5 جون 2012 - 19:30

ایسےعالم میں جب ایران اورایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی نےنئےمذاکرات کےانعقاد کی خبردی ہے، آئي اے ای اے میں امریکہ کےنمائندےنےدعوی کیاہےکہ مشرقی تہران میں واقع فوجی علاقےپارچین سےحاصل ہونےوالی تصویريں اس سائٹ سےایٹمی ہتھیار ہٹائےجانےکی عکاس کررہی ہيں۔

ابنا: امریکی نمائندےنےایک پریس کانفرنس میں کہاکہ ایران کےپاس آئی اےای اے کےساتھ تعاون کےلئے بہت کم وقت بچا ہے۔

یہ ایسےعالم میں ہےکہ ایران اورآئی اےای اے کےحکام مثبت اورتعمیری نگاہ سے ویانا مذاکرات میں داخل ہوئے ہيں اورانھوں نےآئندہ جمعہ کو ہونےوالےمذاکرات کےنتائج کےبارےمیں نیک نیتی کااظہارکیاہے۔

ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کےسربراہ یوکیاآمانو نےپیرکےدن بورڈآف گورنرکےاجلاس میں اعلان کیاکہ آئی اے ای اے میں ایران کےمستقل نمائندے علی اصغرسلطانیہ سےہونےوالےاتفاق رائےکےتناظرمیں باقیماندہ مسائل کےحل پربات چیت ہو‏گی۔

ایران اورآئی اے ای اے کےدرمیان ہونےوالےمذاکرات جوآئی اے ای اےکےمعائنوں کےبارےمیں اورٹیکنیکل بنیادوں پر ہوں گے حتمی نتائج پرپہنچنےوالےہیں۔ ایران نےاس سےپہلےبھی پارچین فوجی سائٹ کےمعائنے کےسلسلےمیں آئی اے ای اے کےساتھ تعاون کیاہے اورآئندہ بھی تعاون کرےگا جبکہ یہ این پی ٹی معاہدے اور آئی اےای اے کےقوانین کےتناظرمیں ایران کےفرائض میں شامل نہيں ہے۔

اس کےپیش نظر اگرمذاکرات کےنئےدورميں کوئی خاص خلاف ورزی نہيں ہوتی تومذاکرات میں پیشرفت کاامکان یقینی ہے۔

ان مذاکرات کےنتائج ماسکومیں ایران اورگروپ پانچ جمع ایک کےمذاکرات پرموثرہوں گے۔ وہ مذاکرات جوگذشتہ اپریل میں استنبول میں مثبت ماحول میں شروع ہوئےتھے اوربغداد میں بھی جاری رہے اوردوہفتےکےبعد ماسکومیں بھی جاری رہیں گے۔

مسلمہ امریہ ہےکہ تعاون کےلئےمذاکرات ہی قابل قبول راہ حل ہے لیکن اس مقصد کےبرخلاف ایک ایساگروہ بھی ہےجوایران اورآئی اے ای اے کےدرمیان مثبت تعاون کےماحول کوخراب اورجامع مذاکرات کےعمل میں شک وشبہ پیدا کرناچاہتاہے۔

ایران کےاعلی مذاکرات کارسعید جلیلی کےنائب علی باقری نے ایسنانیوزایجنسی کوانٹرویودیتےہوئےاس عمل کی جانب اشارہ کرتےہوئےگروپ پانچ جمع ایک کی انفعالی کارکردگی پرتنقیدکی اورکہاکہ بغداد مذاکرات میں یہ طےپایاہے کہ اٹھارہ جون کوماسکومذاکرات سےپہلے فریقین کےماہرین مذاکرات کےانتظامات کےلئےملاقات کریں گےجبکہ ایران نےاپنےپہلےخط کاجواب دریافت نہيں کیاہے اور اشٹون کی نائب ہلگاماریااشمید کودوسرا خط بھیجاہے۔

باقری نےمزیدکہاکہ ابتدائی مذاکرات جلدسےجلد ہونےچاہئيں کیونکہ ماسکومذاکرات کےلئےزیادہ وقت نہيں بچا ہے اورماسکومذاکرات کی کامیابی کازیادہ انحصارابتدائی مذاکرات پرہے کیونکہ گروپ پانچ جمع ایک میں ایک واضح گروہ ایران کےسیاسی مسئلےمیں اس سیاسی کھیل کوختم نہيں کرناچاہتااورہربارایران کےایٹمی پروگرام کوخطرناک ظاہرکرنےکےلئےنئےبہانےکی تلاش میں ہے۔

اس عمل نےایک بارپھراس حقیقت کی تصدیق کردی ہےکہ انھیں ایران کےایٹمی پروگرام پرتشویش نہيں ہے بلکہ ان کی اصلی تشویش ایک آئیڈیل کی حیثیت سےایران کےموثرہونے پرہے۔.......

/169