14 مئی 2012 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر احمدی نژاد نے غاصب صہیونی ریاست کی غیر منطقی اور عقل سے عاری پالیسی اور اقدامات کو انسانی معاشروں کی بھلائی اور سکون کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔

ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے جو ایران کے تاریخی اہمیت کے حامل شہر سبزوار میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کر رہے تھے کہا ہے کہ غاصب صہیونی ریاست کی جاہلانہ روش بد امنی کا باعث اور قوموں کی کامیابی کی راہ میں حائل ہے ۔

صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے خطے کی عوام بالخصوص ملت فلسطین کی سامراج مخالف استقامت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا غاصب صہیونی ریاست کے خلاف استقامت کو بہت جلد کامیابی نصیب ہو گی۔

ملت ایران کی جانب سے غاصب صہیونی ریاست کے مقابلے میں استقامتی تحریکوں کی کامیابی پر بار بار تاکید اور اصرار کو صہیونی حلقوں میں ہمیشہ تشویش کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور اس قسم کے بیانات کو علاقے میں موجود صہیونی ریاست حامی عرب اور اسلامی ممالک بھی نہایت زیادہ پسند کی نگاہ سے نہیں دیکھتے اس لئے کہ ان کی خاندانی اور مورثی حکومتوں کی بقا کی شرط ہی صہیونی ریاست کا تحفظ ہے۔

دوسری جانب مغرب ممالک بھی صہیونی ریاست کی نابود کو اپنے مفادات پر کاری ضرب تصور کرتے ہیں اس لئے کہ مغربی دنیا کی جڑیں عیسائی ہوتے ہوئے بھی یہودیت سے ملی ہوئی ہیں اور اگر مغربی تہذیب و تمدن سے یہودیت کو حذف کر دیا جائے اور اسرائیل نابود ہو جائے تو ان کے مفادات بھی خطرے میں پڑ جائیں گے۔

یہ لندن کے اخبار "ٹائمز" میں چھپنے والے اسپین کے سابق وزیراعظم خوزے ماریا ازنار کے مقالے کا ایک حصہ ہے جس میں انہوں نے دو بنیادی نکات بیان کئے ہیں۔ اول یہ کہ اسرائیل نابودی کی طرف گامزن ہے اور دوم یہ کہ اسرائیل کی نابودی مشرق وسطی میں مغربی تسلط کے خاتمے کے مترادف ہے۔

کچھ عرصہ قبل اسرائیل کی نابودی کے بارے میں بات کرنا ایک قسم کی خام خیالی اور محض تصور سمجھا جاتا تھا لیکن آج اسرائیل اور اس کے مغربی اتحادی روایتی حامی شدید خوف کا شکار ہو چکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خوزے ماریا ازنار خود بھی اسرائیل کے مستقبل کے بارے میں زیادہ پر امید نہیں ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ صہیونی ریاست ابھی تک اپنی بقا کی کوششوں کے مرحلے سے عبور نہیں کر پائی ہے جبکہ اس کی پہلی نسل مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے اور دوسری نسل بھی اپنی زندگی کا آخری عشرہ گزار رہی ہے۔

اگراسٹریٹجک اعتبار سے دیکھا جائے تو اسرائیل کا کمزور ہونا مشرق وسطی میں مغرب کے اقتدار کی کمزوری کی علامت ہے۔ اردن یونیورسٹی کے ایک ممتاز پروفیسر ڈاکٹر عبدالمہدی عبداللہ کا کہنا ہے کہ مغرب خصوصا امریکہ نے اسرائیل کو وجود بخشا ہے جو اس وقت ان کیلئے خطے کی نگرانی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اسرائیل اور مغربی ممالک کی سیاسی حلقوں، خاص طور پر غزہ میں 33 روزہ جنگ میں اسرائیل کی شکست کے بعد ایک نیا تصور سامنے آیا ہے جس کا ایک نمونہ خوزے ماریا ازنار کے مذکورہ بیانات ہیں کہ جن کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ چونکہ مغرب، مشرق وسطی میں اسرائیل کی بلا دستی چاہتا ہے لہذا اسکی شکست بھی مغرب کی پالسیوں کے لئے ایک بڑی شکست ثابت ہو سکتی ہے اور اسی وجہ سے امریکی حکام انتہائی توجہ کے ساتھ اسرائیل اور فلسطین میں رونما ہونے والے واقعات کا جائزہ لیتے ہیں۔

