ابنا: عراق کی قومی سلامتی کے سابق مشیر موفق الربیعی نے حال ہی میں کہا ہے کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی کے بعض عناصر مختلف بہانوں اور آڑ میں عراق میں داخل ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے لوگ جو سول اداروں یا مختلف سروسز کمپنیوں کے ملازمین کے روپ میں اب تک عراق آئے ہیں ان میں سے اکثریت کے پاس امریکہ اور اسرائیل کی دہری شہریت ہے۔ موفق الربیعی نے اسی طرح اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ یہ افراد جاسوسی سرگرمیوں کے لیے عراق میں داخل ہوئے ہیں۔
علماء، سائنس دانوں، پائلٹوں، پڑھی لکھی شخصیات اور حتی ممتاز شخصیات کا قتل عراق میں موساد کے حمایت یافتہ سول اداروں کے ملازمین اور اسی قسم کے دوسرے اداروں کی سرگرمیوں کا ایک حصہ بیان کیا گیا ہے۔ بعض اعداد و شمار کے مطابق عراق پر امریکہ کے قبضے کے بعد ڈیڑھ سال کے دوران عراق میں یونیورسٹیوں کے ڈھائی سو پروفیسر قتل کر دیے گئے۔ یہ قتل و غارتگری عراق کو دانشوروں سے خالی کرنے کے لیے امریکہ اور اسرائیل کی سازش تھی۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ عراق پر امریکی قبضے نے اس ملک میں صیہونی حکومت کے داخلے کا راستہ ہموار کیا۔ اس وقت بھی صہیونی ریاست سے وابستہ دسیوں کمپنیاں عراق میں سرگرم عمل ہیں ان میں سے اکثر کمپنیوں کے نام عربی یا انگریزی ہیں تاکہ اس معاشرے میں تشویش اور حساسیت پیدا نہ ہو۔
فرانسیسی جریدے لی فیگارو نے حال ہی میں اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ عراق اور اس کے ہمسایہ ممالک میں مختلف کارروائیوں کے لیے موساد کا آپریشنل ہیڈکوارٹر شمالی عراق میں واقع تھا۔
گزشتہ برسوں کے دوران خاص طور پر عراق پر امریکی قبضے کے دوران صیہونی حکومت نے عراق میں نفوذ اور اس ملک کے سیاسی نظام کے خلاف مختلف اقدامات انجام دینے کی صلاحیت حاصل کر لی تھی۔
اس دوران عراقی کردستان کا علاقہ اپنی خاص صورت حال اور ایک مقامی حکومت کے انتظام کی وجہ سے عراق کے دوسرے علاقوں کی نسبت صیہونی حکومت کی زیادہ توجہ کا مرکز بنا۔ ایسی کمپنیوں کے دفاتر کا قیام کہ جن کے مالک اسرائیلی سرمایہ دار ہیں، اور وہ بھی عراقی کردستان کے علاقے میں عراق میں نفوذ کے لیے اسرائیل کے اقدامات کا ایک حصہ ہے۔ کردستان کے مقامی حکام نے اب تک صہیونی ریاست کے ساتھ کسی بھی قسم کے رابطے کی تردید اور نفی کی ہے لیکن مختلف شعبوں میں شرگرم دسیوں کمپنیوں کے دفاتر کی موجودگی کہ جو صیہونی حلقوں کی مالی مدد و حمایت سے چل رہی ہیں، بعض کرد گروہوں کے صیہونی حکومت کے ساتھ خصوصی رابطوں کی عکاسی کرتی ہے۔
ان تمام باتوں کے باوجود یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ عراق میں عمومی فضا اور رائے صیہونی حکومت کے خلاف ہے اور عراق میں صہیونیت مخالف جذبات بہت قوی ہیں۔ عراق کی مذہبی قیادت نے بھی بارہا اس ملک میں صہیونی ریاست کی سرگرمیوں کے بارے میں خبردار کیا ہے اور عراقی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صہیونی ریاست کے اقدامات اور سازشوں کا ہر ممکن طریقے سے مقابلہ کریں۔
ان تمام باتوں کے پیش نظر صہیونی ریاست اور موساد کی زیادہ تر سرگرمیاں جو مختلف کمپنیوں کی آڑ میں جاری ہیں، چند خاص علاقوں تک محدود ہو گئی ہیں۔ حتی اب تک صہیونی ریاست نے عراق میں عبرانی نام کی کوئی کمپنی قائم کرنے کی جرات نہیں کی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل نے بھی اس بات کو جان لیا ہے کہ وہ عراق میں صہیونی ریاست کے ساتھ رابطے کی قباحت کو ختم کرنے کے لیے اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اس سلسلے میں ناکام رہی ہے۔.......
/169