1 جون 2012 - 19:30

سید حسن نصراللہ نے لبنانی شہریوں کو اغوا کرنے والے دہشت گردوں سے مخاطب ہوکر کہا: اگر تمہارا مسئلہ میری ذات یا حزب اللہ کے ساتھ ہے یا اگر تمہارا مسئلہ حزب اللہ اور امل کے ساتھ ہے تو اس کو حل کرنے کے لئے متعدد راستے موجود ہیں، اگر امن چاہتے ہو تو امن اور اگر جنگ چاہتے ہو تو جنگ کے لئے تیار ہيں؛ بےگناہوں کو کیوں اسیر کرتے ہو؟

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل اور اسلامی مزاحمت تحریک کے راہنما سید حسن نصر اللہ نے مرکزی بیروت میں یونسکو پیلس میں منعقدہ امام خمینی رحمۃاللہ علیہ کی تئیسویں برسی کی مجلس سے خطاب کیا جس کے اہم ترین نکات درج ذيل ہیں:ــ  امام خمینی رحمۃاللہ علیہ کی برسی کا موقع ہے لیکن میں اس سلسلے میں بات کرنے اور امام عزیز کو خراج عقیدت پیش کرنے سے پہلے چھ جون کو صہیونی ریاست کے حملے (جنگ نکسہ) کی طرف اشارہ کرنا چاہوں گا اور میں تاکید کرتا ہوں کہ اسرائیل کی غاصب صہیونی ریاست کے ساتھ ہماری جنگ کا خاتمہ نہيں ہوا ہے کیونکہ فلسطین پر بدستور صہیونیوں کا قبضہ ہے اور ہزاروں شہید مقبروں میں دفن ہوئے ہیں۔ ــ فلسطینی شہداء کی لاشوں کی واپسی کے مناظر دشمن کی درندگی کا ثبوت ہے جس نے شہیدوں کی لاشوں تک کو اپنی قید میں رکھا ہوا ہے۔ ــ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ عظیم فقیہ، گرانقدر فلاسفر، تخلیق کا عارف و مفکر ہیں جو بہت سی ذاتی خصوصیات کے حامل ہیں اور آپ کے وجود میں ایسی خصوصوت ہیں جو آپ نے امت کی تاریخ میں آنے والی نسلوں کے لئے چھوڑ رکھی ہیں۔ــ امام رحمۃاللہ علیہ ایک عوامی راہنما تھے جنہوں نے انقلاب کا اکیلے آغاز کیا اور لوگوں کو بیداری اور آگہی کی دعوت دی اور بعد ميں آپ کے شاگردوں اور طالبعلموں نے آپ کا ساتھ دیا۔ آپ نے اس عظیم کام کے انجام ـ خطرات، گرفتاری اور قید و بند، پھانسی کی سزا، جلاوطنی اور بیٹے کی شہادت ـ کو دل و جان سے قبول کیا اور علاقے میں امریکی پولیس مین یعنی شاہ کی طاغوتی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور ایران میں اسلامی جموری نظام کی بنیاد رکھی۔ ــ ہمارا شام کے سلسلے میں اپنا ایک موقف ہے اور ہم سب کو شام کی قومی یکجہتی کے تحفظ کی دعوت دیتے ہيں اور شام کے ہر شہری کی مانند ہمیں بھی شام کے حالات کی وجہ سے دکھ پہنچتا ہے۔ ــ ہم پرامن لبنان کے خواہاں ہیں جس میں عوام امن و سکون کے ساتھ زندگی بسر کریں اور اس ملک کے بحران حل ہوں۔ ہم ایک مقتدر حکومت کے خواہاں ہیں اور اپنی اس رائے پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم سب کو اس ادراک تک پہنچنا چاہئے کہ لبنان تقسیم یا وفاق میں بدلنے (Federalization) کا متحمل نہيں ہوسکتا، بلکہ لبنانی عوام کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ اس ملک میں مقتدر اور مفید و فعال حکومت قائم ہو۔ ـــ ہم ہر مسئلے میں یہی کہتے ہیں کہ "فوج، قوم اور تحریک مزاحمت"۔ جب ہم گفتگو کی میز پر حاضر ہوتے ہیں تو ہمیں مسائل کا حل ڈھونڈنا چاہئے اور مشکلات کے اسباب اور ہمارے راستے کی رکاوٹوں کا سراغ لگانا چاہئے یہ وہی امام موسی صدر کا نظریہ ہے اور ہم اس نظریئے کے پابند ہیں۔ــ میں گفتگو اور مذاکرات کے لئے ایک تجویز پیش کرتا ہوں اور انشاء اللہ کوئی اس کا بائیکاٹ نہيں کرے گا؛ ایک سنجیدہ گفتگو اور مذاکرہ جس میں ہم مسائل کے اسباب کا جائزہ لیں اور ایک حقیقی حکومت کو قائم کریں: لبنان میں ایک قومی مذاکرات کانگریس یا قومی مؤسسین کانگریس منعقد کی جائے؛ بالکل ان ہی کانفرنسوں کی مانند جو بعض عرب ملکوں میں منعقد کی جاتی ہیں۔ ــ ہم مؤسسین کانگریس کو مذہبی گروہوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ معاشرے کے مختلف طبقوں کی بنیاد پر تشکیل دے سکتے ہیں اور ہر طبقے کے تناسب سے اس کے مندوبین کا تعین کرسکتے ہیں اور اس کانگریس کو چھ مہینوں یا ایک سال کا وقت دے سکتے ہیں تا کہ اس کے نمائندے مل بیٹھ کر تمام راستوں اور متبادلات کا جائزہ لیں۔ــ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو ایسی حکومت کی بات کررہے ہیں جو میثاق طائف کا نفاذ کرے اور ایک نئی سماجی نظم  (Social Order) تک پہنچنے کے لئے یا سیاسی فرقہ واریت اور مکمل علمانیت (Secularism) کے خاتمے کے خواہاں ہيں لیکن اگر ایک معینہ اور جانی پہنچانی کانگریس موجود ہو تو وہ حکومت کی شکل و صورت کے تعین کا جائزہ لے گی اور اس کے بعد ہم سینکڑوں برسوں تک اسی صورت میں باقی رہ سکتے ہیں۔  چنانچہ میں لبنان کے صدر مملکت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ "مذاکرات کی میز کی بجائے ایک "قومی کانفرنس" یا حتی "مؤسسین کانگریس" گفتگو کے لئے تاسیس کریں اور تمام لبنانیوں سے چاہتا ہوں کہ ملک کو صحیح سمت میں آگے کی جانب لے جانے کے لئے کوشش کریں۔ ــ میں ضروری سمجھتا ہوں کہ صیدا شہر کے اہل سنت کے قاضی شرع جناب استاد شيخ احمد الزين" کا شکریہ ادا کروں جنھوں نے تحریک مزاحمت کی حمایت کی اور میری نسبت محبت آمیز موقف اپنایا۔

