ابنا:عوام کے پولنگ اسٹیشنوں پر جانے کیلئے اب چوبیس گھنٹے سے بھی کم وقت بچا ہے اور مصر کی موجودہ صورت حال سے اس بات کا پتہ چلتاہے کہ عوام کی جانب سے انتخابات کا وسیع پیمانے پر خیر مقدم کیا جائیگا اور امید کی جارہی ہے کہ مصر کے صدارتی انتخابات میں عوام اسّی فیصد تک شرکت کریں گے ۔ مصر کی تمام مذہبی وسیاسی جماعتوں نے اپنے امیدوار کھڑے کئے ہیں جبکہ بیرون ملک مقیم مصریوں کے انتخابی نتائج سے اسلام پسندوں کی کامیابی کا پتہ چلتا ہے اسلئے کہ بیرون ملک مقیم مصریوں میں سب سے زیادہ ووٹ اخوان المسلمین کے امیدوار محمد مرسی نے حاصل کئے ہیں اور اب دیکھنا یہ ہے کہ صدارتی انتخابات میں آخر کار کونسا امیدوار کامیابی حاصل کرتا ہے ۔ اس رو سے کہ داخلہ اور خارجہ پالیسیوں کے اعتبار سے مصر کے صدارتی انتخابات غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں علاقائی اور مغربی ملکوں کی حکومتیں انتخابات کے عمل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور بعض حکومتوں کو انتخابات کے ممکنہ نتائج پر سخت تشویش بھی لاحق ہے ۔
بعض پریس ذرائع نے مصر کے صدارتی انتخابات میں اسلام پسندوں کی کامیابی کا مقابلہ کرنے کیلئے عرب اور مغربی ملکوں نیز صیہونی حکومت کے مشترکہ منصوبے کا انکشاف کیاہے ۔ ان ذرائع کے مطابق قطر میں مصر کے انٹلی جنس ادارے کے سربراہ مراد موفی اور امریکہ۔ برطانیہ اور صیہونی حکومت کے انٹلی جنس اداروں کے نمائندوں کے درمیان ایک اجلاس ہوا ہے جس میں مراد موفی کو انتخابات کے عمل پر مغربی ملکوں کے تسلط کیلئے حکمت عملی بھی پیش کی گئی ہے جیساکہ پتہ چلا ہے کہ اس اجلاس میں انتخابات میں اسلام پسندوں کی کامیابی کا مقابلہ کرنے کیلئے دو حکمت عملی یا منصوبے پیش کئے گئے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ انتخابات میں مصر کی سابق حکومت کے باقی بچےعناصر کے حق میں دھاندلی کی جائے اور اگر یہ حکمت عملی یا منصوبہ ناکام ہوجائے تو دوسری حکمت عملی یا منصوبہ،عرب اور مغربی ملکوں کے انٹلی جنس اداروں کی حمایت سے فوجی کودتا کرنے کے بارے میں ہے ۔ کافی عرصے قبل ہی مصر کی مختلف جماعتوں اور عوامی گروہوں خاصطور سے اسلام پسند جماعتوں نے انتخابات میں ممکنہ دھاندلی پر خبردار کیا ہے۔ اخوان المسلمین کے نامزد امیدوار محمد مرسی نے اعلان کیا ہے کہ صدارتی انتخابات میں دھاندلی کی صورت میں فوجی کونسل کو مصری عوام کے عزائم کا سامنا کرنا پڑیگا۔
اخوان المسلمین نے بھی اعلان کیا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کی صورت میں مصر میں ایک اور انقلاب شروع ہوجائیگا۔اس وقت صدارتی انتخابات کا انعقاد کرانے والے ادارے کی حیثیت سے مصر کی اعلی فوجی کونسل پر شّفاف انتخابات اور عوام کی رائے کے تحفظ کے حوالے سے بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اسلئے کہ انتخابات جس طرح سے بھی منعقد ہوں گے اس کی ذمہ دار بھی یہی فوجی کونسل ہوگی ۔ مصری عوام اپنے ملک کے صدارتی انتخابات کو ایک ایسے اہم واقعے اور ذریعے کی نظر سے دیکھہ رہے ہیں کہ جس میں وہ اپنی تمام انقلابی امنگیں تلاش کررہے ہیں اسلئے کہ مصر میں عوامی منتخب حکومت کے قیام پر مبنی مصری عوام کی خواہش ابھی پوری نہیں ہوئی ہے اور مصر کے ڈیکٹیٹر حسنی مبارک اور ان کے بیٹوں کو سزائیں بھی نہیں ملی ہیں اور ابھی انقلاب کا اصل مقصد بھی پورا نہیں ہوا ہے اور مصری عوام اپنے ملک کے ان صدارتی انتخابات کو ہی اپنے تمام سیاسی و اقتصادی مطالبات اور خواہشات کے پورا ہونے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ چنانچے مصری عوام کیلئے صدارتی انتخابات کی اہمیت کے پیش نظر اعلی فوجی کونسل کی جانب سے کسی بھی طرح کا کوئی نادرست یا مشکوک اقدام، بارود کے ڈھیر کو چنگاری دکھانے کے مترادف ہوگا خاصطور سے ایسی صورت میں کہ مصر کے عوام اپنے ملک کے حکمراں فوجیوں کی کارکردگی کو صحیح نہیںسمجھتے ۔ .......
/169