ابنا: محمد کرمی راد نے صحافیوں سے گفتگو میں بغداد میں ایران اور پانچ جمع ایک کے مذاکرات کے بارے میں کہا کہ مغرب نے استنبول مذاکرات میں بغیر کسی پیشگي شرط کے شرکت کی اور اس کے بعد یورپی یونین میں خارجہ پالیسی کمیشن کی سربراہ محترمہ کیتھرین ایشٹن نے ان مذاکرات کو مفید اور مثبت قرار دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ایران پر زور زبردستی اور دباؤ کی پالیسیاں بے سود ہیں اور اگر مغرب آگے کی طرف قدم بڑھانا چاہتا ہے تو اسے سیاسی مسائل اور غیر قانونی شکوک وشبہات سے دور رہ کر بغداد مذاکرات میں شرکت کرنا ہوگي۔ انہوں نے کہا کہ مغرب کو استنبول مذاکرات سے سبق لینا چاہیے اور اگر مغرب دھمکیوں اور پابندیوں کی منطق سے بغداد مذاکرات میں شرکت کرے گا تو یہ مذاکرات بھی ناکام ہوجائيں گے کیونکہ ایران اپنے ایٹمی حقوق سے کسی بھی قیمت پر دستبردار نہیں ہوگا۔
محمد کرمی راد نے کہا کہ سفارتی آداب سے ہٹ کر بیان بازی ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے تعاون کو نقصان پہنچائے گي بنابرین مغربی حکام کو اپنا موقف بیان کرتے وقت احتیاط سے کام لینا چاہیے۔....... /169