19 مئی 2012 - 19:30

عرب تجزیہ نگار عبدالباری العطوان نے علاقے میں آل سعود کی حکومت کی ناگفتہ بہ حالت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "بحرین اور سعودی عرب کے اتحاد کا منصوبہ ناکام ہوچکا ہے اور یہ منصوبہ کامیاب نہيں ہوسکے گا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عرب تجزیہ نگار و قلمکار عبدالباری العطوان نے روزنامہ القدس العربی کے اداریئے میں خلیج فارس کی عرب ریاستوں کے اتحاد کے سعودی منصوبے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے سعودی عرب کی اندرونی صورت حال کا جائزہ لیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے: خلیج فارس تعاون کونسل کے قیام کے 30 سال پورے ہورہے ہیں لیکن اس کے چہرے پر بڑھاپے کے آثار نمایاں ہوچکے ہیں، آج تک سعودی عرب اس کونسل پر مسلط رہا تھا لیکن اب بعض ریاستوں نے آل سعود کی نافرمانی کی پالیسی اپنائی ہے اور یوں یہ کونسل رفتہ رفتہ تحلیل ہونے کی طرف جارہی ہے۔ العطوان نے آل سعود اور خلیج فارس تعاون کونسل کی ناکامی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ آل سعود گذشتہ تین برسوں کے دوران تین منصوبے کونسل کے اجلاسوں میں پیش کئے ہیں لیکن تینوں منصوبے رکن ریاستوں کی مخالفت کی وجہ سے ناکام ہوچکے ہیں:1۔ پہلا سعودی منصوبہ یہ تھا کہ خلیج فارس تعاون کونسل کی مشترکہ کرنسی متعارف کرائی جائے لیکن عمان اور امارات نے اس منصوبے کی مخالفت کردی۔ امارات مرکزی بینک کے مرکز کے جدہ میں دائمی قیام کے خلاف تھا جبکہ کویت کا موقف مبہم رہا۔ 2۔ سعودیوں نے دوسری تجويز یہ پیش کی تھی کہ اردن اور مراکش کو بھی خلیج فارس تعاون کونسل کی رکنیت دی جائے [تاکہ کنگز کلب کے قیام کا ابتدائی مرحلہ مکمل ہوسکے] لیکن تعاون کونسل کے کسی بھی رکن نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا یہ تجویز منظور نہ ہونے کی بنا پر مراکش اور اردن کو ان کے شہریوں کو پیش آنے والی بدامنی کی بنا پر تقریبا 5 ارب ڈالر تاوان کے طور پر ادا کئے گئے۔ 3۔  آل سعود کی تیسری ناکام تجویز یہ تھی کہ انھوں نے اچانک اور بغیر کسی تمہید کے تعاون کونسل کو اتحاد میں تبدیل کرنے کی تجویز پیش کی اور حتی کہ کہا گیا کہ اس تجویز پر عمل درآمد کے ابتدائی مرحلے میں بحرین کے ساتھ سعودی اتحاد کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا لیکن یہ تجویز بھی عمان، کویت اور متحدہ عرب امارات کی سنجیدہ مخالفت کا سامنا کر بیٹھی اور ان ریاستوں نے اس تجویز کی مخالفت کا جواز پیش کرنے کے لئے کہا کہ "اس تجویز کا ہمہ جہت جائزہ لینے کی ضرورت ہے"؛ بہرحال سعودیوں کی یہ تیسری اہم تجویز بھی ناکام ہوگئی۔ العطوان لکھتے ہیں: سعودی عرب کو صرف خلیج فارس کی ریاستوں میں ہی ناکامیوں کا سامنا نہيں کرنا پڑا بلکہ عرب دنیا میں بھی اس کو انحطاط اور پسپائی کا سامنا ہے اور عراق اور شام جیسے اہم عرب ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات کی خرابی عروج پر ہے۔ العطوان نے لکھتے ہیں کہ ریاض پر الزام ہے کہ وہ شام میں بدامنی کی حمایت کررہا ہے اور شام کے صدر بشار الاسد نے رشیا ٹوڈے کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے شام میں جمہوریت کے حوالے سے سعودی عرب کی تجاویزکا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ انہیں سعودیوں کی جمہوری تجاویز کی کوئی ضرورت نہيں ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب شام میں دہشت گرد ٹولوں کی اعلانیہ مدد و حمایت کرتا ہے۔ اور شام کے صدر نے رشیا ٹو ڈے کے نامہ نگار کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ "کیا سعودی عرب اور قطر کی مطلق العنان حکومتیں انہیں جمہوریت کا سبق سکھائیں گی؟"۔العطوان لکھتے ہیں: مصر کے ساتھ بھی سعودی عرب کے تعلقات بہت نازک صورت حال سے گذر رہے ہیں کیونکہ مصری عوام کی اکثریت کا خیال ہے کہ سعودی عرب حسنی مبارک آمریت کا حامی رہا ہے اور اب بھی حسنی مبارک کے باقیات کی حمایت کررہا ہے۔ ادھر تیونس کے ساتھ سعودیوں کے تعلقات بھی اسی طرح خراب ہیں کیونکہ آل سعود نے سابق ڈکٹیٹر زین عابدین بن علی کی حمایت کی اور انقلاب کی کامیابی کے بعد ان کو سیاسی پناہ دی۔ العطوان مزید لکھتے ہیں: آل سعود کے تعلقات یمنیوں کے ساتھ بھی ناگفتہ بہ ہیں اور یمنی عوام کا کہنا ہے کہ آل سعود نے آخری لمحے تک یمنی عوام کے قتل عام کے حوالے سے علی عبداللہ صالح کی حمایت کی ہے۔یاد رہے کہ آل سعود اب بھی یمن میں مداخلت کررہے ہيں جبکہ یمنی عوام موجودہ حکومت کو بھی آل سعود کے حکام اور امریکی گٹھ جوڑ کا نتیجہ سمجھتے ہيں اور شمالی یمن کے عوام کا کہنا ہے کہ آل سعود القاعدہ کی موجودگی کا بہانہ بنا کر انہیں تنگ کررہے ہيں جبکہ القاعدہ آل سعود کی ہی خفیہ فوج کا کردار ادا کررہی ہے۔ سوڈان اور الجزائر کے ساتھ بھی آل سعود کے تعلقات مثبت نہیں ہیں۔العطوان لکھتے ہیں کہ آل سعود کو سب سے زيادہ تشویش اس بات سے ہے کہ علاقے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے اثر و رسوخ میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے اس کو عراق، بحرین، شام اور لبنان میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے تشویش لاحق ہے اور آل سعود کی یہ تشویش بحرین میں عوام کی جمہوریت پسندی کی لہر کے بعد اور بھی شدت اختیار کرگئی ہے۔ العطوان کے بقول: آل سعود کو معلوم ہوچکا ہے کہ بحرین پر مسلط حکمران خاندان حقیقی خطرات سے دوچار ہے اور اس صورت حال سے نکلنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ بحرین اور سعودی عرب کے درمیان اتحاد قائم کیا جائے تا کہ سعودی حکمران آل خلیفہ کے مخالفین کو کچل سکے۔ آل سعود نے ایسے حال میں بحرین کے ساتھ اتحاد کا نعرہ اٹھایا ہے کہ اس سے قبل اس نے مصر اور شام کے اتحاد اور قومی دھڑوں کے اتحاد کی مخالفت کی تھی۔ واضح رہے آل سعود نے ایک ہزار فوجی اعلانیہ طور پر بحرین میں داخل کئے تھے لیکن اس وقت 10 ہزار سے زائد سعودی فوجی بحرین میں تعینات ہیں اور ہر روز بحرینیوں کو کچلنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن بحرینی عوام کا انقلاب روز بروز طاقتور ہورہا ہے اور آل سعود اور آل خلیفہ نیز دیگر خلیجی ریاستوں کی تمام تر کوششیں جواب دے گئی ہيں اب یہ نہیں معلوم کہ اتحاد کی صورت میں اس قوم پر سعودی حکومت کیونکر قابو پاسکے گی جو اتحاد کی وجہ سے بپھر کر مزید عزم و ہمت کے ساتھ ایک جارح حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوگی؟۔ العطوان کے مطابق تعاون کونسل کی ریاستوں کے درمیان اتحاد کے اعلان کے لئے ابتداء میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مہم کے لئے بنیادی شرائط فراہم کی جائیں اور اتحاد کے اعلان کے لئے جمہوریت، آزادی، آزاد سیاسی سرگرمیوں اور عوام کے درمیان مساوات جیسی بنیادیں موجود ہوں جبکہ بحرین اور علاقے کی دوسری ریاستوں میں ان میں سے کوئی بھی بنیاد موجود نہیں ہے۔العطوان نے لکھا: بے شک بحرین کا حتی ایک شہری بھی سعودی عرب کے ساتھ اپنے ملک کے الحاق سے اتفاق کرنے کے لئے تیار نہيں ہے کیونکہ سعودی عرب میں حتی عورتوں کو گاڑی چلانے تک کی اجازت نہیں ہے اور سعودی عوام ابتدائی ترین آزادیوں سے بھی محروم ہیں اور وہاں حتی کہ پارلیمانی انتخابات اور سیاسی جماعتوں یا پرامن جلسے جلوسوں تک کی اجازت نہیں ہے۔ العطوان نے اپنے اداریئے کے آخر میں لکھا ہے کہ ریاض میں منعقدہ تعاون کونسل کے حالیہ اجلاس میں عمان کے سلطان قابوس اور امارات کے شیخ خلیفہ بن زائد موجود نہيں تھے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عمان اور امارات اور سعودی عرب میں اختلافات کی خلیج کتنی وسیع ہوچکی ہے اور ان ریاستوں کے کونسل کی رکن دوسری ریاستو‎ں کے ساتھ بھی تعلقات قابل ذکرنہیں ہیں۔

.......

/110