اسرائیل کے دو بدنام زمانہ جاسوس اداروں یعنی شاباک اور موساد کی جانب سے سامنے آنے والی ایک مشترکہ رپورٹ، تل ابیب میں بڑھتی ہوئی بحرانی صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ایسے وقت جب اسرائیل کی اندرونی صورتحال ایک نئی جنگ کیلئے بالکل مناسب نہیں ہے ہم دیکھتے ہیں کہ شمالی سرحدوں پر حزب اللہ روز بروز طاقتور ہوتی جا رہی ہے، مشرقی سرحدوں پر غرب اردن روز بروز عدم استحکام کا شکار ہو رہا ہے اور غزہ کے باشندے شدت کے ساتھ محاصرے کو ختم کرنے کیلئے کوشاں ہیں"۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر صورتحال اسی طرح رہی تو ہمارے پڑوسی یعنی اردن اور مصر بھی اینٹی اسرائیل گروپ سے جا ملیں گے اور اس صورت میں ہماری شمالی، جنوبی اور مشرقی سرحدیں عدم استحکام سے دوچار ہو جائیں گی۔

صہیونی ریاست کے خفیہ اداروں کے اندازوں کے عین مطابق مصر اسرائیل کو تحفظ فراہم کرنے والے ملکوں کے جرگے سے نکل کر اینٹی اسرائیل محاذ کا فعال رکن بن گیا ہے اور اردن جیسے ملکوں میں بھی تبدیلی لانے کے لئے عوام سڑکوں پر ہیں۔ اسرائیل کی بقا کے ساتھ مشرق وسطی میں مغرب کی پوزیشن اور رابطے کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ مشرق وسطی میں مغربی ممالک کی سیاست کو مربوط کرنے میں اسرائیل کے کردار کو سمجھا جائے۔ اگر اسرائیل نہ ہو تو مغربی ممالک مجبور ہوں گے مشرق وسطی میں موجود تمام ممالک سے رابطہ رکھیں۔

ہر یورپی ملک ایک یا کئی اعتبار سے دوجانبہ رابطے پر زور دے گا جسکے نتیجے میں آپس میں اختلافات اور تنازعات پیش آئیں گے۔ جب اسرائیل مشرق وسطی میں مغرب کاگڑھ بنا ہوا ہے تو مقبوضہ فلسطین کی سرزمین مغرب کیلئے مشرق وسطی میں داخل ہونے کیلئے مشترکہ دروازے کی حیثیت رکھتی ہے اور انکی پالیسیوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے۔

دوسرے الفاظ میں صہیونی ریاست مشرق وسطی میں مغربی ممالک کی پالیسیوں کو ہم آہنگ کرنے کا کام کرتی ہے۔ چنانچہ اگر صہیونی ریاست ختم ہوجاتی ہے تو نتیجے کے طور پر مغرب مشرق وسطی میں داخل ہونے کا راستہ کھو دے گا اور ایسے حالات میں مشرق وسطی کے اہم ممالک منجملہ ایران اس خطے میں بنیادی کردار کے مالک بن جائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ علاقائی اعتبار سے سیاسی، سیکورٹی، اقتصادی اور ثقافتی امور بین الاقوامی ضابطے کے پابند ہوجائیں گے اور فوجی طاقت اور دھونس کی بجائے باہمی تعاون کو اہمیت حاصل ہوگی۔ .......

/169