22 مئی 2012 - 19:30

رہبرانقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے روز افزون استحکام اور ملت ایران کی سربلندی کو راہ خدا میں اسکی ثابت قدمی اور استقامت کا نتیجہ قراردیا ہے۔

ابنا: رہبرانقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے آج دار الحکومت تہران میں سپاہ پاسدران انقلاب اسلامی کے اعلی فوجی تربیتی مرکز ( امام حسین کیڈت کالج) میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب میں فرمایا کہ ملت ایران ترقی و عدالت کی دہائي میں مزید ترقی اور عدل و انصاف کے قیام کے لئے سمت تیزی سے بڑھاتی رہے گي۔

آپ نے فرمایا کہ ظاہری شوروغل کے باوجود سامراج اور تسلط پسند محاذ کمزور اور مضمحل ہوتا جارہا ہے۔ رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ملت ایران اپنے مستقبل کے تعلق سے پرامید ہے کیونکہ اس کا مستقبل تابناک دکھائي دے رہا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ایران کی کے غیور جوانوں پر زور دیا کہ ملت ایران کی ترقی کے عمل کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھیں تا کہ مسلم امہ ترقی سے ہمکنار ہوسکے۔ رہبرانقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ گذشتہ نسل کی مجاھدت سے سعادت کی منزلوں کی راہ ہموار ہوئي ہے تاہم راستے کا ہموار ہونا سختیوں اور زحمتوں کے فقدان کے معنی میں نہیں ہے بلکہ اس راستے کو جاری رکھنے کےلئے بدستور پائداری اور استقامت لازمی۔ رہبرانقلاب اسلامی نے بیعت الھی پرقائم رہنے میں مسلح افواج کی استقامت کو سراہتے ہوئے فرمایا کہ دفاع مقدس کے دوران مسلح افواج نے گرانقدر خدمات انجام دی ہیں جس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ آج کی اس تقریب کے آغاز میں جو خرمشہر کی صدامی افواج کے قبضے سے آزادی کی 30 ویں سالگرہ کی مناسبت سے انجام پائی رہبر انقلاب اسلامی نے شہدا کی قبور پر حاضری دی اور فاتحہ پڑی۔ خرمشہر ایران کے جنوبی صوبے خوزستان کا ایک ساحلی شہر ہے جہاں اروند اور کارون نامی ایران کے دو معروف دریا ملتے ہیں۔ اس شہر کی مساحت 23 مربع کلو میٹر ہے اور خلیج فارس سے اس کی مجاورت اور عراق کی ہمسائیگی اس ساحلی شہر کی نمایاں خصوصیت ہے۔ 83 برس قبل اس ساحلی شہر پر ایک جیٹی کی تعمیر کے بعد پہلا بحری جہاز لنگر انداز ہوا۔ عراق میں بعث پارٹی کی حکومت خصوصا صدام کے اقتدار میں آنے کے بعد عرب آبادی والے اس شہر کو ایران سے علیحدہ کرنے کا خواب دیکھا جانے لگا تاہم چونکہ اس وقت ایران کی پشت پر امریکہ کھڑا تھا لہذا جارحیت کے باوجود عراق کو اپنے مقصد میں کامیابی نہیں ملی بلکہ عراق ایران کی شاہی حکومت کے ساتھ سمجھوتا کرنے پر مجبور ہوگیا۔ 1975 میں الجزائر کی وساطت سے طے پانے والے اس سمجھوتے کو معاہدہ الجزائر کے نام سے شہرت حاصل ہوئی۔ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی اور ملت ایران کے امریکی وابستگی سے چھٹکارا پانے کے بعد صدام کو ایک بار پھر خبط سوار ہوا اور اس نے امریکہ کی جانب سے گرین سگنل ملنے بعد ایران پر چڑھائی کردی۔34 روز تک ایران کے جوانوں اورعام شہریوں نے صدام کی بعثی حکومت کے فوجیوں کا جوجدیدترین اسلحوں سے لیس تھے مقابلہ کیا، شہر کا چپہ چپہ ایرانی مدافعین کے خون سے رنگین ہوگیا اوریوں یہ شہر جواستقامت وپائمردی کی علامت بن چکا تھا بالاخرصدامیوں کے قبضے میں چلاگیا اوراس کے ہمسایہ شہرآبادان کو عراقی فوجیوں نے اپنے محاصرے میں لے لیا۔

