14 مئی 2012 - 19:30

امریکہ اوریورپ کےاکثرممالک میں سرمایہ دارانہ نظام کےخلاف مظاہروں کاسلسلہ اپنےعروج پرہے ۔

ابنا: بلجیئم، اٹلی ، برطانیہ ، اسپین اوردوسرےبہت سےملکوں کے عوام جوسرکاری مراعات کم کرنےکی پالیسی سےتنگ آچکےہيں، احتجاجی مظاہرہ کرکےمغرب کےسرمایہ دارانہ نظام میں معاشی اورسماجی نابرابری کامقابلہ کرنےکامطالبہ کررہےہيں۔اسپین کےعوام نے سنیچراور اتوارکےدن کو یوم غضب قراردیا اورملک گیراحتجاج کیا۔اسپین کےعوام نے اپنےمظاہروں کےدوران اعلان کیاکہ سرمایہ دارانہ نظام اب اپنی افادیت کھوچکاہے اوریہ قوانین تبدیل ہونےچاہئے۔مظاہرین نےاعلان کیاہے کہ وہ تین دنوں تک اپنادھرناجاری رکھیں گے۔بلجیئم میں بھی سرمایہ دارانہ نظام تحریک کی سالگرہ کی مناسبت سے احتجاجی مظاہرےہوئےآرٹی بی ایف کی رپورٹ کےمطابق مخالفین نے غیرمنصفانہ سیاسی اورمالی نظام پراحتجاج کرتےہوئےکہ جواس ملک میں اقتصادی بحران پیداہونےکاسبب بناہے بریسلزمیں مظاہرےکئے۔

آرٹی بی ایف ، ٹی وی چینل کی رپورٹ کےمطابق مظاہرین نے بلجئم کےنیشنل بینک اورمالی اداروں کےسامنےدھرنادیا۔اٹلی ، ائیرلینڈ، جارجیا، اورہنگری میں بھی اسی جیسےمظاہرےہوئے۔

امریکہ میں شیکاگوپرقبضہ کرونامی تحریک نےاعلان کیاہےکہ وہ بیس مئی میں شیکاگومیں نیٹوکےسربراہی اجلاس کےموقع پر بھی مظاہرےکرےگی۔ستمبردوہزارگیارہ سےاب تک ہزاروں امریکی وال اسٹریٹ پرقبضہ کرو تحریک کےعنوان سےمسلسل مظاہرہ کرکے امریکہ میں سرمایہ دارانہ نظام کےخلاف اور دولت کی منصفانہ تقسیم کامطالبہ کررہے ہیں۔

بےروزگاری، دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم اورقوت خرید میں کمی اورسب سےبڑہ کرسرکاری معیارات میں کمی کی پالیسی جس پراس وقت یورپی یونین عمل پیرا ہے، عوامی زندگی کوسخت مشکلات سےدوچارکردیاہے۔

امریکہ اوریورپ میں مسلسل مظاہروں سےپتہ چلتاہےکہ یورپ میں بڑی کمپنیوں اوراونچی سطح پربڑھتی ہوئي بدعنوانی نیزغربت وافلاس کےخلاف احتجاج بڑھتاجارہاہے۔

احتجاجی مظاہرین جن کےبارےمیں کہاجاتاہےکہ عرب ممالک میں جاری انقلابی تحریکوں سےمتاثرہیں مغرب میں سرمایہ دارانہ نظام میں بنیادی تبدیلیوں کےخواہاں ہيں کیونکہ سرمایہ دارانہ نظام صرف معاشرےکےایک چھوٹےسےحصے کےمالدارہونےاور معاشرےکےایک بڑےطبقےکےمفادات کونظراندازکئےجانےپرمنتج ہواہے۔

.......

/169