ابنا: حال میں دو افراد کو اھل سنت کے عالم دین جنگ زہی کے قتل کے شبہہ میں گرفتار کیا گيا تھا جنہوں نے اعتراف کیا ہے کہ سعودی عرب کے وہابی حلقوں نے مولوی جنگ زہی کے قتل کے لئے پانچ لاکھ ڈالر کی رقم دی تھی۔ مولوی جنگ زہی صوبہ سیستان و بلوچستان کے شہر راسک کے امام جمعہ تھے۔ ان کو دہشت گردوں نے بیس جنوری کو فائرنگ کر کے شہید کر دیا تھا۔ مولوی جنگ زہی اس علاقے میں بڑۓ فعال عالم دین تھے اور انہوں نے عام انتخابات کے زمانے میں عوام کو دشمن کی چالوں سے آگاہ کرنے میں بڑی جدوجہد کی تھی۔ شہید جنگ زہی اھل سنت اور شیعہ مسلمانوں کے درمیاں اتحاد و یکجہتی کے علم بردار تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ سیتستان و بلوچستان میں شیعہ سنی اتحاد رہبرانقلاب اسلامی کی پیروی کرتے ہوئے ہی ممکن ہوسکتا ہے۔ بتایا جاتا ہےکہ مولوی جنگ زہی کے قتل کا مقصد سنی برادری کو پارلیمانی انتخابات میں شرکت کرنے سے روکنا تھا۔مولوی جنگ زہی نے بارہا آل سعود اور آل خلیفہ کی مجرمانہ کارروائيوں سے بھی پردہ اٹھایا تھا۔ گيارہ اپریل کو ایران کی انٹیلیجنس نے اعلان کیا تھا کہ مولوی جنگ زہی کے قتل کیس کے سلسلے میں پندرہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا گيا ہے۔ انٹیلیجنس کے ذرائع کے مطابق ایم کے او دہشت گرد گروہ نے اس سازش کا پلان بنایا تھا اور انتہا پسند وہابی عناصر نے اس پر عمل درآمد کیا اور بعض علاقائي ممالک نے اس کے لئے پیسہ فراہم کیا۔....... /169