اطلاعات کے مطابق اس علاقے میں حالا ت اس وقت خراب ہوگئے جب بدھسٹوں کی ایک لڑکی کی عصمت دری اور اس کے بعد اسے قتل کئے جانے کی خبر علاقے میں پھیل گئی ۔
مقامی اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے اس خیال میں کہ لڑکی کے قاتلین بس میں بیٹھے ہوئے ہیں بس پر حملہ کردیا اور بس میں سوار نو مسلمانوں کو بہیمانہ طریقہ سے قتل کردیا ۔ حالانکہ بہت سی مقامی خبروں نے بدھسٹ لڑکی کی عصمت دری اور قتل کے واقعہ کو مشکوک اور مسلمانوں کواس واقعہ میں بےگناہ قرار دیا ہے ۔اسی لئے میانمار کے عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اس واقعہ کے عاملین کی شناخت کرکے انھیں کیفر کردار تک پہونچائے ۔ میانمار کئی برس سے قومی اور نسلی جھڑپوں میں گرفتار ہے اور ان جھڑپوں میں اب تک ہزاروں افراد مارے جاچکے ہیں ۔میانمارکی پچپن ملین آبادی میں پندرہ فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے ، میانمار میں دوسری اقلیتوں کی طرح مسلمان ، فوجی تسلط کے دوران زندگی کے ابتدائی ترین حقوق سے محروم تھے اور غربت کی زندگی گذار رہے تھے ۔میانمار کے مغربی علاقے آراکان میں غربت اور حکام کے دباؤ کی وجہ سے بیس لاکھ مسلمان اس علاقے کو چھوڑ کر ملک کے دوسرے علاقوں میں جاکر آباد ہوگئے ۔
اگر چہ تھین سین کی حکومت کے دوران حکومت اور عوام کے درمیان جاری اختلافات اور کشمکش میں بعض سیاسی اصلاحات کے نتیجہ میں کچھ کمی واقع ہوئی ہے ۔حکومت اور قومی گروہوں کے درمیان مفاہمتی سمجھوتے پر ہونے والے دستخط سے ملک میں جاری قومی اور نسلی اختلافات کے حل ہونے کی امید بڑھ گئی ہے ۔لیکن مسلمان علاقے میں ہونے والے حالیہ تشدد آمیزواقعا ت سے پتہ چلتا ہے کہ میانمار میں قومی اور نسلی اختلافات ختم ہونے والے نہیں ہیں اس مشکل سے نجات حاصل کرنے کے لئے بنیادی طور پرایک اچھی اور مؤثر پالیسی اختیار کرنے کی ضرور ت ہے ۔ سیاسی مبصرین میانمار کے مغربی علاقے کے حالیہ واقعات میں جنھیں بعض افراد مسلمانوں اور بدھسٹوں کے درمیان اختلاف کی نظر سے جائزہ لے رہے ہيں خفیہ عناصر کو ذمہ دار ٹہرا رہے ہيں جو میانمار میں بد امنی پھیلاکر اس ملک کو عدم استحکام سے دوچاراور اس ملک کو توسیع وترقی سے روک کر بیرونی طاقتوں کی مداخلت کے لئے راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔
اس رو سے میانمار میں مسلمان سمیت مختلف قوموں کی زندگی کی خراب صورت حال کا جائزہ لینا اور مختلف قبائلی علاقوں پر کنٹرول کرکے ان کے درمیان قومی آشتی پیدا کرنا حکومت کی اہم ذمہ داری ہے ۔اس بارے میں کسی بھی قسم کی سستی یا تعلل ملک کے اندر وسیع پیمانے پر قومی اور نسلی تعصب اور تشدد کے پھیلنے کا سبب ہوسکتا ہے ۔ اس سلسلے میں پائی جانے والی تشویش کی وجہ سے میانمار کی مسلمانوں کی انجمن نےبھی ایک اعلامیہ جاری کرکے میانمار کے مغربی علاقے میں آباد مسلمانوں سے درخواست کی ہے کہ وہ حالیہ واقعات کے بارے میں صبر وتحمل سے کام لیں ۔اس بیان میں حکومت میانمار سے بھی درخواست کی گئی ہے کہ وہ مسلمانوں کے قاتلین کی شناخت کر کے ان پر مقدمہ چلائے ۔.......
/169