20 مئی 2012 - 19:30

امريکا کے شکاگو شہر ميں نيٹو کے سربراہي اجلاس کے پہلے دن ميزائيل ڈيفنس شيلڈ اور افغانستان کے مسئلے ميں پائے جانے والے اختلافات سامنے آئے ہيں-

ابنا: افغانستان کے مسئلے ميں امريکا کے صدر باراک اوباما اور فرانس کے نئے صدر فرانسوا اولينڈ کے بيانات کو خاص اہميت حاصل رہي اور بعض مبصرين نے اسے امريکا اور فرانس کے درميان پہلے ٹکراؤ سے تعبير کيا ہے-اس نشست ميں اولينڈ نے زور دے کر کہا کہ فرانسيسي فوجي دو ہزار بارہ کے آخر تک افغانستان سے باہر نکل جائيں گے اور دو ہزار تيرہ ميں صرف وہ فرانسيسي افغانستان ميں باقي رہيں گے جو افغان فوج کو ٹريننگ ديں گے-     اس کے مقابلے ميں باراک اوباما نے کہا کہ نيٹو کے فوجي دو ہزار چودہ ميں افغانستان سے باہر نکليں گے- برطانيہ کے وزير دفاع وليم ہيگ نے بھي امريکي موقف کي تائيد کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے غير ملکي افواج کے انخلا کے بارے ميں نيٹو کے اجلاس ميں فيصلہ کيا جائے گا اور دو ہزار چودہ کے بعد ہي افغان فوج اس ملک کي سيکورٹي کي ذمہ داري سنبھالے گي- نيٹو کے سيکريٹري جنرل اينڈرس فوگ راسموسن نے اس اجلاس ميں فرانس کے موقف پر نکتہ چيني کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے انخلا کے بارے ميں جلدبازي سے کام نہيں لينا چاہيے- انہوں نے کہا کہ حکومتوں کو افغانستان کے سلسلے ميں اپنے وعدوں پر مقررہ وقت تک کاربند رہنا چاہيے-   افغانستان سے انخلا کے بارے ميں اختلافات ميں ايسے عالم ميں اضافہ ہو رہا ہے کہ جب نيٹو کي يہ نشست، دو ہزار چودہ ميں افغانستان سے نيٹو کے انخلا کے بعد اس تنظيم کي ذمہ داريوں کے بارے ميں منعقد ہوئي ہے تاہم اولينڈ کے واضح بيان کے سبب نشست کا پہلا دن ايجنڈے کے مطابق آگے نہيں بڑھ سکا-کل ملا کر نيٹو کي نشست ميں بھي، ديگر سياسي و سيکورٹي اجلاسوں کي مانند، بڑي طاقتوں کے مفادات کے ٹکراؤ کے سبب رکن ممالک کے درميان بڑے پيمانے پر اختلافات سامنے آئے ہيں-......./169