ــ ذرائع ابلاغ اور سیاسی دھڑے لبنان کے مسائل کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہے ہیںــ ملکی مسائل حل کرنا حکومت کا کام ہے لیکن بعض سیاسی دھڑے اور ذرائع ابلاغ ان مسائل کو بڑھا چڑھا پر پیش کرتے ہیں؛ مثال کے طور پر جب کہا جاتا ہے کہ فلاں علاقے میں سلامتی کا مسئلہ پیش آیا ہے اور ہم سب کو سلامتی کے تحفظ میں کردار ادا کرنا چاہئے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اندرونی امن اور کے قیام کے لئے سلامتی ثقافتی، تعلیمی، تربیتی، سیاسی، اور ابلاغی و تشہیری اقدامات نیز عدلیہ کے اہتمام کی ضرورت ہے اور سیکورٹی کے اقدامات مکمل امن کے قیام کی ان تمام کاروائیوں کی تکمیل کے لئے ہوتے ہیں اور جس فریق کے پاس سیکورٹی اقدامات کے کے اوزار دستیاب ہیں اس کا نام حکومت ہے اور صرف حکومت کو ہی یہ ذمہ داری نبھانی ہوتی ہے۔ ــ مثال کے طور پر لبنان میں ہر جماعت اور ہر تنظیم اپنی تقریبات اور اپنے راہنماؤں کی حمایت کرسکتی ہے لیکن وہ پورے معاشرے کی حمایت نہیں کرسکتی اور پورے ملک کو سیکورٹی نہيں دے سکتی اور یہ کام صرف حکومت کرسکتی کیونکہ ایک جماعت کے پاس ملک کی سلامتی کے تحفظ کے لئے درکار وسائل اور اوزار دستیاب نہيں ہوتے۔ ہم ملک میں ایک فعال حکومت کے خواہاں ہیں اور اگر جماعتیں اپنی سیکورٹی ذمہ داریاں خود سنبھالیں تو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہونگے بلکہ ملکی سلامتی غارت ہوجائے گی اور ہم خانہ جنگ اور فرقہ وارانہ اور نسلی لڑآئیوں کی طرف آگے بڑھیں گے جبکہ حکومت خانہ جنگی کا خطرہ مول لئے بغیر مسائل کو حل کرسکتی ہے۔ ــ ہر معاشرے کی فلاح اس معاشرے کے کم از کم مطالبات پر عمل درآمد اور زندگی کے کم از کم وسائل کی دستیابی سے سے عبارت ہے اور ہم کہتے ہیں کہ لبنانیوں کو درپیش معاشی مسائل و مشکلات کا حل ایک جامع عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے؛ آج کوئی بھی نہيں کہہ سکتا کہ وہ بے روزگاری کا مسئلہ حل کرسکتا ہے اور کوئی بھی ایک علاقے یا ایک مکتب و مذہب کے پیروکاروں یا ایک قبیلے اور قوم کے افراد کے معاشی مسائل کو حل نہيں کرسکتا بلکہ آج ہمیں تمام علاقوں کی معیشت کا مسئلہ درپیش ہے اور حکومت اپنی قوم کے اقتصادی مسائل کو حل کرسکتی ہے اور جماعت بھی بعض خدمات فراہم کرسکتی ہے تا ہم معاشی مسائل کا جامع حال حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ــ ہم شام میں دہشت گرد ٹولوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے لبنانی شہریوں کے سلسلے میں، ابتدائی لمحے ہی سے، سیاسی عمل اور کوشش کے پابند ہيں اور یرغمالیوں کے خاندانوں کو صبر و سکون کی دعوت دیتے ہیں۔ اغوا ہونے والے لبنانی شہری ہیں؛ چنانچہ اغوا کنند‏گان کا فریق ثانی لبنانی حکومت ہے چنانچہ یہ حکومت لبنان کی ذمہ داری ہے کہ یرغمالیوں کو وطن لوٹا دے اور حکومت کو ہی اس مسئلے کی پیروی کرنی چاہئے۔ چنانچہ میں یرغمال بننے والے لبنانی باشندوں کے اہل خانہ کے صبر و تحمل اور احساس ذمہ داری کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور ان سے اپیل کرتا ہوں کہ حکومت کو مہلت دیں تا کہ اس موضوع کی پیروی کرے اور کسی نتیجے تک پہنچے۔ ہم سب اس سلسلے میں حکومت کا ساتھ دیں گے۔ــ ہم جاری صورت حال کے حوالے سے اپنا ایک خاص موقف اور تصور رکھتے ہيں اور یہ ہمارا حق ہے۔ ہم اللہ تعالی کی بارگاہ میں التجا کرتے ہيں کہ یہ بے گناہ یرغمالی صحیح و سالم وطن لوٹ کر آئيں اور ہمیں صبر اور حکمت عطا فرمائے۔ ــ میں آخر میں اغوا کنندگان سے کہتا ہوں کہ: تم نے کہا کہ کسی بھی فرقے اور مذہب کے ساتھ تمہارا کوئی اختلاف نہيں ہے پس ضروری ہے کہ اس بات کو ثابت کرکے دکھاؤ اور ان زائرین کو ان کے خاندانوں کی آغوش میں لوٹا دو۔ ــ لبنانی باشندوں کو یرغمال بنانے والوں کو میرا دوسرا پیغام یہ ہے کہ اگر تمہارا میری ذات کے ساتھ کوئی جھگڑا ہے یا اگر تمہارا مسئلہ حزب اللہ کے ساتھ ہے، یا اگر تمہارا مسئلہ حزب اللہ اور امل کے ساتھ ہے تو اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے متعدد راستے ہیں؛ اگر تم امن اور صلح چاہتے ہو تو ہم بھی مان لیتے ہیں اور اگر جنگ چاہتے ہو تم بھی جنگ کے لئے تیار ہیں۔ لیکن تم بےگناہوں کو کیوں اسیر بناتے ہو؟!، یہ ایک ظلم ہے جس کو ختم ہونا چاہئے۔

.........

/110