31 مئی 2012 - 19:30

ايران کي پارليمان مجلس شورائے اسلامي کےاسپيکرنے شام ميں جمہوري اصلاحات کي حمايت کا اعلان کيا ہے۔

ابنا: پارليمان کے کھلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسپيکر علي لاريجاني کا کہنا تھا کہ ايران شامي عوام کے حقوق کي بالادستي کے لئے کي جانے والي جمہوري اصلاحات کي حمايت کرتاہے۔انہوں نے کہا کہ شام کے بارے ميں امريکہ اور بعض مغربي ملکوں کے حکام کے بيانات  اور اقدامات ميں وحشي پن کا مشاہدہ کيا جارہا ہے۔اسپيکر علي لاريجاني نے کا کہ امريکہ اور مغربي ممالک شام ميں نيا بحران کھڑا کرنے کي کوشش کر رہے ہيں۔

اسلامي جمہوريہ ايران کے اسپيکر نے واضح کيا کہ شام اور ليبيا کے حالات ميں بڑا فرق ہے اور اگر شام کو تقسيم کرنے کي کوشش کي گئي تو اسکا اثر فلسطين پر بھي پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ  شام ميں بھڑکائي جانے والي آگ کے شعلے يقينا اسرائيل تک بھي پہنچيں گے۔

ڈاکٹر علي لاريجاني نے يہ بات زور ديکر کہي کہ مغربي ملکوں کو اچھي طرح سمجھ لينا چاہيے کہ وہ کتنا خطرناک کھيل کھيل رہے ہيں۔انہوں نے استفسار کيا کہ مغربي ممالک اور خاص طور اسے امريکہ شام ميں اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھانے کي اجازت کيوں نہيں دے رہے  ہيں۔

اسپيکر  نے مزيد کہا کہ ايراني پارليمان شام ميں دہشتگردي، اس ملک کے اندروني معاملات ميں ديگر ملکوں کي مداخلت اور امريکي حکام کے غير دانشمندانہ اور جنگ پسندانہ بيانات کي سختي  کے ساتھ مذمت کرتي ہے۔انہوں نے متنبہ کيا کہ شام کے خلاف نئي محاذ آرائي کا آغاز ہوسکتا ہے کہ آسان ہو ليکن اس کا انجام  خطرنات ثابت ہوگا۔.......

/169