ابنا: بحرینی عوام آل خلیفہ کی شاہی حکومت کے ساتھ ہر طرح کے مذاکرات کو مسترد کرتے ہوۓ اس حکومت کی سرنگونی کا مطالبہ کررہے ہیں۔
آل خلیفہ کی شاہی حکومت نے عوام کے جائز حقوق کا دائرہ محدود کرنے کے لۓ مظاہرین کے خلاف تشدد آمیز اقدامات میں شدت پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ملت بحرین پر سیاسی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
بحرینی حکام ملت بحرین پر سیاسی دباؤ میں شدت پیدا کر کے نام نہاد قومی مذاکرات کے دوران انقلابیوں پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں۔ بحرین کی حکومت نے ایسی حالت میں انقلابیوں کے ساتھ مذاکرات کی بات کی ہے کہ جب وہ بدستور ان کے سیاسی ، سماجی اور ثقافتی مطالبات کو نظر انداز کررہی ہے۔
اور ملت بحرین کو سختی کے ساتھ کچلنے میں مصروف ہے۔ اور خوف و ہراس اور دھمکی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
بحرینی عوام بھی آل خلیفہ کی شاہی حکومت کے حملوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوۓ روزانہ اس ملک کے مختلف علاقوں میں مظاہرے کرتے ہیں۔
بحرینی عوام نے اسی سلسلے میں اتوار کے دن صلاح عباس کے چہلم کی مناسبت سے جلوس نکالا اور آل خلیفہ کی ڈکٹیٹرشپ کے خلاف نعرے لگاۓ۔ مظاہرین نے آل سعود کے خلاف بھی نعرے لگاۓ۔
بحرین کے سترہ و الدیر جزیرے میں واقع مہزہ علاقے کے باشندوں نے بھی کل آل خلیفہ کی حکومت کے خلاف مظاہرے کۓ۔ مظاہرین نے سیاسی قیدیوں کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔
انھوں نے بحرین کی حکومت کے خلاف نعرے لگاتے ہوۓ بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسی آل خلیفہ کی سرنگونی پر بھی تاکید کی ۔
بحرین کے کرانہ علاقے کے عوام بھی کل سڑکوں پر نکل آۓ اور انھوں نے ٹائر جلا کر راستے بلاک کر دیۓ۔
بحرین کے حالات سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ حکرمت بحرین کی تشدد آمیز کارروائیوں کے باوجود اس ملک میں انقلابی تحریک مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔
تمام قرائن سے پتہ چلتا ہے کہ بحرین میں بنیادی تبدیلیاں یقینی ہیں اور عوامی تحریک کو روکنے کے لۓ جو اقدامات بھی انجام دیۓ گۓ ہیں وہ سب کے سب ناکام ہوچکے ہیں۔
اور بحرینی عوام کی انقلابی تحریک ایک نۓ مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ اور آل خلیفہ کی شاہی حکومت کی جانب روا رکھے جانے والا تشدد بھی بحرینی عوام کے عزم میں لغزش پیدا نہیں کر سکا ہے۔
بحرین کے حالات اپنے اندر دنیا کے لۓ یہ پیغام رکھتے ہیں کہ بحرین عوام کی انقلابی تحریک آل خلیفہ کی سرنگونی ، بحرین پر قبضہ کرنےکی سعودی عرب کی سازش کی ناکامی اور یورپی ممالک خصوصا امریکہ سے بحرین کی وابستگی کے خاتمے تک جاری رہے گی۔ .......
/169