صدام کو جسے امریکہ اور دیگر یورپی ملکوں کے ساتھ ساتھ اس وقت کی دوسری بڑی طاقت یعنی سوین یونین کی بھی حمایت حاصل تھی، انتہائی متکبرانہ لہجے میں کہتا تھا کہ اگرایرانیوں نے خرمشہرواپس لے لیا توہم بصرہ شہر کی کنجی خود ایرانیوں کوپیش کردیں گے۔ صدام اوراس کے حامیوں کواس بات کا پختہ یقین تھا کہ جتنی جنگی طاقت اورمشینری ان کے پاس ہے اس کے پیش نظرایرانی جانبازکبھی بھی خرمشہرواپس نہيں لے سکتے اوراسی بناپروہ خرمشہرکوایران کے دروازے کے طورپراستعمال کرکے ایران کے ديگرشہروں پربھی قبضے اورنتیجے میں اسلامی انقلاب اوراسلامی نظام کے خاتمہ اورنابودی کا بھی خواب دیکھ رہے تھے۔ لیکن ڈیڑھ سال کے قبضے کے بعد جب 24مئی 1982 کو ایرانی ریڈیو سے یہ اعلان نشر ہوا کہ خرمشہر آزاد ہوگیا ہے تو نہ صرف صدام کو سانپ سونگھ گیا بلکہ اس علاقائی اور عالمی اتحادی بھی سکتے میں آگئے۔

کئی دن تک مغربی میڈیا خصوصا بی بی سی اور وائس آف امریکہ عراق کے فوجی بیان پڑھتے رہے کہ خرم شہر پر بدستور عراق کا قبضہ ہے اور بعض مقامات سے عراقی فوجیوں نے جنگی حکمت عملی کے تحت پسپائی اختیار کی ہے۔ اس قسم کے جھوٹے اور بے بنیاد دعوے اس لئے کئے جا رہے تھے کہ شائد عراقی افواج پھر سے ایرانی جوانوں کو پیچھے دھکیل دیں اور خرمشہر پر پھر سے ان کا قبضہ بحال ہوجائے۔ لیکن حقیقت وہی تھی جو ایرنی ریڈیو کہہ رہا تھا کہ خرمشہر آزاد ہوگیا ہے یہی نہیں بلکہ 19 ہزار عراقی جارح فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتارے جانے علاوہ تقریبا 35 ہزار فوجیوں کو قیدی بنالیا گیا اور یہ کسی معجزے کم نہیں تھا۔ اسی لئے بانی انقلاب اسلامی امام خمینی رہ نے نے خرمشہر کی آزادی کی منااسبت سے اپنے ایک بیان فرمایا کہ کہ خرمشہر کواللہ نے آزاد کرایا ہے اورخرمشہر کی فتح اسلامی اورانسانی اقدارکی فتح ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ایران کے جوانوں نے ڈیڑھ برس تک انتہائي استقامت وپائمردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اما خمینی کی قیادت اپنے کمانڈروں کی شاندارحکمت عملی کی بدولت عصرحاضرکا وہ بے مثال دفا‏عی اوررزمیہ کارنامہ رقم کیا کہ دوست تودوست دشمن بھی یہ کہنے اوراعتراف کرنے پرمجبورہوگئے کہ خرمشہرکوجس طرح سے ایرانی جوانوں نے آزادکرایا ہے اس نے روایتی جنگی حکمت عملی اوراندازوں پرخط بطلان کھینچ دیا ہے ۔

جانبازان اسلام کی اس شاندارکامیابی کی عظمت کااندازہ لگانے کے لئے یہی جاننا کافی ہے کہ جارح عراقی فوج خرمشہرکی آزادی کے لئے لڑی جانے والی جنگ سے پہلے اپنے فوجیوں کویہ باورکرانے کی کوشش کررہی تھی کہ خرمشہرپر قبضہ، بصرہ اور بغداد سمیت تمام عراقی شہروں کے دفاع کے مترادف ہے، اسی لئے جیسے بھی ہوخرمشہر کو ہاتھ سے نک لنے نہ دیا جائے۔ اس وقت کے سپاہ پاسداران انقلاب اسلمی کے کمانڈر ریٹائرڈ میجر جنرل محسن رضائی نے گذشتہ روز ہونی والی ایک تقریب میں اپنے خطاب کے دوران ایران پر حملوں کی دھمکیوں کو پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیت المقدس فوجی آپریشن کے نام سے خرمشہر کی آزادی کے لئے ایران کے مومن جیالوں کی فداکاری اورجنگی کاروائی، جودنیا بھرکی جنگی کاروائیوں میں اپنا منفردمقام رکھتی ہے، اس کے پیش نظر دشمن ایران پر حملہ کرنے کی جرات نہیں رکھتا۔ ........

/169