29 مئی 2012 - 19:30

وزیر اعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ کوئی پتا نہیں، عدالت عظمیٰ مجھے دوبارہ بلالے، لاپتا افراد کی تعداد دوبارہ بڑھتی جارہی ہے،مسئلہ حل کرنے کے لیے منگل کو بین الصوبائی اجلاس میں آرمی چیف کو بلایا ہے۔

ابنا: پیر کو نجی ٹی وی سے انٹرویو میں انہوں نے اعتراف کیا کہ لاپتا افراد کی تعداد دوبارہ بڑھ رہی ہے ، اس سلسلے میں منگل کو تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کا اجلاس طلب کیا ہے جس میں وفاقی اور صوبائی نمائندے بھی شرکت کریں گے ۔انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کو لوڈشیڈنگ مخالف مظاہروں میں شرکت نہ کرنے کا ’’مشورہ‘‘ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وفاقی وزرا پنجاب میں ڈاکٹرز کی ہڑتال میں شامل ہوگئے تو پھر کیا ہوگا؟ صوبوں کو کس نے منع کیا ہے کہ وہ بجلی پیدا نہ کریں؟ وزیر اعظم نے سوال کیا کہ کیا اس سے قبل کسی ایک صوبائی حکومت کو وفاق کے خلاف مظاہرے کرتے دیکھا ہے؟وزیر اعظم نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو بجلی پیدا کرنے کی اجازت ہے، کیا وزیر اعلیٰ پنجاب نے ایک میگا واٹ بھی بجلی پیدا کی ہے؟ انہوں نے کہاکہ حکومت توانائی بحران پرقابوپانے کیلئے اقدامات کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قانون و آئین فرد واحد کے لیے نہیں بنتے ،پہلے قانون سازی ہونی چاہیے پھر دہری شہریت پر پابندی لگنی چاہیے ‘آئین میں دہری شہریت پر کوئی پابندی نہیں ،پوری دنیا میں پاکستانیوں کو دہری شہریت کا حق حاصل ہے‘ میں اس کے بھی حق میں ہوں کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کاحق حاصل ہو۔انہوں نے کہا کہ اگر کل برطانیہ نے لارڈ نذیر کی دوہری شہریت منسوخ کر دی تو پھر کیا ہوگا ؟ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ناٹو رسد کی بحالی پر پاک امریکا مذاکرات جاری ہیں ‘ کسی بھی ملک کے ساتھ تعلقات صرف ایک واقعہ پر نہیں ہوتے بلکہ ٹھوس بنیادوں پرہونے چاہئیں ۔ایک سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی نے جو کچھ کیا وہ غلط ہے، اسے انصاف کا حق اور اعلیٰ عدالتوں تک رسائی بھی ملنی چاہیے۔ ایک اورسوال پر وزیراعظم نے کہا کہ میں آفس سے روم اور روم سے آفس کے علاوہ کہیں نہیں جاتا، میں نے کبھی بھی شاپنگ نہیں کی میری شاپنگ کوئی اور کرتا ہے اور ٹائیاں مجھے گفٹ میں ملتی ہیں،3 ملین کا کوٹ خریدنے کی خبر ایک لطیفہ ہے ۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری جب شکاگو کانفرنس میں شرکت کے لیے گئے تو دفاع پاکستان نے لانگ مارچ کا اعلان کردیا حالانکہ دفاع پاکستان میں شامل کچھ جماعتیں ماضی میں امریکا کی حمایتی رہی ہیں ۔علاوہ ازیں وزیراعظم ہائوس میں حکومتی اتحادی جماعت اے این پی کے وفد سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئندہ بجٹ عوام دوست ہو گا ‘بجٹ میں غریب عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے وسیع مواقع پیدا کیے جائیں گے‘ اتحادیوں کی مشاورت سے بجٹ میں اصلاحات لا کر عوام کو ریلیف فراہم کریں گے۔اس موقع پر وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے اے این پی کو آئندہ بجٹ کے حوالے سے بریفنگ دی اوربجٹ کے خدوخال اور بجٹ میں عوام کو ریلیف کیلئے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110